شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن خان نے بحیثیت غزل و مخر مغنی اس قدر شہرت و تعر یف حاصل کی ہے جس کا مشاہدہ ہلکی کلاسیکی موسیقی کی دنیا میں بہت کم لوگوں نے کیا ہے۔ لیکن انکے سب سے زیادہ صفات خدا پر غیر متزلزل ایمان اور یقیناََ آپکے فن کے لئے گہرا احترام ہے جس کی وجہ سے آپ کو اعزاز ،شہرت و تعریف ملی۔آپ بلا شبہ دورِحاضر کے معروف وہر دلعزیز غزل مغنیوں میں سے ایک ہیں۔
یہ وہ فنکار ہیں جنہوں نے ہلکی کلاسیکی موسیقی میں ایسے بلند و بالا معیارا ت قائم کئے ہیں اور اسی معیار کے مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے نئے غزل مغنی انہیں اپنی روش ، اپنا نصب العین اور اپنی زندگی ایک معیار مقرر کر تے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
مہدی حسن نے کبھی باقاعدہ موسیقی کی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ آپ موروثی موسیقاروں کی ۱۶ ویں نسل سے ہیں جن کا نسب ’’ درباری استادوں کا حامل ہے جو ’اندور ‘ پٹنہ ‘ چھتر پور کے کئی مہاراجاؤں کے دربا ر وں میں تجربہ کار اداکارتھے اور آپ کا ہلکی موسیقی کا ایک قدیم ادارہ ہے اور مہدی حسن اسی خاندان کے قرۃ العین، چشم چراغ ہیں۔
آپ عمر کی آٹھ سال سے ہی اپنے والد استاد عظیم خان صاحب جو اس وقت کے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے ایک غیر معمولی ماہر ،اپنی قابلیت کی وجہ سے جئے پور کے مہاراجہ کی خدمت میں تھے ان اسے اور انکے چچا استاد اسماعیل خان صاحب سے تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے ہی مہدی حسن کو اوائل عمر ی سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دی۔
اپنے والد کی ماہرانہ تربیت کے تحت مہدی حسن نے کم عمری ہی میں دھروپد، خیال، ٹھمری،اور دادرا‘ سمیت دیگر مخر ( (VOCAL موسیقی کے مخت انداز میں مہا رت حاصل کی اپنی عوامی محفلی کارگردگی کا مظاہرہ صرف آ ٹھ سال کی عمر میں بڑودہ کے مہاراجہ کے دربار میں پیش کیا ۔
مہدی حسن نے اپنے پیشہ ور زندگی کا آغاز کلاسیکی موسیقی کے ریڈیو نشریاتی فنکار کے طور پرکیا اور بعد میں غزل گائیکی طرف مائل ہوئے۔آپ کی مخملی آواز ،پُرسکون ، طلسماتی ،مقناطیسی پُر کشش و روح پرور آواز نے ناظرین کو اپنی طرف راغب رکھا اور سامعین کو ایک آسمانی جہاز میں منتقل کردیا۔آپ غزل کے انتخاب ،لغت کے درست لہجے کے اظہار میں محتاط ہیں۔
