بین ریاستی خبریں

وزیراعلیٰ شندے نے ’ شیو سینا‘ پر دعویٰ کردیا

نئی دہلی،19جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹر میں سیاسی بحران پر سپریم کورٹ میں سماعت سے پہلے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے نئی شرط لگا دی ہے۔ شیو سینا پر دعویٰ کرتے ہوئے شندے نے 12 ممبران پارلیمنٹ کو لوک سبھا اسپیکر کے سامنے پیش کیا ہے۔ شندے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں شیوسینا کے 19 میں سے 18 ایم پی کی حمایت حاصل ہے۔جبکہ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی میں میٹنگ بلائی ہے۔ اس اجلاس میں پارٹی کے سینئر عہدیداروں کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میونسپل صدور کو بھی اس میٹنگ میں شرکت کی ہدایات بھیجی گئی ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے ایم ایل ایز کی بغاوت کے بعد 29 جون کو چیف منسٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

آج ایکناتھ شندے نے دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ شاہ سے ملاقات کے بعد وہ سیدھے لوک سبھا اسپیکر کے پاس گئے۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ بدھ کو سپریم کورٹ میں مہاراشٹر کے سیاسی بحران پر سماعت کرے گی۔ ایکناتھ شندے اپنے دھڑے کے لیڈروں کو الیکشن کمیشن لے جائیں گے، جہاں وہ شیوسینا پر دعویٰ کریں گے۔مرکز نے 12 ارکان پارلیمنٹ کو وائی پلس سیکورٹی دی ہے۔شیوسینا کے 12 ممبران پارلیمنٹ کو مرکزی حکومت نے وائی+ سیکورٹی دی ہے۔ ذرائع کے مطابق شیوسینا کے 19 میں سے 12 ممبران پارلیمنٹ لوک سبھا میں الگ دھڑے کا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔ یہ ارکان پارلیمنٹ منگل کو وزیر اعظم سے ملاقات بھی کر سکتے ہیں۔اب سب کی نظریں مہاراشٹرا بحران سے متعلق سپریم کورٹ میں 20 جولائی کو ہونے والی سماعت پر لگی ہوئی ہیں۔

چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس کرشنا مراری اور ہیما کوہلی کی بنچ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والے کیمپ اور ایکناتھ شندے کیمپ کی درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی شیوسینا کی لڑائی کو نیا موڑ ملے گا۔شیو سینا کے 40 ایم ایل اے اور 13 ایم پی پیرنٹ پارٹی (ادھو کی شیو سینا) سے الگ ہو چکے ہیں۔ باغی دھڑے کے لیڈر اور وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ارکان اسمبلی اور ایم ایل ایز کی تعداد کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس دو تہائی عوامی نمائندے ہیں، اس لیے اصل شیوسینا اب ان کی ہے۔

اگر 21 جون کو ایگزیکٹو کی آخری میٹنگ کو بنیاد کے طور پر لیا جائے تو ادھو کے پاس ایگزیکٹو میں اکثریت ہے، اس لیے یہ باغیوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس میٹنگ میں پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کو دوبارہ منتخب کیا گیا۔ سبھی نے ادھو ٹھاکرے کو پارٹی فیصلے لینے کا حق دیا تھا۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کوئی اور شیوسینا سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے کا نام استعمال نہیں کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button