
غیر ملکی سیکس ریکیٹ کا پردہ فاش : ازبکستان کی لڑکیوں کے ذریعہ جسم فروشی کا دھندہ طشت ازبام
نئی دہلی ،24جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک غیر ملکی سیکس ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے ایک غیر ملکی جوڑے سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت ترکمانستانی جوڑے میردوب احمد (48)، اس کی بیوی جمائیفا عزیزہ (37)، ازبکستان کے رہائشی علی شیر (48) اور محمد اریب (34) ساکن مالویہ نگر دہلی اور چندے سہانی (30) ساکن دربھنگہ کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے مالویہ نگر کے گھر سے 10 ازبکستانی لڑکیوں کو بازیاب کرایا ہے۔ ملزمان ان لڑکیوں کو بھارت میں اچھی نوکری دلانے کے بہانے لائے تھے۔ بعد ازاں ان سے جبراً جسم فروشی کا دھندہ کرایا جاتا رہا۔
پولیس گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کر کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے کہا کہ ان کی ٹیم کو اطلاع ملی کہ مالویہ نگر کے پنچ شیل وہار میں ایک غیر ملکی سیکس ریکیٹ چل رہا ہے۔ اطلاع کے فوراً بعد اے سی پی ایس اور دیگر پولس افسران کی ایک ٹیم کو جانچ کے لیے تعینات کیا گیا۔معلومات اکٹھی کرنے کے بعد سوہن ویر نامی سپاہی کو فرضی گاہک بنا کر اے ایس آئی راجیش کے ساتھ بھیجا گیا۔ وہاں پہنچ کر انہیں دو ایجنٹ محمد اریب اور چندے سہانی عرف راجو ملے۔ ان افراد نے 10 غیر ملکی لڑکیوں کو دونوں جعلی گاہکوں کے سامنے پیش کیا۔ ڈیل طے ہونے کے بعد سوہن ویر نے ٹیم کو اشارہ کیا اور انہیں وہاں بلایا۔
اس کے بعد فوری طور پر ٹیم نے موقع پر چھاپہ مار کر تمام دس غیر ملکی لڑکیوں کو ملزمان کے چنگل سے آزاد کرایا۔ تفتیش کے دوران کوئی بھی غیر ملکی لڑکی اپنا پاسپورٹ اور درست ویزا نہیں دکھا سکی۔اس پورے ریکیٹ کو ترکمان جوڑے میردوب احمد اور اس کی بیوی جمائیفا چلا رہے تھے۔ اس کا تیسرا ساتھی علی شیر، جو ازبکستان کا شہری ہے، نوکری کے وعدے پر اپنے ملک سے لڑکیوں کو بھارت لانے کا مرتکب ہے۔
پوچھ گچھ کے بعد پولیس نے جوڑے سمیت تین غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ ان سے پوچھ گچھ کے بعد پولس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔پولیس نے موقع سے ملزمان کے موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ان کے گینگ میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ملزمان سے سختی سے پوچھ گچھ کیا جارہا ہے ۔