تاریخ گواہ ہے استاد مہدی حسن کے اب تلک تقریباََ ۲۵ ہزار سے زاید ریکارڈز موجود ہیں۔معروف غزل مغنی مہدی حسن نے مستقیل معروف شعرا ء کے بہترین کلام کا انتخاب کیا، خود غزل کی گہرائی تک پہنچتے اور اسے اپنی سُریلی مخملی آواز ، مشکل ترین طرز اور اپنے بہترین انوکھے انداز میں پیش کرتے کہ سامعین جھوم اُٹھتے ،یہی وجہ تھی کہ آپ چشمِ زدن میںبین الاقوامی پذیرائی حاصل کی اور اُردو غزل کو اعلیٰ مقام عطا کیا ،غزل کو اپنی غیر معمول شناخت اور پہچان دی ، اور غزل کوبے مثال ،باکمال کردیا۔
مہدی حسن جن کا نام ’ مہدی حسن خان ‘ہے ،۱۸ جولائی ۱۹۲۷ء کو برطانوی ہندوستان کے راجستھان کی شیخاوتی علاقہ کے ایک گاؤں لونا ‘ نزد منڈاوا میں روایتی موسیقاروں کے خاندان میں پیدا ہوئے۔۱۹۳۵ ء میں آپ نے اپنی کم سینی میں انتہائی با صلاحیت موسیقار اپنے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر جنہوں مہدی حسن کی صلاحیتوں کو نکھارا ، آپ کی حوصلہ افزا ئی کی ، بذاتِ خود اپنی رہبری میں ’ دھرپد‘ اور’ خیال ‘میں پہلاکنسرٹ غیر منقسم پنجاب کے قریب فاضلکہ بنگلہ میں منعقد کیا اور مہدی حسن کو مستقبل کی روشن ، کامیاب راہوں پر دوڑایا اور وقت کے ساتھ ساتھ خود مہدی حسن مخر موسیقی اور غزل گائیکی میں اپنی برق رفتار ی کا مظاہرہ کیا۔
۱۹۴۷ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد منقسم پاکستان میں ۱۹ سالہ مہدی اپنے تباہ حال خاندان کے ساتھ مغربی پنجاب ایک گاؤں چیچہ وطنی پا کستان ہجرت کر گئے۔اس خاندان کے افراد اپنی پھوپی کے گھر بس گئے جو چیچہ وطنی کے قریب ایک گاؤں ،چک نمبر R/7/111 میں رہتی تھیں۔
آپ اورآپکے متعلقین کو اس نئے ملک میں شدید مالی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی غربت کے دور میں غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ضرور تھے لیکن بے بس و لاچار نہیں ، محنت و مشقت کو اپنا مقدر مان لیا اور بڑی لگن سے مہدی نے ابتدائی طور پر ایک سائیکل کی دکان ’مغل سائیکل ہاؤس‘ میں اور بعد میں وہ موٹر کار اور ڈیزیل ٹریکٹر مکینک بن گئے۔
۱۹۴۸ء میں اپنی مالی حالات کے باعث مہدی نے بطور ٹھمری گلوکار ریڈیو پاکستان کے لئے اپنی قسمت آزمائی کی ۔۱۹۵۷ء میں مہدی حسن کی امید بر آئی ، انہیں ریڈیو پاکستان کی نشریاتی پروگرام میں اپنے کلاسیکی گائیکی کا موقعہ ملا۔ بنیادی طور پر ٹھمری مخر گلوکار نے ملک کی موسیقی برادر ی کو اپنی ایک الگ شناخت دے دی۔
آپ کواردو شاعری کا جنون تو تھا ہی،آپ نے جزوی طور چنندہ منتخب غزلوں کوگا کرکر طبع آزمائی شروع کی اور اپنے فن ،بہترین مخملی ، بلند ، پہاڑی بھاری آواز کے جوہر کور ریڈیوافسران کا حوالہ کر دیا۔اسی جدو جہد میںبخاری اور رفیق انور بطور غزل مغنی مہدی حسن کی ترقی میں اضافی اثرات کے طور پر انکی ترقی کا باعث بنے۔
