قومی خبریں

صدراتی انتخابات : یہ ایک نظریاتی لڑائی ہے، اس میں پیسے کا کھیل چل رہا ہے، یشونت سنہا کا الزام

نئی دہلی ، 18 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں ووٹنگ جاری ہے۔اس بار جہاں این ڈی اے نے دروپدی مرمو کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، وہیں یشونت سنہا اپوزیشن کا چہرہ ہیں۔صدارتی انتخاب کے لیے کئی اہم لیڈروں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ ان میں وزیر اعظم مودی، راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت سمیت کئی بڑے لیڈر شامل ہیں۔ صدارتی انتخاب کے لیے ہو رہی ووٹنگ کے درمیان اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا نے کہا کہ یہ انتخاب بہت اہم ہے،کیونکہ آنے والے دنوں میں یہ فیصلہ کرے گا کہ ہندوستان میں جمہوریت زندہ رہے گی یا ختم ہو جائے گی۔

یشونت سنہا نے کہا کہ اب تک جتنے اشارے مل رہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت ختم ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میں نے پورے ملک کا سفر کرکے اور میڈیا کے ذریعے پورے ملک کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ الیکشن کیوں اہم ہے۔ یشونت سنہا نے کہا کہ میں تمام ووٹروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔ مجھے امید ہے کہ تمام ووٹرز اپنی صوابدید استعمال کریں گے اور جمہوریت کو بچانے کے لیے میرے حق میں ووٹ دیں گے۔یشونت سنہا نے کہا کہ میں صرف سیاسی نظام کے خلاف نہیں لڑ رہا ہوں، بلکہ میں حکومتی اداروں کیخلاف بھی لڑ رہا ہوں، اس میں سرکاری ایجنسیاں بہت متحرک ہو گئی ہیں اور سیاسی جماعتوں کو سبوتاژ کرنے کا کام کر رہی ہیں اور پیسے کا بھی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

یہ ایک نظریاتی لڑائی ہے۔آپ کو بتا دیں کہ صدر رام ناتھ کووند کی مدت 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں تقریباً 4800 ووٹر (ایم پی اور ایم ایل ایز) نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دے رہے ہیں۔ 21 جولائی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد پتہ چلے گا کہ ملک کا 15 واں صدر کون ہوگا؟ نئے صدر 25 جولائی کو حلف اٹھائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button