ایس آئی ٹی کامبینہ دعویٰ: مرحوم احمد پٹیل کے کہنے پر تیستا اور دیگر نے حکومت کو کمزور کرنے کی سازش کی
احمد آباد ، 16 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات ایس آئی ٹی نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کیخلاف اپنے حلف نامہ میں بڑا؛بلکہ سنسنی خیز انکشاف کرڈالاہے۔ سیتل واڑ، ریٹائرڈ ڈی جی پی آر بی سری کمار اور سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ پر 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے میں ثبوت گھڑنے اور سازش کرنے کا الزام ہے، تینوں کو گجرات پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 15 جولائی کو تیستا سیتلواڑ کی ضمانت کی درخواست کے خلاف داخل ایس آئی ٹی کے حلف نامہ میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ بتا دیں کہ معاملہ کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی کے تفتیشی افسر بی سی سولنکی نے جمعہ کو احمد آباد کی سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا۔
جس میں کہا گیا تھا کہ یہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے مشیر مرحوم احمد پٹیل کے کہنے پر ہوا ہے۔ حلف نامہ کے مطابق احمد پٹیل سے اس کے لیے دو مرتبہ رقم لی گئی۔تیستا سیتلواڑ کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے ایس آئی ٹی نے حلف نامہ میں دعویٰ کیا ہے کہ تیستا کے ذریعہ گجرات اور گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو مزید سیاسی بیان بازی کرنے کے لیے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ سیتل واڑ نے مبینہ طور پر شروع سے ہی اس سازش کے حصے کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔
کیونکہ گودھرا ٹرین واقعہ کے کچھ ہی دن بعد اس نے مرحوم احمد پٹیل کے ساتھ میٹنگ کی اور پہلی بار 5 لاکھ روپے لئے۔سینئر کانگریس لیڈر کی ہدایت پر ایک گواہ نے انہیں یہ رقم دی۔ عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ پٹیل اور سیتل واڑ کی شاہ باغ کے سرکاری سرکٹ ہاؤس میں دوبارہ ملاقات ہوئی، جس میں گواہ نے احمد پٹیل کی ہدایت پر سیتل واڑ کو مزید 25 لاکھ روپے دئیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میٹنگ میں دی گئی نقد رقم کسی ریلیف فنڈ کا حصہ نہیں تھی۔حلف نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیتل واڑ نے مبینہ طور پر ایک سیاسی پارٹی سے مالی اور دیگر فوائد حاصل کیے تاکہ گجرات کے اس وقت کے چیف منسٹر سمیت ریاست گجرات کے کئی عہدیداروں اور دیگر بے قصور افراد کو پھنسایا جا سکے۔
حلف نامہ میں، ایس آئی ٹی نے تیستا کی ضمانت کی عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ابھی تفتیش جاری ہے، وہ گواہ کو دھمکا سکتی ہے اور ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتی ہے۔ اس وجہ سے انہیں ضمانت نہیں دی جانی چاہئے۔بتا دیں کہ اس سال 25 جون کو احمد آباد میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں سیتل واڑ، سری کمار اور سابق آئی پی ایس افسر بھٹ سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ نے 2002 کے فسادات سے متعلق معاملات میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی اور دیگر کو دی گئی کلین چٹ کے خلاف ایک عرضی کو خارج کر دیا تھا۔
پی ایم مودی نے سیاسی انتقام میں مردہ شخص کو بھی نہیں بخشا-مرحوم احمد پٹیل کیخلاف مبینہ الزامات پر کانگریس سخت برہم
کانگریس نے ہفتہ کے روز پارٹی لیڈ ر مرحوم احمد پٹیل کیخلاف عائد کئے گئے ،اُن الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے 2002 کے فسادات کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں گجرات حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش رچی تھی۔رکن پارلیمنٹ اور جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات اے آئی سی سی جے رام رمیش نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس مرحوم احمد پٹیل کے خلاف لگائے گئے شرارتی الزامات کی واضح طور پر تردید کرتی ہے۔ یہ وزیر اعظم کی منظم حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ خود کو 2002 میں اس وقت ہونے والے فرقہ وارانہ قتل عام کے الزامات سے بری الزمہ قرار دیں، جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔
اس قتل عام پر قابو پانے کے لیے ان کی عدم دلچسپی اور نااہلیت کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے وزیر اعلیٰ مودی کو ان کے ’راج دھرم ‘کی یاد دہانی کرائی تھی،خیال رہے کہ لفظ ’راج دھرم‘ اُس وقت متنازعہ بن گیا تھا۔جے رام رمیش نے مزید کہا ’عدالتی مقدمات میں کٹھ پتلی تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے قیاس آرائیوں پر مبنی الزامات کی بنا پر پریس کے ذریعے فیصلہ سنانا برسوں سے مودی-شاہ جوڑی کے ہتھکنڈوں کا خاصہ رہا ہے۔
یہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے علاوہ کچھ اور نہیں، جس میں ایک مردہ شخص کے خلاف اناپ شناپ اس لئے بولا جا رہا ہے، کیونکہ ڈھٹائی سے بولے جا رہے جھوٹ اور الزامات کی تردید نہیں کر سکتا۔خیال رہے کہ گجرات پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے جمعہ کے روز عدالت کے سامنے استدلال کیا کہ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نریندر مودی کے خلاف کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل کی ’بڑی سازش‘ کا حصہ تھی۔