۱۹۵۹ء فلم’’ شکار ‘‘ کے لئے نغمہ ’’ نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچہ نہ ہو جائے ‘‘ یزدانی جالندھر کے لکھے اس نغمہ کو اصغر علی حسن نے موسیقی سے ترتیب دیا اور ریڈیو پاکستان سے مہدی حسن کا سب سے اوّل فلمی نغمہ‘ نشر ہوا۔ ۱۹۶۴ء میں فلم ’’ فرنگی‘‘ کا مشہور زمانہ نغمہ معروف انقلابی شاعر جناب فیض احمد فیض کا لکھا ،رشید عطرے کی موسیقی سے سنور ا ذیل نغمہ۔۔۔
۰۰۰ گلوں میں رنگ بھرے ، باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
یہ نغمہ مہدی حسن کی زندگی کا سنگ میل ثابت ہوا ،پاکستانی فلمی صنعت میں ایک اہم پیش رفت فراہم کی اور اس کے بعد کے آپ نے کبھی پیچھے مڑ کو نہیں دیکھا۔ مہدی اور فیض احمد فیضؔ ؔدونوں کی شایان شان ، باہمی ملنساری اور عظمت کا یہ حال رہا کہ فیض احمد فیض اپنے مشاعروں میں اپنی غزلیں سنانی ہی بند کردیں اور سامعین سے پُر خلوص التجا کرت کہ’’ آپ مہدی حسن سے میر ی غزلیں سنئے ‘‘کبھی کبھار تو فیض ’ ؔ مذاق میں اپنی غزلوں کو ’مہدی حسن کی غزلوں‘ سے مخاطب کرتے۔اس کے بعد غزلوں کے فتح کا سفر کا آغاز ہوا،احمد فراز کی لکھی
۰۰۰ رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
محفل میں جب آپ اس غزل کے ابتدائی تین الفاظ ہی کا آغاز کرتے تو سامعین میں خوشی و مسرت کا یوں ابال آتا کہ کئی وقفہ ان غزل شائقین کی تالیاں ہی گونجتی رہتیں اور سارا ماحول جیسے موسیقی اور غزل سے سحر انگیزہو جاتا۔آپ کی،فتح اور کامیابی کایہی سلسلہ جاری رہا۔آپ اب بین الاقومی غزل مغنی کی متعدد محفلیں دنیا کے ہر مشہور اور میٹرو شہر وں آراستہ ہوتیں اور کامیاب بھی ہوتیں۔اپنے کامیابی کے عروج پر لندن کے رائلالبرٹ حال میں منعقدہ ایک شاندار محفل میں مغلیہ دور کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی غزل۰۰
۰۰۰ بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
۱۹۷۰ء کے اوئل میں مہدی حسن نے میر تقی میر کی لافانی غزل ’’ دیکھ تو دل و جاں سے اٹھتا ہے‘‘مخر موسیقی زیبائش سے تمام سامعین کو مسحور وفتریفتہ کیا۔
۰۰۰ دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
کنگ سائز سگریٹ کے روزانہ استعمال کے باوجودآپ کی آواز جوں کی توں قائم رہی ، مخملی ، اسکی مٹھاس برقرار ہی ۔آپ خیال گائیکی سے مُرکیاں اور مخصوص قسم کی مختصر تانوں کو بہ آسانی مامعین کے کانوں میں رس گھولتے،وہ تمام اس سے بے حد محظوظ ہوتے اور اپنی آنکھیں بند کئے موسیقی اور راگ کے فردوسی ماحول میںمسرور و شاداں رہتے ۔