لکھنؤ، 14جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہاتھرس معاملہ میں فیکٹ چیک کرنے والے صحافی محمد زبیر کو 27 جولائی تک عدالتی تحویل میں بھیجا گیا ہے۔ محمد زبیر کیخلاف اتر پردیش میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں ہاتھرس میں درج کی گئی دو ایف آئی آر بھی شامل ہیں۔ زبیر کی گرفتاری کے بعد 4 جولائی کو ہاتھرس میں ان کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ان پر مبینہ طور پر ’ہندو دیوتا شیو‘ کی تصویر ٹوئٹ کرنے کے سلسلہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ہاتھرس کورٹ سے پولیس کی درخواست پر زبیر کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے، جس کے بعد انہیں آج عدالت میں پیش کیا گیا۔
آج سماعت ختم ہونے کے بعد انہیں 27 جولائی تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ زبیر کے وکلا کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ زبیر کو جیل میں رکھنے کے لیے یوپی پولیس ایک کے بعد دوسری ایف آئی آر سامنے لا لا رہی ہے۔ خیال رہے کہ محمد زبیر کیخلاف صرف اتر پردیش میں ہی کل 6 معاملے درج ہیں، اور تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقات آئی جی سطح کے افسر کریں گے۔ ان تمام معاملات میں ایک ہی جیسی دفعات عائد کی گئی ہیں۔
زبیر کے خلاف درج تمام مقدمات کی تحقیقات سے معلوم چلا ہے کہ تمام 6 مقدمات دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت درج کئے گئے ہیں۔ دفعہ 153 اے ان لوگوں پر لگائی جاتی ہے جو مذہب، زبان، نسل وغیرہ کی بنیاد پر لوگوں میں نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دفعہ 295 اے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں پر عائد کی جاتی ہے۔زبیر کے خلاف سیتا پور، لکھیم پور، مظفر نگر، غازی آباد اور ہاتھرس (دو ایف آئی آر) میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ انہیں سیتا پور کیس میں عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لکھیم پور کیس میں ضمانت پر سماعت جمعہ کے روز ہونے والی ہے۔



