
ممبئی، 27جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکز کی جانب سے مہاراشٹر میں شیوسینا کے باغی ایم ایل ایز کو وائی پلس سیکورٹی دینے کے بعد پارٹی نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ریاست میں جاری سیاسی بحران کے درمیان اب یہ واضح ہوگیا ہے۔ یہ سب تماشا کون کر رہا ہے۔شیو سینا کے ترجمان سامنا کے اداریے میں شندے کی قیادت والی پارٹی کے باغی ایم ایل اے پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہیں 50 کروڑ روپے میں فروخت کیا گیا ہے۔مرکزی حکومت نے اتوار کو کم از کم 15 باغی شیوسینا ایم ایل ایز کو وائی پلس سیکورٹی فراہم کی ہے ،جو کہ سی آر پی ایف کمانڈوز سے گھرے ہوئے ہیں۔سامنا کے مطابق جن ایم ایل ایز کو سیکورٹی فراہم کی گئی ہے ان میں رمیش بورنارے، منگیش کڈلکر، سنجے شرسات، لتا بائی سوناونے، پرکاش سروے اور دیگر 10 ایم ایل اے شامل ہیں۔
حکام نے کہا تھا کہ مہاراشٹر میں رہنے والے ان کے خاندانوں کو بھی سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔حکام کے مطابق سی آر پی ایف کے تقریباً چار سے پانچ کمانڈوز ایم ایل اے کے مہاراشٹر واپس آنے کے بعد ہر شفٹ میں ان کی سیکورٹی میںر ہیں گے۔سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ آخر کار بی جے پی بے نقاب ہو گئی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ شیوسینا میں بغاوت اندرونی معاملہ ہے۔اداریہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شندے اور دیویندر فڑنویس کی وڈودرا میں خفیہ ملاقات ہوئی تھی،اس میٹنگ میں وزیر داخلہ امت شاہ بھی موجود تھے۔
اداریہ میں کہا گیا ہے کہ مرکز نے میٹنگ کے فوراً بعد باغی ایم ایل ایز کو وائی پلس سیکورٹی فراہم کی گویا وہ جمہوریت کے محافظ ہیں۔سامنا میں پوچھا گیا ہے کہ کیا مرکزی حکومت کو ڈر تھا کہ ریاست میں واپس آنے کے بعد وہ اپنی پارٹی میں واپس آجائیں گے؟اداریہ میں کہا گیا کہ’ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مرکز اور ریاست کے بی جے پی لیڈروں نے ہی ان اداکاروں (باغی ایم ایل اے) کے لیے اسکرپٹ لکھا ہے اور وہ پورے تماشا کو ڈائریکٹ کر رہے ہیں۔



