قومی خبریں

باحجاب طالبات کو نیٹ امتحان میں شرکت کی اجازت پر ہندو قوم پرست تنظیموں کا ہنگامہ

کوٹہ،19جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان کے کوٹہ میں اتوار کونیٹ کے امتحانی مرکز میں چار مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ داخلہ دیا گیا۔ اس پر بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے یوتھ ونگ نے پیر کو احتجاج کیا ہے۔وی ایچ پی کے پروپیگنڈہ سربراہ رام بابو مالو نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے جو مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دیتے ہیں اور وہ کالج کے سینٹر میں ملک کے سب سے بڑے میڈیکل داخلہ امتحان (نیٹ یوجی 2022) میں شرکت کے لیے جاتے ہیں۔یوتھ یونٹ کی جانب سے کوٹہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کو ایک میمورنڈم دیا گیا ہے۔ بجرنگ دل کے شریک صوبائی کوآرڈینیٹر یوگیش رینوال نے کہا کہ امتحان کے قواعد کے مطابق طالب علم اور لڑکیاں پوری آستین میں بھی نہیں آسکتے ہیں۔

بالی، گھڑی اور دیگر تمام سامان باہر رکھنا چا ہیے۔تاہم مسلم طالبات کو حجاب پہن کر امتحان دینے کی اجازت د ی گئی،جب ہندو طالبات اور لڑکیاں پورے کپڑے پہن کر آئیں تو ان کی آستینیں بھی ہٹالی گئیں۔ اگر مسلمانوں کی ’خوشنودی‘ کی وجہ سے طالبات اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے تو حجاب کی حمایت میں لوگ کہیں گے کل سے ایگژام سینٹر میں نمازبھی پڑھنے دی جائے۔اگر مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بجرنگ دل کے کارکن ہندو طلبہ اور طالبات کو تمام ایگژام سینٹر میں تلک لگا کر، بھگوا پٹہ لگاکر نیز ہنومان چالیساکا پاٹھ کرتے ہوئے امتحان کے لیے جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button