ہیملتا: فلمی موسیقی کی میٹھی آواز کا شاندار سفر
سلام بن عثمان،کرلاممبئی 70
ہیم لتا: میٹھی آواز کی مالک گلوکارہ کی زندگی، جدوجہد اور کامیابیاں
ہیم لتا 16 اگست 1954 کو حیدرآباد کے مارواڑی برہمن گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ویسے تو ہیملتا کا خاندان ہندوستان کے راجستھان، چورو ضلع سے وابستہ ہیں۔ کسی وجہ سے والدین کو کلکتہ کا رخ کرنا پڑا۔ ہیملتا کی پرورش کلکتہ میں ہی ہوئی۔ ہیملتا اس وقت لتا بھٹ تھیں۔ والد کلاسیکی موسیقی کے مشہور پنڈت جئے چند بھٹ اور والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ لتا بھٹ کو بچپن ہی سے موسیقی سے دلچسپی تھی۔ والد کا شمار کلاسیکی موسیقی کے استاد میں شمار تھا۔ مگر جئے چند بھٹ نہیں چاہتے تھے کہ لتا موسیقی سے دور رہے۔ لتا بھٹ کی موسیقی میں دلچسپی کی وجہ سے اسکول اور کالج کی تقریب میں لتا بھٹ کو اکثر گانے کا موقع ملتا اور بہت ہی بہترین انداز میں وہ گاتیں جس سے ہال میں بیٹھے لوگ تالیاں بجاتے۔
کئی مرتبہ کلکتہ میں درگاہ پوجا کے وقت بھی بھجن گانے کے لیے لتا بھٹ کو ہی بلایا جاتا تھا۔ ایک روز کلکتہ کے بہت بڑے تقریب کے موقع پر لتا بھٹ کو اپنے والدین کے ساتھ شرکت کا موقع ملا۔ کئی مشہور گلوکاروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام کا وقت ہوچکا تھا اور کسی وجہ سے کچھ وقت درکار تھا۔ کسی نے لتا بھٹ کو دیکھ لیا اور ہال میں بیٹھے پریشان سامعین کو محظوظ کرنے کے لیے لتا بھٹ کو آواز دی گئی اور ایک گانا گانے کے لیے کہا گیا۔ مگر جب لوگوں کی تالیوں کی گونج اور فرمائش پر لتا بھٹ نے بارہ گانے گائے اور ہال میں بیٹھے سامعین لتا بھت کے گانے سےخوش ہوگئے۔ پروگرام کے اختتام پر لتا بھٹ کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔
والدین بھی ساتھ موجود تھے بہت خوش ہوئے۔ اور بیٹی لتا بھٹ کو موسیقی سیکھنے کے لیے اجازت ملی۔ مگر والد کا کہنا تھا کہ صرف کلاسیکل سنگیت ہی سیکھنا ہے۔ والد نے کلکتہ کے مشہور کلاسیکل پنڈت گیان پرکاش کے یہاں تربیت کے لیے بھیجا۔ مگر لتا بھٹ چاہتی تھی کہ وہ ممبئی جا کر فلموں میں گائے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ لتا بھٹ ضد کرنے لگیں کہ اسے ممبئی ہی جانا ہے نہیں تو وہ خودکشی کر لے گی۔ اور گھر کا ماحول خراب ہوتا جارہا تھا۔ والد کو بیٹی کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ پنڈت جئے چند بھٹ نے سوچا ممبئی جا کر دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالی ووڈ میں موسیقی اور گلوکاری میں ایک ہی گھر کے لوگوں کا قبضہ تھا۔
