سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

بھارت کے عظیم مجاہد بریگیڈیئر محمد عثمان’’نوشیرا کا شیر‘‘

دیش آزادی کے 75سال پورے ہونے  پر ’’آزادی کا امرت مہتسو‘‘منارہا ہے۔لیکن بھارتی فوج کی شاندار روایت کی بے حد مضبوط کڑیوں میں ایک برگیڈئیر محمد عثمان کا 3 جولائی کو یوم شہادت خاموشی کے ساتھ گذر گیا۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کی قربانیوں کو دیش اب لگ بھگ بھول چکا ہے۔ اترپردیش کے اعظم گڑھ (موجودہ مئو)جنپد کے بی بی پور میں پیدا ہوئے عثمان بھارتی فوج افسران کے اس شروعاتی بیچ میں شامل تھے، جن کی ٹریننگ برطانیہ میں ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ میں اپنی قیادت کے لیے قابل تعریف کارکردگی انجام دینے اور کئی بار ترقی حاصل کرنے والے برگیڈیئر محمدعثمان 1947 میں بھارت۔ پاک جنگ کے وقت اس پچاس پیرا بریگیڈ کے کمانڈر تھے، جنہوں نے نوشیرا میں تاریخی جیت حاصل کی تھی ۔ انہیں’’نوشیرا کا شیر ‘‘کہا جاتا ہے۔

بریگیڈیئر محمد عثمان کے بارے میں فوجی مؤرخین کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتے توبھارت کے پہلے مسلم آرمی چیف بھی بن سکتے تھے۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں ملکی فوج کا سربراہ بننے کی پیش کش کی تھی لیکن انہوں نے اپنی جان مادر وطن بھارت پر ہی نچھاور کرنے کو ترجیح دی تھی۔

بریگیڈیئر محمد عثمان 1948 کی ہند۔پاک جنگ کے دوران شہید ہوئے۔محمد عثمان اس وقت بھارتی فوج کے اعلیٰ ترین افسر تھے۔ انہیں بھارت میں سیکولرزم کی زندہ مثال قرار دیا گیا تھا۔ وہ جموں و کشمیر میں جنگ کے دوران 3 جولائی 1948ء کو جھانگر کے مقام پر پاکستان کے خلاف جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔ انہیں بعد از موت ملک کا دوسرا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز مہاویر چکر بھی دیا گیا تھا۔

نہرو سمیت کئی مہان ہستیوں نے دیا تھا کندھا: شہادت کے بعد جب ان کی میت کشمیر سے دہلی لائی گئی تھی تو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے ہر قسم کے پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے خود ان کا تابوت وصول کیا تھا۔ ان کی نماز جنازہ کے وقت گورنر جنرل سی راج گوپال آچاری، پہلے صدرجمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد،جواہر لا ل نہرو، ملکی کابینہ کے متعدد وزراء اور آرمی چیف بھی ذاتی طور پر موجود تھے۔ ان کی نماز جنازہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے پڑھائی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ15 جولائی 1912کو اس وقت کے متحدہ صوبہ جات (اب اتر پردیش) میںمئو کے بی بی پورگاؤں میں پیدا ہونے والے محمد عثمان، انگلینڈ کی سینڈ ہرسٹ رائل ملٹری اکیڈمی میں سن 1932ء میں داخلہ حاصل کرنے والے آخری بھارتی بیچ کے دس نوجوانوں میں سے ایک تھے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف محمد موسیٰ خان اور بھارتی آرمی چیف سیم مانک شا ان کے بیچ میٹ تھے۔سن 1935میں 23 برس کی عمر میں انہیں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔

پاکستان کی پیشکش کو کیا انکار:تقسیم ہند کے بعد جب بلوچ رجمنٹ پاکستانی فوج کا حصہ بن گئی، تو پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بریگیڈیئر محمد عثمان کو پاکستانی فوج میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے بھارتی آرمی کو ترجیح دی جس کے بعد انہیں بھارتی فوج کی ڈوگرا رجمنٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

بھارت کے سابق آرمی چیف اور مودی حکومت میں وفاقی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے اپنی کتاب ’’لیڈرشپ ان دی انڈین آرمی‘‘ میں بریگیڈیئر محمد عثمان کے بارے میں لکھا ہے، ’’محمد علی جناح اور لیاقت علی دونوں نے کوشش کی تھی کہ عثمان بھارت میں رہنے کا اپنا فیصلہ تبدیل کر دیں۔ انہوں نے انہیں فوراً ترقی کا لالچ بھی دیا۔ لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے تھے۔ بطور مسلمان ان میں کسی قسم کا مذہبی تعصب نہیں تھا۔ اپنی غیر جانبداری، ایمانداری اور مساوی رویوں جیسی خوبیو ں سے انہوں نے اپنے ماتحت سپاہیوں کا دل جیت لیے تھے۔ انہوں نے بریگیڈ میں ایک دوسرے سے بات چیت کے دوران ‘جے ہند‘ کہنے کی روایت بھی شروع کی تھی۔