گر آپکی آواز ،سُر تال اور لئے کاری کا مطالعہ کیا جائے تو مہدی حسن نامی رجحان کو توقف کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آپ آغاز ہی سے وہ بخوبی واقف تھے کہ آپ کی آواز ہلکی موسیقی مطلب ٹھمری ،دادار اورغزل ٹھمری، دادرا اور غزل ان مباشرت محفلوں کے لئے موزوں ہے اور انہوں نے تال (ّبیٹ) اور لئے (ٹیمپو) کی اپنی فطری گرفت پر قابو رکھا اور اسے غزل کی محفلوں میں بخوبی آزمایا اور استعمال کیااور اپنے سامعین کے دلوں پر قابض رہے۔آپ کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ آپ نے بیگم اختر کے ساتھ مل کر گا ئیکی کا ایسا انداز، وضع کی تخلیق کی جو ان سے پہلے موجود نہیں تھا۔
۲۰ ویں صدی سے قبل غزل بطور گیت،نغمہ ہماری ثقافت کا حصہ نہیں تھا۔یہ شاعری کے اصول کا حصہ تھاجسے محفلوں میں جلسوں میں ،مشاعروں میں پڑھا جاتا ہے لیکن گایا نہیں جاتا تھا۔ان دونوں معروف غزل مغنیوں کی کلاسیکی تربیت نے اردو غزل کے عظیم شاعروں کے کلام کو موسیقی سے سنوارا سجایا اور غزل اب موسیقی کے لباس میں آراستہ ہوئی ،اسکا رعب ، اسکے وقار کو سامعین نے سرآنکھوں لیا۔
۱۹۷۷ء میں معروف مغنی لتا منگیشکر نئی دہلی میں ایک کنسرٹ کے دوران مہدی حسن کی مخملی اور سریلی آواز اس قدر متاثر ہوئیں اور یک لخت انہوں نے کہہ دیا’’ مہدی حسن کی مخملی منفرد آواز ،یہ خدا کی دین ہے۔ ‘‘ لتا جی او ر استاد مہدی حسن کی پہلی ملاقات تقریباََ ۴۰ سال قبل کینڈا میں ہوئی ۔لتاجی انکی ملاقات کے لئے براہ راست کنگسٹن سے اوٹاوا پہنچیں جہاں مہدی صاحب کی ایک عظیم و شان محفل جاری تھی ۔لتا جی جب ہال میں داخل ہوئیں تو مہدی صاحب نے
لتا جی کے احترام میں جاری اپنی محفل کو روک دیااور خود اپنے تمام موسیقاروں ساتھ کھڑے ہوکر ا نکا دلی استقبال کیا۔لتا جی بے حد متاثر ہوئیں اور سمجھ گئیں کہ یہی ایک باوقار عظیم فنکار کی پہچان ہے۔لتا منگیشکر اور مہدی حسن کو ’’ سرحدیں ‘‘ اس البم کے لئے ایک ساتھ گانے کا موقعہ ملا ۔اس نغمہ کو’’ فرحت شہزاد ‘‘ نے لکھا تھا اور خود مہدی نے اسے موسیقی سے سنوارا تھا ۔
۰۰۰ تیرا ملنا بہت اچھا لگے ہے
مجھے تو میرے دکھ جیسا لگے ہے
دونوں کو ایک ساتھ اس نغمہ کو ریکارڈ کرنا تھا۔ سانحہ یوں ہوا کہ صحت کی خرابی کی وجہ سے مہدی صاحب ممبئی نہ آسکے اور لتا جی پاکستان نہ جا سکیں۔ ۲۰۰۹ ء میں مہدی حسن اس نغمہ کو پاکستان میں ریکارڈ کیا اور لتاجی نے ۲۰۱۰ء میں اس ٹریک کو سُنا اور ہندوستان میں اسے ریکارڈ کیا۔
مہد ی حسن ایک حقیقی نشاۃ ثانیہ، فنون لطیفہ کی احیا ء تھے۔ شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی میراث کی کچھ غزلوں کو ان کی روح پرور آواز نے انہیں لافانی کردیا ،فہرست تو کافی طویل ہے مضمون کی طوالت کے مناسبت سے ایک دو غزل پیش ہیں اور مضمون کے ساتھ ساتھ آپکی مشہور زمانہ غزلوں کا ذکر آچکا ہے۔
