مختلف نام: مشہور نام نیلوفر،گل نیلوفر۔ فارسی گل نیلوفر۔ عربی درد نیلوفر۔
شناخت: پانی کے قریب پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ایک قسم کنول ہے۔ اس کی وجہ سے اسے نیل پھل بھی کہتے ہیں یعنی پانی کا پھل ہے۔اس کا پھل زرد، سیاہ سفید، سیاہ بہ مائل بہ سفیدی ہوتا ہے۔ زرد پھول کا نیلوفر نایاب ہے۔ عام طور پر سفید کثرت سے ملتا ہے۔ اس کے پھل میں آٹھ پنکھڑیاں ہوتی ہیں جس کے پھول کی پانچ پتیاں سبزاور اندر کی تمام پتیاں بہت ہی سفید ہوتی ہیں۔ اس کا پھول رات میں کھلتا ہے اور دن کو بند رہتا ہے۔ پھول کی پتیاں جھڑ جانے پر گول پھل ظاہر ہوتا ہے۔ پھل کے اندر سیاہ رنگ کے گول اور چھوٹے بیج ہوتے ہیں۔ پھول کے اندر جو ننھے ننھے زیرہ گلاب کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ بیج کہلاتا ہے۔
مزاج: دوسرے درجہ میں سرد خشک، بعض حکماء تیسرے درجہ میں سرد اور دوسرے درجہ میں تر مانتے ہیں۔ نیلو فر کی جڑ میں سردی زیادہ ہے۔ پھول تمام اجزاء سے لطیف ہوتے ہیں۔ سرد ہونیکی وجہ سے دماغ کمزور کرتا ہے۔ مثانہ و طاقت کے لئے مضر ہے۔
مقدار خوراک: تازہ پھول 5 سے 7 عدد، بطور سفوف 3 سے 4 گرام، جڑ ایک سے دو گرام تک، بیج 3 گرام، اس کا جوشاندہ 20 سے 30 گرام تک استعمال کیا جاتا ہے۔
فوائد: مسکن حرارت، گرم، نزلہ، کھانسی اور سینے کی خشکی کو مفید ہے، صفراوی بخار اور سینہ کی خشکی میں نافع ہے۔
اسہال: تازہ کلیوں کا رس 3 گرام، مصری 10 گرام ملا کر پینے سے اسہال معدہ و امعاء کا جریان خون بند ہو جاتا ہے۔
خونی بواسیر: تازہ کلیوں کا رس 3 گرام، مصری 6 گرام، دونوں استعمال کریں۔ کانچ کا نکلنا بند ہو جاتا ہے۔
پیچش: جڑ نیلوفر 6 گرام، بیل گری 6 گرام ملا کر 50 گرام پانی میں جوش دیں اور باقی 25 گرام جوشاندہ رہنے پر پلائیں۔ دست و پیچش میں مفید ہے۔
اسقاط: جڑ نیلو فر 2 گرام، ناگ کیسر 2 گرام۔ دونوں کو پیس کر دودھ کے ساتھ دیں۔ مانع اسقاط ہے۔
کھانسی: پھول نیلوفر 1 کلو۔ حسب ضرورت بطریق معروف بذریعہ قرع انبیق 20 بوتل عرق کشید کریں، 100 گرام عرق نیلوفر 20 گرام شربت نیلوفر کے ساتھ استعمال کریں۔ دافع درد سر اور مقویٔ دل ودماغ ہے،صفراوی بخار اور چیچک میں مفید ہے۔
شربت نیلوفر: پھول نیلوفر 50 گرام، چینی 750 گرام، پھول کو حسب ضرورت رات بھر بھگو رکھیں۔ صبح چھان کر جوش دیں اور چینی شامل کر کے شربت تیار کر لیں۔ شربت 20 گرام، عرق گاؤ زبان 100 گرام کے ساتھ استعمال کرائیں۔مقوی دل، دافع حرارت و صفرا، نافع دردسر، کھانسی اور امراض سینہ میں مفید ہے۔ موسم گرما کی بیماریوں کا مجرب علاج ہے۔
گل قند نیلوفر: پھول نیلوفر پانچ سو گرام، چینی سفید ایک کلو۔ بدستور چینی کو پھولوں میں گوندھ کر گل قند تیار کریں، بیس گرام گل قند سو گرام، عرق سونف کے ساتھ کھائیں۔ کھانسی وسر درد کیلئے مفید ہے۔
ضماد نیلوفر: پھول نیلوفر، گل بنفشہ، پھول گلاب، پھول خطمی، ہر ایک برابر لے کر ان سب کو عرق گلاب میں پیس کر پیشانی پر لیپ کریں۔ درد سر کے لئے اور گرم امراض میں بے حد مفید ہے۔
شربت اعجاز (جدید): عناب ولائتی 40 عدد، لسوڑیاں 120 عدد، کتیرا، گوند کیکر ہر ایک 18 گرام، بی دانہ 30 گرام، ملیٹھی(چھلی ہوئی) تخم خطمی، تخم خبازی، پھول نیلوفر، بنفشہ ہر ایک 40 گرام، بانسہ کے پتے(تازہ خشک کئے ہوئے) ایک کلو، چینی 750 گرام۔گوند کیکروگوند کتیرا کے علاوہ سب دواؤں کو جوش دے کر صاف کر لیں اور بطریق معروف چینی کا قوام کریں اور گوند کیکر وکتیرا پیس کر شامل کریں۔ شربت دس گرام عرق گاؤ زبان 50 گرام میں ملا کر استعمال کریں۔ خشک کھانسی کے لئے مفید ہے اورسلودِق میں بہت ہی مفید ہے۔