لتا کو موقع ملنا بہت مشکل تھا۔ والد نے سوچا کچھ دن دیکھ لیتے ہیں اور کوئی اچھا لڑکا دیکھ کر لتا کی شادی کردے گے۔ ممبئی پہنچنے کے بعد پنڈت جئے چند نے لتا کو استاد اللہ رکھا کے یہاں موسیقی کی تربیت کے لیے رکھا۔ وہاں لتا بھٹ کی ملاقات اس وقت کے مشہور موسیقار نوشاد صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے جب لتا بھٹ کی آواز کو سنا تو فوراً انھوں نے کہا کہ میری فلموں میں موقع ضرور دوں گا۔ بالی ووڈ میں پہلی مرتبہ پانچ سال کا معاہدہ لتا بھٹ کے ساتھ کیا گیا۔ نوشاد صاحب نے کہا کہ آپ پانچ سال تک کسی بھی موسیقار کے ساتھ کام نہیں کرو گی۔ بالی ووڈ میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔
لتا بھٹ کی میٹھی آواز کو سنتے ہی تمام موسیقار چاہتے تھے کہ ہماری فلموں میں بھی گانا گائے۔ جس کی وجہ سے کئی مرتبہ لتا بھٹ نے نوشاد صاحب سے گذارش کی کہ وہ یہ معاہدہ ختم کرے اور مجھے گانے کا کھلا موقع فراہم کریں۔ لکشمی کانت پیارے لال نے بھی نوشاد صاحب سے سفارش کی کہ آپ لتا بھٹ کو ہمارے لیے بھی موقع دیں۔ نوشاد صاحب نے ان کی بات کو قبول کیا اور معاہدہ ختم کیا۔ والد جئے چند بھٹ اس وقت بھی بہت خفا تھے کہ لتا بھٹ فلموں میں گانا نہیں گائے۔
اس درمیان 1967 میں اوشا کھنہ کی فلم روپ روپیہ میں لتا بھٹ نے اپنا پہلا گانا گایا۔ اس وقت لتا بھٹ کی عمر صرف چودہ سال تھی۔ مگر اس کے بعد دوسرا گانا جو گایا وہ پہلے لوگوں کے سامنے آیا۔ فلم تھی ایک پھول ایک بھول اور گانا تھا۔ "دس پیسے میں رام لے لو۔۔۔۔۔۔” اس کے بعد ایک اور فلم ملی "وسواش” گانا تھا. لے چل۔۔۔مجھے لے چل میرے ساتھی ہم تم ہے جیون ساتھی۔۔۔۔۔۔” اس کے بعد فلم "جینے کی راہ” میل کا پتھر ثابت ہوئی گانا تھا "چندہ کو ڈھونڈنے سبھی تارے نکل پڑے۔۔۔۔۔” اس فلم نے لتا بھٹ کو ہیملتا بنا دیا۔ اس وقت کلکتہ سے رویندر جین بھی بالی ووڈ میں قسمت آزمانے آئے تھے۔
ان کی ملاقات ہیم لتا کے والد سے ہوئی۔ رویندر جین نے موسیقی کی تربیت جئے چند بھٹ سے لی اور بالی ووڈ میں قسمت آزمانے اترے گئے۔ رویندر جین کو ایک فلم ملی جس کا نام تھا "کانچ اور ہیرا” رویندر جین نے اس فلم کے تمام گانے ہیملتا سے گوائے۔ ایک گانا بہت مشہور ہوا۔ تقدیر میں اے میرے دل اندھیرے ہی اندھیرے ہیں، نظر آتی نہیں منزل۔۔۔۔۔۔اس کے بعد فلم سلاخیں کا گانا بھی بہت مشہور ہوا۔ "چل چل چل کہیں اکیلے ڈر لگے کہیں کھو نا جائیں میلے میں۔۔۔۔۔” فقیرا فلم کا ٹائٹل گانا بھی بہت مشہور ہوا۔ ہمت نہ ہاری چل چلا چل اکیلا چل چلا چل فقیرا چل چلا چل۔ اس کے بعد فلم” تپسیا” کا گانا بھی ” بھابھی کی انگلی میں ہیرے کا چھلہ۔۔۔۔۔۔”
