قومی خبریں

سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کا بھاجپا پر جھوٹ پھیلانے کا الزام

نئی دہلی، 14جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکاری ترجمان کی طرف سے ان پر جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔بی جے پی نے ایک پاکستانی صحافی نصرت مرزا کے حوالے سے ہندوستان کے سابق نائب صدرحامد انصاری پر سنسنی خیز الزامات عائد کیے ہیں۔ بی جے پی دعویٰ کیا کہ ہندوستان دورے کے دوران اس صحافی کو کئی خفیہ معلومات فراہم کرائی گئی تھیں۔ بی جے پی کے ان دعوؤں پر بی جے پی نے سابق نائب صدر حامد انصاری اور کانگریس سے وضاحت طلب کی ہے۔

تاہم حامد انصاری نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میڈیا کے کچھ حصوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکاری ترجمان کی طرف سے ان کیخلاف جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔بی جے پی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے سابق نائب صدر انصاری نے کہا کہ نائب صدر کے کسی بھی پروگرام میں غیر ملکی مہمانوں کو حکومت کے مشورہ کے بعد مدعو کیا جاتا ہے۔ غیر ملکی مہمانوں کو وزارت خارجہ کے ذریعے مدعو کیا جاتا ہے۔حامد انصاری نے کہا ہے کہ وہ نصرت مرزا سے کبھی نہیں ملے۔

انصاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں نے 11 دسمبر 2010 کو انٹرنیشنل کانفرنس آف جیورسٹ آن انٹرنیشنل ٹیررازم اینڈہیو مون رائٹس کا افتتاح کیا۔ عموماً ایسی کانفرنسوں میں مہمانوں کی فہرست منتظمین تیار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ میں نے نہ کبھی نصرت مرزا کو فون کیا اور نہ ہی ملا۔الزامات کا جواب دیتے ہوئے، انصاری نے کہا کہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ نائب صدر کے ذریعہ غیر ملکی معززین کو دعوت نامے حکومت کے مشورے پر بھیجے جاتے ہیں،

عام طور پر وزارت خارجہ کے ذریعے۔بی جے پی کے مطابق صحافی نے یو پی اے حکومت کے دور اقتدار میں پانچ بار ہندوستان کا دورہ کیا اور یہاں کی کئی حساس معلومات اپنے ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو فراہم کی تھی۔اس سلسلے میں بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے پاکستانی صحافی نصرت مرزا کے مبینہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرزا نے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا تھا اور ان سے ملاقات بھی کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button