۰۰۰ اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
۰۰۰ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
صدرمحمد ایوب خان نے ’’ تمغۂ امتیاز ‘‘ ۔ ۱۹۷۹ء میںحکومت ہند نے ’’ کے ایل سیگل سنگیت شہنشاہ ‘‘ ایوارڈ ۔ ۱۹۸۵ء میں صدر ضیا ء الحق نے ’’ حسنِ کارگردگی ‘‘ اعزاز ۔جولائی ۲۰۰۱ ء میں سر براہ فوج جنرل پرویز مشرف نے ’’ ہلال امتیاز اور ’’نشانِ امتیاز ‘‘ اعزازات ۔استادمہدی خان ان تمام سول اعزازات سے نوزے گئے ۔ علاوہ از ایں ۲۰۰۱ میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی سینٹر سمیت متعدد اعزازات سے نوازے گئے۔حکومت نیپال نے ۱۹۸۳ء میں’’ گوررکھا، دکشینۂ باہو‘‘ ایوارڈ ‘‘۔
’’گوگل ‘‘ نے ۱۸ ،جولائی ۲۰۱۹ ء کو استاد مہدی حسن کو ان کی ۹۱ ویں سالگرہ کے سنہرے موقعہ پر خصوصی ’’ڈوڈل ‘‘ جاری کیا اور اس عظیم فنکار کو خراج تحسین پیش کی جو ایک ناقابل فراموش اعزاز ہے جو ہر سال آپکی برسی کے موقعہ پر گوگل پر ناظرین اس کا مشاہدہ کریں گے۔
لیکن مہدی حسن کو ان تمام اعزات کی مناسبت سے آپ کی بے پناہ مقبولیت تھی، جو آپ کو غزل و نغمہ شائقین اور عوام کے دربار سے عطا ہوئی۔ان کی مقبولیت ہندوستا ن ،پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک کے لاکھوں شائقین جو اردو زبان سے واقف ہیں ان میں آپکی کی پزیرائی ہوتی رہی۔
غزلوں کے علاوہ مہدی حسن فلمی دنیا کے بے حد مقبول مغنی تھے فلم کے لئے جو پہلا نغمہ گایا وہ فلم ’’ شکار ‘‘ کے لئے تھا ،یزدانی جالندھری کے لکھے نغمہ کو موسیقار اصغر علی نے ترتیب دیا۔ مہدی حسن کو ملک کے ان فخریہ متعدد ’’نگار ‘‘ فلمی اعزازات حاصل ہیں ان میں سے کچھ ذیل میں درج ہیں ۔
’’ فرنگی(۱۹۶۴ء) ۔ ۰۰۰ صائقہ (۱۹۶۸ء ) ۔ ۰۰۰ ز رقا (۱۹۶۹ء) ۔ ۰ ۰۰ میری زندگی ہے نغمہ (۱۹۷۲ء) ۔ ۰۰۰ نیا راستہ (۱۹۷۳ء) ۔۰۰۰ شرافت (۱۹۷۴ء) ۔ ۰۰۰ زینت (۱۹۷۵ء) ۔ ۰۰۰ شبانہ (۱۹۷۶ء) ۔ ۰۰۰ آئینہ (۹۷۷اء)
بڑھتی عمر اور لاتعلق صحت نے آپ کو وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ گائیکی کی اپنی تال ،لہجہ اور انداز کو تبدیل کرنا پڑا اور یہی وقت کا تقاضہ تھا۔ غزل کی رفتار، سانسوں پر قابو رکھتے ہوئے لیکن غزل گائیکی پر مکمل مہارت اور ادائیگی کے ذریعے انہوں ثابت کر دکھایا کہ وہ عظیم فنکار ہیں۔اس کامیابی میں ان کے سازندوں کا باہمی تعاون انمول ہے ۔استاد ،پیر بخش اور استاد تاری خان صاحب بطور ‘طبلچی ۔ استاد محمد حسین صاحب لئے کا ری ، سُر تال اور لیء کاری میں آپ کا ساتھ دیتے ۔
