نئی دہلی،19جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نبی اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخانہ تبصرہ کے معاملہ میں بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما نے درج ایف آئی آر کے سلسلے میں ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کی عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔انہیں عدالت عظمیٰ نے بڑی راحت دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کسی بھی ریاست کی پولیس کو گرفتاری نہیں کرنی چاہیے۔ خیال رہے کہ اگلی سماعت 10 اگست کو ہوگی۔ فیصلہ سناتے ہوئے بنچ نے درخواست گزار کے قتل کے وائرل ہونے والے سلمان چشتی کے بیان کا بھی نوٹس لیا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ یوپی کے ایک شخص نے درخواست گزار کا سر قلم کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ نوپور شرما کیخلاف کوئی زبردستی کاروائی نہ کی جائے۔ آج کی سماعت میں نوپور شرما کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل منیندر سنگھ نے کہا کہ ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔جس پر جج نے کہا کہ درخواست میں مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر کو کالعدم کیا جائے۔ یہ اختیار ہائی کورٹ کے پاس ہے۔ ہم نے عرضی گزار سے یکم جولائی کو ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کو کہا تھا۔ ہم نے آپ سے متبادل قانونی راستے اختیار کرنے کو کہا، لیکن ہماری تشویش یہ ہے کہ آپ انہیں استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
ہم اسے حل کریں گے۔عدالت نے کہا کہ ہماری تشویش ہے کہ درخواست گزار متبادل قانونی راستہ کیسے اختیار کرے۔ ہم تمام فریقوں کو ان کے غور کے لیے نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مغربی بنگال میں اور بھی کئی ایف آئی آر درج ہیں۔ وہیں پولس نے لک آؤٹ سرکلر جاری کیا ہے۔ اس لئے گرفتاری کا شبہ ہے۔ اپنی نئی درخواست کی حمایت میں استغاثہ کے وکیل نے بتایا ہے کہ کئی واقعات ہو چکے ہیں۔اجمیر کے سلمان چشتی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ان کا گلا کاٹنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یوپی کے ایک شخص نے بھی ایسا ہی ایک ویڈیو جاری کیا ہے، عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کسی بھی ریاست کی پولیس کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے۔