1976 میں راجشری پروڈکشن کی فلم میں موقع ملا فلم تھی "چت چور” تو جو میرے من کا گھر بنا لے من لگا لے۔۔۔جب دیپ جلے آنا جب شام ڈھلے۔۔۔۔۔اس فلم کے لیے ہیملتا کو فلم فیئر بہترین گلوکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے بعد راجشری پروڈکشن کی کئی فلموں میں موقع ملا۔ دلہن وہی جو پیا من بھائے۔ گانا تھا "لے تو آئے ہو مجھے سپنوں کے گاؤں میں۔۔۔۔” بہت مشہور ہوا۔ اس کے بعد فلم "انکھیوں کے جھروکوں سے” 1982 میں ایک اور فلم ندیا کے پار میں اپنی بہترین آواز کے ساتھ سب کو چونکا دیا۔ گانا تھا "کون دسا میں لے کے چلا رے۔۔۔۔۔” ہیملتا کی بہترین میٹھی آواز نے فلمی شائقین کو روک نہیں سکی لوگوں نے کہا کہ لتا منگیشکر کی متبادل ہے ۔
ہیملتا۔ 1977 سے 1980 تک پانچ مرتبہ فلم فئیر ایوارڈ کی فہرست میں ہیملتا سر فہرست رہی۔ ایک مرتبہ تو ٹی وی کے شروعاتی وقت میں دوردرشن پر چترہار پروگرام آیا کرتا تھا۔ اس پروگرام میں ایک گیت کے لیے یہ کہا گیا کہ یہ گانا لتا منگیشکر نے گایا ہے۔ اور وہ گانا تھا فلم مقدر کا سکندر کا تھا "وفا جو نہ کی جفا بھی نہ کیجے کہ مرنے کی تمنا میں۔۔۔۔۔۔”
ہیملتا نے بالی ووڈ کے بعد ٹی وی کے سیریل کے ٹائٹل گانے بھی گائے۔ جیسے رامائن، مہابھارت، رام رتن دھن پایو اور بھی دیگر۔
ہیملتا کی شادی فلمی اداکارہ یوگیتا بالی کے بھائی یوگیش بالی کے ساتھ ہوئی۔ مگر چار دن میں ہی یوگیش بالی کی ماں نے ہیملتا کو گھر سے نکال دیا۔ چھ سال تک وہ اپنی ماں کے ساتھ رہیں اور اس دوران رویندر جین سے ہیملتا کی نزدیکیاں بڑھیں۔ مگر کچھ وجوہات کی بنا پر دونوں الگ ہوگئے اور اسی دوران یوگیش بالی نے ہیملتا کے گھر آکر ان کی والدہ سے معافی مانگی اور ہیملتا پھر ایک مرتبہ یوگیش بالی کے گھر چلی گئی۔ کچھ سال بعد ایک لڑکا ہوا جس کا نام ادتیہ بالی رکھا گیا۔ ادتیہ بالی کی عمر ابھی صرف پانچ سال ہی ہوئی ہوگی اس وقت یوگیش بالی کی موت ہوگئی کسی بڑی بیماری کی وجہ سے۔
ادھر بالی ووڈ میں گروپ بندی کی وجہ ہیملتا کو گانے ملنا کم ہوگئے۔ اس وقت ہیملتا نے بالی ووڈ کو خیر باد کہتے ہوئے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں انھوں نے ہندوستانی سنگیت اکیڈمی شروع کی۔ ہیملتا نے اپنے بالی ووڈ میں گلوکاری کے سفر میں 36 زبانوں میں گانا گائے اور ہر جگہ کی مٹی کو محسوس کیا۔ ہیملتا نے تقریباً چار ہزار سے بھی زیادہ گانے گائے۔ انھوں بالی ووڈ کی اسٹار ادکاراوں کو اپنی آواز دی۔ اس کے ساتھ انھوں نے محمد رفیع، کشور کمار،ہیمنت کمار، یشوداس،لتا منگیشکر کے علاوہ اس وقت کے کئی مشہور گلوکاروں کے ساتھ بھی گانا گایا۔ کچھ مشہور گانے۔
مشہور گانے
-
کون دسا میں لے کے چلا رے
-
لے تو آئے ہو ہمیں سپنوں کے گاؤں میں
-
ہم خواب کو بدل دے گے حقیقت میں
-
انکھیوں کے جھروکوں سے
-
نظر آتی نہیں منزل
-
وفا جو نا کی تو جفا بھی نا کیجے
-
بھیگا بھیگا موسم
ہیملتا کو بالی ووڈ میں بہت کم گانے کا موقع ملا لیکن اپنے بالی ووڈ کے فلمی سفر میں ہیملتا نے بڑے سے بڑے گلوکارہ کی نیند اڑا دی تھی۔


