سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

فرسٹ کلاس کرکٹ میں دائیں ہاتھ کے بہترین بلے باز اور وکٹ کیپر محمد اظہر الدین

سلام بن عثمان،کرلا ممبئی 70

22 مارچ 1994 کو کیرالا کے شہر تھا لنگارا، ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا خاندان سابق مشہور کرکٹر محمد اظہر الدین کے مداحوں میں سے ہے۔ اس لیے والدین اور گھر کے سبھی لوگوں نے محمد اظہر الدین نام رکھا۔ ان کے بڑے بھائی اور والدین کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بھی محمد اظہر الدین جیسا مشہور کرکٹر بنے اور اپنے ملک ہندوستان کا نام روشن کرے۔ محمد اظہر الدین کو بچپن ہی سے کرکٹ میں دلچسپی تھی۔

محمد اظہر الدین نے 11 سال کی عمر میں ضلع کے لیے کھیلنا شروع کیا۔ اور 15 سال کی عمر میں کیرالا کرکٹ اکیڈیمی میں شمولیت اختیار کی۔ 17 سال تک ریاستی سطح پر بہترین کرکٹ کھیل کر اپنی اپنی شناخت بنائی۔ محمد اظہر الدین کی بہترین کرکٹ اور وکٹ کیپنگ کی کارکردگی کی وجہ سے انھیں اپنے شہر اور پھر ریاستی سطح پر کھیلنے کا موقع ملا۔ محمد اظہر الدین نے مسلسل پانچ سال تک ریاستی سطح پر کیرالا کی نمائندگی کی اور بہترین کھیل کی وجہ سے انھیں تین مرتبہ بہترین بلے باز اور بہترین وکٹ کیپر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

اظہر الدین نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ 15 نومبر 2015 میں کیرالا کی جانب سے کھیلا۔ ان کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بہت جلد انھیں دسمبر 2015 میں وجے ہزارے ٹرافی کے لیے لسٹ اے میچ میں انتخاب عمل میں آیا۔ اس کے بعد جنوری 2016 میں سید مشتاق علی ٹرافی میں ٹی20 کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ محمد اظہر الدین ان پانچ کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنھیں 2018 کے وجے ہزارے ٹرافی کے تین میچوں کے لیے کسی تنازعہ پر معطل کیا گیا تھا۔ مگر محمد اظہر الدین نے اس تنازعے کا اپنے کھیل پر اثر ہونے نہیں دیا۔

انھوں نے 13 جنوری 2021 کو سید مشتاق علی ٹرافی ٹی20 میچ میں صرف 37 گیندوں پر بہترین سنچری بنائ, کیرالا کے پہلے بلے باز بن گئے۔ سید مشتاق علی ٹرافی کی دوسری تیز ترین سنچری تھی۔ اس ٹرافی میں اظہر الدین نے بلے بازی کرتے ہوئے تیسری تیز ترین سنچری بنائی اس کے پہلے شریاس آئیر اور پونیت بشر تھے۔

ٹورنامنٹ میں محمد اظہر الدین نے تیز ترین سنچری کے ساتھ صرف 54 گیندوں پر 137 رنز بنائے جس کی وجہ سے کرکٹ کے شائقین کو پھر ایک مرتبہ سابق مشہور کرکٹر کی یاد تازہ کردی۔ ان کی مسلسل بہترین کارکردگی کی وجہ سے فروری 2021 کے آئی پی ایل نیلامی میں محمد اظہر الدین کو رائل چیلنجرز بنگلور نے خریدا۔

محمد اظہر الدین نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئی پی ایل کھیلنا فکر کی بات نہیں ہے۔ ٹیم انڈیا میں شامل رہ کر اپنے ملک ہندوستان کے فتح کا پرچم بلند کرنا میرا خواب ہے۔ ساتھ ہی ریاست کیرالا کے لیے کھیلتے ہوئے سنچری بنانا، سیدھے شارٹ کھیلنے میں ماہر ہوں اور یقین رکھتا ہوں۔ تیز گیند باز اور بہترین اسپین گیند باز کو کھیلنے میں بہت مزہ آتا ہے۔

میں ہمیشہ افتتاحی بلے بازی کے لیے کوشاں رہتا ہوں۔ مگر وکٹ کیپر کے لیے درمیانی صف کی بلے بازی بہت کارآمد ہوتی ہے۔ درمیانی صف کی بلے بازی میں پچ پر زیادہ وقت اور اطمینان کے ساتھ بلے بازی کرنے میں بہت مزہ آتا ہے۔ کیونکہ گیند باز اور فیلڈر کچھ تھک جاتے ہیں جس کی وجہ سے بلے باز کو بہت آسانی ملتی ہے۔

سابق کرکٹر سید کرمانی بھی درمیان میں بلے بازی کے لیے آتے تھے، اور کئی ریکارڈز اپنے نام کیے۔ اظہر الدین کے پسندیدہ کرکٹرز میں سابق کرکٹر بلے باز اور وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی اور بلے باز ویراٹ کوہلی ہیں۔محمد اظہر الدین نے 22 فرسٹ کلاس میچوں میں 959 رنز بنائے۔ 30 لسٹ اے محدود اوورز میچوں میں 585 رنز اور 24 ٹی20 میچوں میں 451 رنز بنائے۔

سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button