قومی خبریں

اسکولی مڈ ڈے میل سے انڈے اور گوشت ختم کرنے کی سفارش

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ملک کی تاریخ میں الٹ پھیر اور نصابی کتابوں میں تبدیلی اور ملک بھر میں ہندی زبان کو مسلط کرنے کی کوشش کے بعد اب نریندر مودی حکومت نے اسکولی بچوں کے پیٹ پر مارنے کی کوشش میں لگی ہے۔قومی تعلیمی پالیسی بنانے کے نام پر سرکاری اسکولوں، ہاسٹل اور آنگن واڑی سنٹرس میں دئے جانے والے کھانے کی اسکیم مڈ ڈے میل کے مینو کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے طلباء کو فراہم کی جانے والی غذائیت پر قائم ماہر کمیٹی کی تیار کردہ دستاویز نہ صرف غلطیوں سے بھری ہوئی ہے بلکہ گمراہ کن بھی ہے۔

اس دستاویز میں بہت سے دلچسپ نکات ہیں جو حال ہی میں میڈیا میں منظر عام پر آئی ہے۔اس رپورٹ میں ماہرین کی کمیٹی نے براہ راست حکومت کو مشورہ دیا کہ بچوں کے مینو سے انڈے اور گوشت کو نکال دینا چاہیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آٹھ ماہرین پر مشتمل کمیٹی میں اسکول کے اساتذہ یا والدین کے نمائندے نہیں ہیں۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دوپہر کے کھانے کا منصوبہ بناتے وقت اسے کولیسٹرول سے پاک ہونا چاہیے۔

انڈے جیسی چیزوں کو ملانے سے گریز کرنا چاہیے۔ میٹھے اجزاء والے دودھ اور بسکٹ سے پرہیز کریں۔ اضافی کیلوریز، موٹاپے کا باعث بننے والی چربی اور ہارمونز کے عدم توازن سے بچنے کے لیے ان سب سے پرہیز کرنا چاہیے۔انڈے اور گوشت کے کثرت سے استعمال سے کولیسٹرول طرز زندگی کے مسائل جیسے ذیابیطس، قبل از وقت ماہواری اور بانجھ پن کا سبب بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ کئی ممالک میں ہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت ہارمونل عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button