’’نوشیرا کا شیر‘‘سن 1947 میں جب پاکستان نے قبائیلوں کی شکل میں مبینہ طور پر اپنے فوجیوں کوجموں و کشمیر میں داخل کیا اور انہوں نے جھانگر اور نوشیرا نامی علاقوں پر قبضہ کر لیا، تو بریگیڈیئر محمد عثمان کی قیادت میں بھارتی فوج نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے یہ مقبوضہ علاقے دوبارہ حاصل کر لئے تھے۔جب انہوں نے نوشیرا کو دوبارہ واپس لے لیا، تو انہیں ’’نوشیرا کا شیر‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگا اور وہ قومی ہیرو قرار پائے تھے۔

’’نوشیرا ‘‘کی جنگ کے بعد بریگیڈیئر عثمان کا ہر جگہ نام ہو گیا اور رات و رات وہ قومی ہیرو بن گئے۔ اس خطے کے کمانڈنگ افسر، میجر جنرل کلونت سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کر کے نوشہرہ کی کامیابی کا پورا سہرا کمانڈر بریگیڈیئر محمد عثمان کے سر باندھا۔ جب عثمان کو اس بارے میں پتا چلا تو انھوں نے کلونت سنگھ کو ایک خط لکھ کر اعتراض کا اظہار کیا۔انھوں نے لکھا کہ ’’اس جیت کے لیے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے جنھوں نے اتنی بہادری سے لڑتے ہوئے ملک کیلئے اپنی جان تک دے دی‘‘۔

دس مارچ 1948 کو میجر جنرل کلونت سنگھ نے جھانگرپر دوبارہ قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ اور بریگیڈیئر عثمان نے اپنے فوجیوں تک وہ مشہور حکم پہنچایا جس میں لکھا تھا’’پوری دنیا کی نگاہیں آپ کے اوپر ہیں۔ ہمارے ملک کے لوگوں کو آپ سے امیدیں ہیں اور ہماری کوششوں سے ان کی توقعات وابستہ ہیں۔ ہمیں انہیں ناامید نہیں کرنا چاہیے۔ ہم بنا خوف کے جھانگر پر قبضہ کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ ملک آپ سے امید کرتا ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری نبھائیں گے‘‘۔

پاکستان نے ان کے بعد ان کے سر پر 50 ہزار روپے کے انعام کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بریگیڈیئر محمد عثمان غالباً واحدبھارتی فوجی ہیں، جن کے سر کی اس دور میں پاکستانی فوج نے اتنی بڑی قیمت رکھی تھی۔ بریگیڈیئر محمد عثمان جھانگر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے دوران پاکستانی فوج کی ایک توپ کے گولے کا نشانہ بنے تھے۔ اس وقت ان کی عمر 36 برس سے بھی کم تھی۔شہادت کے بعد سرکاری اعزاز کے ساتھ برگیڈیر عثمان کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں دفنایا گیا۔

اپنی فوجی زندگی میں بے حد سخت مانے جانے والے برگیڈیئر محمد عثمان اپنی نجی زندگی میں میں بے حد انسان دوست اورخیرخواہ تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ غریب بچوں کی پڑھائی اور ضرورت مندوں پر خرچ کرتے تھے۔وہ ’’نوشیرا‘‘ میں یتیم پائے گئے 158 بچوں کی اپنی اولادوں کی طرح دیکھ بھال کرتے اور ان کو پڑھاتے لکھاتے تھے۔

ہم ان کے شہادت دیوس کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور حکومت ہند ، حکومت اترپردیش اور عام عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ برگیڈیئر محمد عثمان جن کی تاریخ پیدائش15 جولائی 1912اور شہادت کی تاریخ 3جولائی 1948 ہے، اس موقع پر ان کو یاد کیا جائے۔ اور ان کے نام سے یادگار کا قیام کیا جائے۔ جس سے عوام میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوں اوردیش کیلئے برگیڈیئر محمد عثمان کی خدمات اور قربانی سے متاثر ہوکر عام عوام میں بھی دیش کیلئے قربانی دینے کا جذبہ پیدا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button