حیدرآباد ۔ 28 ۔ جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) 12 کلو گرام سونے کے ایک سکہ کے گم ہوجانے کے تقریبا چار دہوں بعد مرکز نے پھر اس کی تلاش شروع کردی ہے ۔ دنیا کے سب سے بڑے سونے کے اس سکہ کو آخری مرتبہ حیدرآباد کے نظام ہشتم کا لقب رکھنے والے مکرم جاہ کے ہاتھوں میں دیکھا گیا تھا ۔ رپورٹس کے مطابق ان کے سکہ کو سوئیس بینک میں ہراج کیا گیا تھا ۔ اگرچیکہ مکرم جاہ کے دادا حیدرآباد کے آخری نظام میں عثمان علی خاں نے انہیں سونے کا یہ سکہ دیا تھا ، سی بی آئی کی جانب سے اسے حاصل نہیں کیا جاسکا ۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ایچ کے شیروانی سنٹر فار دکن اسٹیڈیز کی مشہور مورخ پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی نے کہا کہ مغل شہنشاہ جہانگیر کی جانب سے ایجاد کیا گیا ایک سکہ آخری نظام کو ورثہ میں ملا تھا ۔ دنیا کا سب سے بڑا سونے کا یہ سکہ بیش بہا قدر کا اور حیدرآباد کے لیے باعث افتخار ہے ۔ اس سکہ کی تلاش شروع ہوئے 35 سال ہورہے ہیں ۔ پروفیسر سلمیٰ کے حوالہ سے کہا گیا کہ ہبسبرگ فیلڈ مین ایس اے کی جانب 9 نومبر کو ہوٹل موگا میں 11,935.8 گرام کے سونے کے سکہ کو ہراج کرنے کے بارے میں یوروپ میں موجود ہندوستانی عہدیداروں کی جانب سے مرکزی حکومت کو چوکس کرنے کے بعد سی بی آئی اس میں شامل ہوگئی ۔
اس کی تحقیقات کے دوران کافی معلومات ہوئی ہیں ۔ ان کے مطابق سی بی آئی نے اس سکہ کی تلاش کرتے وقت مورخین کا رول ادا کیا لیکن بعد میں اس تلاش کو ادھورا چھوڑ دیا کیوں کہ عہدیدار واپس نہیں ہوئے ۔ سی بی آئی کے سابق جوائنٹ ڈائرکٹر شانتنو سین نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ عہدیداروں نے ان سکوں جیسے ایک جوڑ کو دریافت کیا جنہیں جہانگیر نے پرنٹ کروایا تھا ۔ اس میں شاہ ایران کے سفیر یدگیر علی کو ایک ملا تھا جب کہ دوسرا حیدرآباد کے نظام کے کنٹرول میں تھا ۔
1987 میں سپرنٹنڈنٹ رینک کے ایک عہدیدار نے اینٹک اینڈ آرٹ ٹریژرس ایکٹ 1972 کے تحت ایک ایف آئی آر داخل کی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ مکرم جاہ نے 1987 میں سوئیس آکشن میں دو گولڈ موہرس کا ہراج کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ ان میں ایک 1000 تولے کا سکہ تھا جس کی قیمت 1987 میں 16 ملین امریکی ڈالر تھی ۔ چونکہ جہانگیر کے بڑے سونے کے سکہ کے بارے میں کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں ہے ، سلمیٰ نے امید ظاہر کی کہ مرکز کی نئی کاوشوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔۔



