ماحولیاتی آلودگی، طبی سہولتوں کا فقدان، ہیلتھ ایجوکیشن کے اصولوں سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی بیماریاں انسانی صحت کو متاثر کرتی ہیں جن میں بچوں کو ہیضہ(ڈائریا) ہونا بھی شامل ہے۔ ڈائریا ہونے کی صورت میں اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس مرض سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں ڈائریا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں، لیکن
اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ایک سال تک کی عمر کے بچے ہوتے ہیں۔
ڈائریا یا اسہال میں بچوں کو بالکل پتلے یا پانی جیسے پاخانے آتے ہیں۔ پاخانوں میں رطوبت یا خون بھی آسکتا ہے۔ یہ مرض اچانک شروع ہو سکتا ہے اور لمبے عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔ بار بار پاخانے آنے کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی زبردست کمی ہو جاتی ہے جو موت کا سبب بنتی ہے۔
ڈائریا کو آسانی سے کنٹرول کرنے کے لئے اہم بات یہ ہے کہ جسم سے جتنا پانی اور نمکیات خارج ہوئے ہوں، اتنی ہی مقدار میں جسم کو پانی اور نمکیات دوبارہ مہیا کردیے جائیں۔ جب کسی بچے کو ڈائریا ہو جائے تو سب سے بہترین علاج گلوکوز پانی کا استعمال ہے۔ جس کے پیکٹ میں تمام ضروری نمکیات موجود ہوتے ہیں۔
اس کو تیار کرنے کیلئے سب سے پہلے پانی ابال لیں۔ پھر ابالا ہوا پانی میں گلوکوز ایک پیکٹ ڈال دیں۔ مریض کے لیے گلوکوز ملا پانی تیار ہے۔ ڈائریا کے دوران گلوکوز کا پانی بچے کو وققے وقفے سے پلاتے رہیں۔ گلوکوز گھر میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔ چار گلاس پانی میں چار چمچ چینی اور ایک چمچ چائے والانمک ملائیں۔ ذائقہ بہتر بنانے کیلئے اس میں ایک لیموں نچوڑ دیں۔ گھریلو گلوکوز تیار ہے۔ 80 فیصد سے زائد کیسوں میں گلوکوز دینے سے ڈائریا کنٹرول کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس سے افاقہ نہ ہو اور اسہال جاری رہیںتو پھر بچے کو فوراً ہسپتال لیکر جانا چاہئے تاکہ فوری علاج سے پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کیا جا سکے۔
ڈائریا سے بچاؤ-ڈائریا سے بچاؤ کیلئے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
بچے کی خوراک-ماں کا دودھ
بچوں کیلئے ماں کا دودھ اللہ تعالیٰ کی ایک انمول نعمت ہے۔ ماں کے دودھ میں اتنے زیادہ خواص ہیں کہ کسی ڈبے کا دودھ،گائے یا بھینس کا دودھ اس کا قطعا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ماں کا دودھ پینے والے بچے بہت کم ڈائریا کا شکار ہوتے ہیں اگر پھر بھی بچے کو ڈائریا ہو جائے تو گلوکوز دینے کیساتھ ساتھ ماں کا دودھ پلاتے رہنا چاہئے۔
بوتل سے دودھ پلانے سے پرہیز
گندی بوتل اور نپل سے دودھ پلانے سے بہت سارے جراثیم بچے کے جسم میں داخل ہوکر بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کو بوتل سے دودھ پلانے سے پرہیز کیا جائے۔ اگر ماں کا دودھ کسی وجہ سے بچے کو نہیں دیا جا سکتا ہو تو پھر چمچ کے ذریعے گائے یا بھینس کا دودھ دیا جائے۔ گائے کا دودھ پلانے سے پہلے اس میں ایک حصہ پانی اچھی طرح اُبال کر ملائیں اور چمچ کے ذریعے بچے کودودھ پلائیں۔
بچے کی خوراک
ڈائریا میں بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ نرم غذا دیتے رہنا چاہئے۔ اکثر مائیں ڈائریا میں غذا دینا بالکل بند کر دیتی ہیں جس سے مرض کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ بچے کوماں کے دودھ کیساتھ ساتھ نرم غذا ضرور دیتے رہنا چاہئے۔ گھر میں بنائی گئی سادہ اور نرم غذائیں مثلاً دودھ میں سوجی، دہی، کیلا، ساگودانہ، دلیا، کسٹرڈ، چاول، فرنی وغیرہ استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ڈبے میں بند غذاؤں اور دودھ سے پرہیز کرنا چاہئے۔
Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039Phone : 080-23180000/23397836 mobile no 9343712908