مہدی حسن کے سب سے پہلے شاگرد ’’ پرویز مہدی‘‘تھے جنہوں نے کافی شہرت حاصل کی ،پرویز مہدی‘ نے اپنی تمام عمر اپنے استاد کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے ۔دیگرشاگرودں میں چند مخصوص غزل مغنی ۰۰۰ ہری ہرن ۔ ۰۰۰ طلعت عزیز ۔ ۰۰۰راج کمار رضوی ۔ ۰۰۰ غلام عبّاس ۔ ۰۰۰ سلامت علی ۔ ۰۰۰ سویتا ا ہوجہ ۔ ۰۰۰ شہناز بیگم ۔ ۰۰۰ یاسمین مشتاری ۔ ۰۰۰ سعد بن جیض اور ۰۰۰ ا رشاد علی مہدی وغیرہ شامل ہیں۔
مہدی حسن نے دو شادیاں کیں اورآپ کے ۹ فرزند اور ۵ دختران تمام کا حسب نسب جاری رہا ۔ فرزندوں کو اپنی وراثت میں موسیقی کی سوغات حاصل تھی سو انہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موسیقی میں اپنے وقار کو بر قرار رکھا۔۱۔طارق مہدی حسن، بطور بہمھی(versatile) ،ہمہ گیر فلمی گلوکار ۔ ۲۔ عارف مہدی حسن کلاسیقی طبلچی ۔ ۳۔عاصف مہدی حسن ، فلمی گلوکار اور غزل مغنی ۴۔ کامران مہدی حسن فلمی اور غزل مغنی
۵۔ عمران مہدی حسن ( کلاسیکی طبلچی اور غزل مغنی ۶۔فیضان مہدی حسن غزل مغنی ۱۹۸۰ء میں شدید علالت کے بعد مہدی حسن نے فلموں میں گانے سے اور بعد ازاں بیماری کی شدت کے باعث موسیقی سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرلی۔آپ
اپنی موت سے چند برس قبل پھیپھڑوں کی سنگین پیماریوی میں مبتلا رہے۔۲۰۰۰ء کے آخرمیں انہیں پہلا فالج کا دورہ پڑا ۔۲۰۰۵ ء میں انہیں آیوردیک علاج کے لئے ہندوستان لے جایا گیا۔
علاج کے فوراََ بعد انہیں فالج کا دوسرا دورا پڑا ۔ طویل علالت اور بیحد ناتوانی کی حالت میں ۸۴ سالہ مہدی حسن آغا خان یونیورسٹی اسپتالداخل ہوئے لیکن متعدد اعضاء کی ناکامی کے باعث چند روز بعد،یعنی کہ ۱۳ جون ۲۰۱۲ ء کی دوپہر، اپنی موسیقی ،غزلوں اور نغموں کی سوغات تا قیامت اپنے شائقین کے حوالے کیا اور جہانِ فانی سے رُخصت ہو گئے۔
پرانی یادوں سے مغلوب شہنشاہِ غزل نے اپنے راجستھان کے گاؤں کی مٹّی میں دفن ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی مند ۔ اس مناسبت سے ہندستان کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی نے راجستھان کے گاؤں ’’لونا ‘‘میں استاد کی آمد تما م سہولتیں فراہم کی تھیں ۔ لیکن طویل علالت کے بعد سفر کرنے کی قوت ان میں منفی ہوگئی تھی اس لئے منصوبہ ترک کرنا پڑا۔
مہدی حسن انکی بے مثال غزلیں اور نغموں ایک مشترکہ جذبے میں اکٹّھاکرنے کے لئے یاد رکھے جائیں گے۔ غزل کے بادشاہ مہدی حسن کو پاکستانی کہنا
