تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ کے بجٹ میں 80 ہزار کروڑ روپئے کٹوتی کے امکانات

مسلسل تیسرے سال اقلیتی بجٹ گھٹ جائے گا! ریاست کو صرف 23 ہزار کروڑ کا قرض حاصل ہوگا

حیدرآباد 19 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ریاست تلنگانہ کو جاریہ سال کتنا قرض حاصل ہوگا اس کا پتہ چل گیا ہے۔ انھیں اعداد و شمار کے لحاظ سے ریاست کے بجٹ میں کتنی کٹوتی ہوگی اس کا بھی اندازہ لگ بھگ ممکن ہوگیا ہے۔ گیارنٹی قرض پر مرکز کے تحدیدات کے بعد ریاست میں یہ بحث شروع ہوگئی تھی کہ تلنگانہ کو کتنا قرض حاصل ہوگا، اس پر قیاس آرائیاں شروع ہوچکی تھیں۔ ان تمام افواہوں کو ختم کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے سرکاری طور پر خود کہہ دیا کہ 23 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل ہوگا۔ چیف منسٹر کی بات صحیح ہے تو ریاست کے بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی ہوگی۔

سال 2022-23 ء کے مالیاتی سال کے لئے تلنگانہ حکومت نے مجموعی طور پر 2.56 لاکھ کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا کہ 53,970 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا جائے گا۔ اس طرح مختلف کارپوریشنس سے گیارنٹی قرض کے طور پر ٹرانسکو، جینکو، ڈسکامس کے لئے 12,198.70 کروڑ، آبپاشی پراجکٹس اور کارپوریشنس کیلئے 22,675.07 کروڑ دونوں ملاکر 34,873.77 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

یعنی بجٹ کا قرض اور گیارنٹی قرض ملاکر 88,843 کروڑ مشن بھاگیرتا، مشن کاکتیہ سے متعلق نیتی آیوگ کی سفارش کے تحت مرکز سے 40 ہزار کروڑ روپئے تک گرانٹس وصول ہونے کا ریاستی حکومت نے اندازہ لگایا ہے اس کو بھی ملا لیا جائے تو تقریباً 1.28 لاکھ کروڑ روپئے ہوتے ہیں۔ تاہم بجٹ میں 53,970 کروڑ روپئے بطور قرض وصول ہونے کا جو اندازہ لگایا گیا تھا اس میں سے صرف 23 ہزار کروڑ روپئے وصول ہونے کا چیف منسٹر نے دعویٰ کیا ہے۔ حکومت نے گیارنٹی قرض کے تحت 34 ہزار کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا تھا لیکن عہدیدار صرف 10 ہزار کروڑ روپئے وصول ہونے کی اُمید کررہے ہیں۔

گرانٹس کے مسئلہ پر گزشتہ سال کے تجربہ کی بنیاد پر 10 ہزار کروڑ روپئے وصول ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ تینوں کو ملاکر 43 ہزار کروڑ روپئے وصول ہونے کی اُمید کی جارہی ہے۔ بجٹ تجویز اور وصولی میں تقریباً 85 ہزار کروڑ روپئے کا فرق پایا جارہا ہے۔ جی ایس ٹی، اسٹامپس، رجسٹریشن، کمرشیل ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکس، مرکزی ٹیکس وغیرہ سے ریاست کو تقریباً ماہانہ اوسطاً 10 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہوتی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال اپریل میں ریاست کی آمدنی 9983 کروڑ، مئی کی آمدنی 9973 کروڑ اور جون تک ریاست کی آمدنی 30 ہزار کروڑ ہوئی ہے، جولائی میں یہ آمدنی کسی قدر بڑھ سکتی ہے۔

ہر سال مرکز سے تقریباً 1.2 لاکھ کروڑ روپئے گرانٹس کی شکل میں ریاست کو وصول ہوتے ہیں اس میں 10 ہزار کروڑ روپئے کا شمار کرلیا جائے تو 1.3 لاکھ کروڑ روپئے ہوتے ہیں۔ اس میں قرض 23 ہزار کروڑ روپئے جمع کرلیا جائے تو 1.53 لاکھ کروڑ روپئے ہوتے ہیں۔ حکومت نے اراضیات کی فروخت سے اس سال 15,500 کروڑ روپئے کی آمدنی کا اندازہ لگایا ہے اس کو شمار کرنے سے 1,68,500 کروڑ کارپوریشن کے گیارنٹی قرض 10 ہزار کروڑ روپئے بھی شمار کرنے پر 1,78,500 کروڑ ہوں گے۔

اس طرح بجٹ میں 78 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی کے امکانات ہیں۔ اراضی فروخت کرنے کا حکومت نے جو منصوبہ تیار کیا ہے، اگر نشانہ مکمل نہیں ہوا تو بجٹ میں مزید کٹوتی ہوسکتی ہے جس سے حکومت کی فلاحی اسکیمات پر اس کے بہت زیادہ اثرات پڑنے کے امکانات ہیں۔ اقلیتی بہبود کے لئے جو بجٹ منظور کیا گیا ہے۔ بجٹ میں نظرثانی پر تیسری مرتبہ مسلسل اقلیتی بجٹ میں کٹوتی کے امکانات ہیں۔ ساتھ ہی دوسری اسکیمات کیلئے بجٹ میں جو رقم مختص کیا گیا ہے، وہ بھی گھٹ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button