
✍️ حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی
اس وقت امت مسلمہ جس دور سے گزر رہی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ہر میدان میں مسلمانوں کو شکست اور مات کھانی پڑتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم مسلمان تو ہیں لیکن اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا نہیں یعنی ہر طرح کی برائیاں ہمارے مسلم معاشرے میں پنپ رہی ہیں انہی برائیوں میں ایک برائی جو شباب کی حد پار کر چکی ہے وہ مسلم لڑکیوں کا اپنے گھروں سے فرار ہونا ہے ہم آئے دن اخبار و شوشل میڈیا پر لڑکیوں کے گھر سے غیر محرم لڑکوں کے ساتھ فرار کے واقعات پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں دنیا میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہےلیکن وہ اپنے والدین کی مرضی کے خلاف رشتہ ازدواج سے منسلک تو ہورہی ہیں اور اسے محبت کا نام دیتی ہیں حالانکہ رشتہ ازدواج ایک ایسا بندھن ہے جو بہت زبردست ہے جس میں نہ رسی، نہ زنجیر ہے فقط ایک گرہ ہے!
اگر اسے شرعی اعتبار سے بجالایا جاۓ تو تکمیل ایمان کا باعث ہے رضاءالہی کا سبب ہے لیکن افسوس صد افسوس! اس پاکیزہ رشتہ میں غیر شرعی طور سے منسلک ہونے کے سبب اپنی دنیا وآخرت تباہ کر لیتی ہیں والد والدہ بھائی اور دیگر اقارب ور شتے دار کی سچی محبت کو ٹھکرا کر ایک اجنبی کی دام تزویر میں آ کر سماج و معاشرہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے گھروں سے فرار ہو جاتی ہیں یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔
عمدہ اخلاق پیش کرنا آج کی اہم ضرورت
تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے جب تک حضورﷺکی سیرت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کردار و اخلاق کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کیں تھیں نہ تو کوئی انھیں مغلوب کر سکا اور نہ ہی وہ کسی قوم کے سامنے عاجز ہوئے بل کہ دنیا بھر میں ان کی برتری قائم رہی اخلاق کے اس نصب العین کے حصول کے لیے ماضی میں دو اداروں کا کردار ہمیشہ مثالی رہا، پہلا خود کا گھرانہ والدین اور عزیز و اقارب اور دوسرا تعلیمی ادارے اور اسا تذہ کرام ان دونوں نے نسلوں کی تربیت کا فریضہ انجام دیا اور پوری نسلیں ان کے زیر اثر پروان چڑھتی رہیں ہر بچہ سلیم الفطرت پیدا ہوتا ہے اور اس کی شخصیت کی تعمیر میں ان دونوں کا بنیادی کردار ہے۔
ہمارے ہاں جب تک یہ دونوں ادارے موثر کردار ادا کرتے رہے تعلیم کے ساتھ تربیت کامل بھی جاری رہا اور اس میں عمدہ اخلاق کی تربیت کو بنیادی حیثیت حاصل رہی اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے یوں ایک نسل کے اعلی اوصاف دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہے اور یوں معاشرتی استحکام، رواداری اور بھائی چارے کی فضا قائم رہی اور یہ صرف قرآن مجید اور حضورﷺکی تعلیمات کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنے سے ہوا لیکن بدقسمتی سے جب ہمارے معاشرے سے اخلاقی اوصاف زوال پزیر ہوئے اور ان کی جگہ مادیت پرستی نے لینا شروع کردیا تو ان دو اداروں کا کر دار کم زور ہوا تو کر دار سازی کا عمل بھی کم زور ہونا شروع ہواوہ بنیادی انسانی اوصاف اورحسن کر دار جو دلوں کو جوڑنے کا باعث بنتا ہے۔
لوگ اس سے عاری ہونا شروع ہو گئے جب تعلیم وتربیت دینے والے لوگ کردار سازی کے بجائے فقط کاروباری بن جائیں اور حسن کردارکو نظر انداز کیا جانے لگا تو بے چینی ، معاشرتی انتشار اور بے امنی کا دور دورہ شروع ہوا لہذا آج کی ہماری نسلیں ان بنیادی اخلاقی قدروں سے بہت دور ہوگئی ہیں اس پر فکر مندی اور توجہ لازمی ہے۔