یہ قطعی غلط ہوگا ۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی تقسیم ہند سے پہلے کی ہے یہ برصغیر کی روح سے نکلا ہے اور مہدی کا تعلق سے اسی مشترکہ ماضی سے ہے۔انکے اپنے خاندان کی جڑیں راجستھان کی مٹّی میں خوب گہرائی تک وسیع و طویل بکھری ہیں جو کلاسیکی موسیقی کا مصدر ہے، ماخز ہے اور منبع ہے ۔
آپکے موسیقاروں کی خاندان کی موسیقی روایتیں ، اسی سر زمین ۔اسی دھرتی کی زرخیز مٹی کی میراث ہے۔اسکی یہ محبت اسکا یہ لگاؤ جیسے نمک کے صحرا کے پار کی محبت کی طرح ہے یہی حقیقت ہے۔جہاں کہیں مہدی کی غزل محفلیں سجتیں مہدی حسن باقائدگی سے بڑی سنجیدگی سے اپنی محفل کاغاز اکثر ذیل لوک گیت سے کرتے۔۔۔
۰۰۰ کیسریا بالم آؤنی ، پدھارو، مَہارے دیش جی
پیاں پیاری را ڈھولا ،آؤنی پدھارو مُہارے دیش
ساجن ساجن میں کروں ، تو ساجن جیو جڑی
ساجن پھول گلاب رو ، سونگھوں گھڑی گھڑی
کیسریا بالم آؤنی ، پدھارو، مَہارے دیش
راجستھان کی وسعت کی مانند یہ لازوال لوک گیت ہے۔خاص طور سے مہدی حسن کی مشہور زمانہ غزل ’’ رنجش ہی سہی ‘‘ اسی وسیع راجستھان کے صحرامیں پیچھے رہ جانے والی محبوبہ کی تنہائی کو بیان کرتی ہے۔ کلاسیکی موسیقاروں کے خاندانی فنکار اس قبیلے کی سولہویں نسل کے نمائندے مہدی حسن نے دھروپد، ٹھمری کے ذریعے غزل اور اور مقبول فلمی نغموں کی طرف گامزن رہے جس نے اس فن کی پاکیزگی اوت برِ صغیر کی روح کو آخری لمحہ ، اپنی آخری سانس تک بر قرار رکھا
سورج کی روشنی کی طرح ،ہوا ؤں کی سمت کی طرح آپ نے آزاد رہنا پسند کیا ،خود ملک کی سرحدوںکی حدود کی پابندیاں سے کوسوں دوررہے اوربے شک مہدی حسن ساری کائنات کے درخشاں ستارے تھے جو صرف اپنی فن کی روشنی،اپنی قابلیت کو بین الاقومی سرحدوں میں منور ، تاباں و درخشاں کردیا ۔
معروف شاعر ’’ گلزار‘‘ صاحب نے لکھا ہے
۰۰۰ آنکھوں کو ویزہ نہیں لگتا ،
سپنوں کی سرحد ہوتی نہیں
بند آنکھوں سے روز میں
سرحد پار چلا جاتا ہوں
ملنے مہدی حسن سے
سنتا ہوں ، انکی آواز چوٹ کو لگی ہے
ا ور غزل خاموش ہے ، سامنے بیٹھی ہوئی
کانپ رہے ہیں ، ہونٹ غزل کے
پھر بھی انکی آنکھوں کا لہجہ بدلہ نہیں
جب کہتے ہیں
سوکھ گئے ہیں پھول کتابوں میں
یار فراز بھی بچھڑ گئے ہیں ،
شاید ملیں وہ خوابوں میں
بند آنکھوں سے اکثر سرحد کے
پا ر چلا جاتا ہوں
آنکھوں کو ویز ا نہیں لگتا
َ سپنوں کی کوئی سرحد نہیں !
شہنشاہ ِ غزل مہدی حسن ان عہد ساز کلاسیکی بادشاہوں میں سے ایک تھے جن کی شہرت اور ان کا نام ایک بے مثال مغنی کی حیثیت سے کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں سنہری حرفوں میں نقش و محفوظ رہے گا اور کائنات کے پورٹلز پر ہمیشہ کے لئے ثبت رہے گا ۔

۰۰۰۰۰۰