شربت نیلوفر مرکب: پھول نیلو فر 50 گرام، بنفشہ 20 گرام، پھول گلاب 20 گرام، چینی ایک کلوسب ادویات کو ڈیڑھ کلو پانی میں جوش دیں۔ بارہ گھنٹہ کے بعد خوب مل چھان کر اس میں چینی ملا کر جوش دے کر شربت بنا لیں، 20 گرام شربت عرق گاؤزبان یا عرق سونف کے ساتھ استعمال کریں۔ مفرح ہے۔ گرمی و تشنگی کو دور کرتا ہے۔ فرحت بخش ہے۔ صفرادی بخار، خشکی سینہ و گرمی دل و جگر میں بہت ہی مفید ہے۔
بالوں کی حفاظت: گل نیلوفر، بنفشہ، خطمی، مہندی کے پتے برابر لے کر پانی میں جوش کے کر ٹھنڈا کر لیں اور سر کو دھو ئیں۔ بال گرنے سے بچے رہیں گے۔
عرق نیلو فر: مقوی دل و دماغ ہے، تشنگی بجھاتا ہے اور حرارت کو تسکین دیتا ہے۔ نزلہ، سر درد و احتلام کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔پھول نیلو فر1 کلو لیں اور ان کو دس کلو پانی میں رات کے وقت بھگو دیں، صبح کے وقت بدستور عرق کشید کر یں۔ 100 گرا م سے ایک بیس گرام عرق میں شربت نیلو فر 20 گرام ملا کر استعمال کریں۔
عرق ہرا بھرا: ٹی بی کے لئے مفید ہے۔ علاوہ ازیں پیشاب کی نالی کی سوجن اور دل کی پریشانی میں بھی مفید ہے۔صندل سفید، صندل سرخ، خس، پدماکھ(کوہ ہمالیہ کے ایک درخت کی لکڑی ہے۔)، ناگر موتھا، گلوئے تازہ، شا ہترہ، چھلکا نیم، گل نیلو فر، تخم کاسنی، سونف، تخم کدو، نیتر بالا(اسارون)، دھنیا ہر ایک 100 گرام، بیج تلسی 20 گرام، جڑ جوانسہ، جڑ دھمانسہ(دھمایا)، منڈی، ملیٹھی (چھلی ہوئی) ہر ایک 50 گرام، الائچی خورد، پوست ہر ایک 20 گرام۔جملہ ادویات کو رات کے وقت آٹھ گھنٹے پانی میں بھگو رکھیں، صبح کے وقت بدستور عرق کشید کریں۔ خوراک 60 گرام درق مناسب شربت یا مصری ملا کر پلائیں۔
کشتہ جات میں نیلوفر کا استعمال
کشتہ موتی: مردارید ناسفتہ (موتی) دس گرام کو ایک روز دودھ گائے اور دو گھنٹہ عرق نیلوفر میں کھرل کر کے پھول گاؤزبان کے 100 گرام نغدہ میں رکھ کر گل حکمت کر کے خشک ہو نے پر سات کلو اپلوں کی آگ دیں۔ اس طرح تین بار کریں، اس کے بعد سفوف بنا لیں۔ ایک رتی ہمراہ بالائی دیں، خفقان اور وحشت، کمزوری جگر، کمزوری معدہ ودل کی تقویت کے لئے ازحد مفید ہے۔
کشتہ عقیق: دس گرام عقیق سرخ وصاف لے کر اسے تیز گرم کر کے عرق نیلو فر وعرق کیوڑہ دودو سو گرام باہم ملا کر اس میں باربار بجھاؤ دیں۔ یہاں تک کہ عقیق کا رنگ سفید ہو جائے۔ پھر کنول گٹہ 250 گرام کو عرق نیلو فر کے ساتھ پیس کر نغدہ بنا لیں اور اس میں عقیق مصلی رکھ کر گل حکمت کریں۔ خشک ہونے پر 30 کلو اپلوں کی آگ دیں۔ ٹھنڈا ہونے پر پیس لیں، کبھی سفید، کبھی خاکستری رنگ کا کشتہ تیار ہو تا ہے۔ دل کی حرارت دور کرنے کے لئے دور تی خمیر گاؤزبان کے ساتھ کھلائیں، اوپر سے عرق بید مشک دیں، بواسیر و ٹی بی کا خون روکنے کے لئے چار رتی خمیرہ ابریشم کے ساتھ دیں، دل کی تقویت کے لئے دو رتی ہمراہ بالائی دیں۔
دیگر: پھول نیلوفر سرخ و شفاف دس گرام، کنول گٹہ گری، کیکر کی کچی پھلی، زخم حیات بوٹی، بھتل بوٹی، بھنگرہ بوٹی ہر ایک سو گرام۔ سب کو باریک پیس کر شراب برانڈی میں ملا کر نغدہ بنائیں، عقیق کو ریزہ ریزہ کر کے نغدہ میں رکھیں اور کوزہ میں گل حکمت کر کے 30 کلو اپلوں کی آگ دیں، کشتہ تیار ملے گا۔ ایک رتی بالائی میں دیں۔ شادی سے پہلے و شادی کے بعد کی کمزوری میں مفید ہے۔
افعال واستعمال: مقوی دل و دماغ مسکن حرارت صفراء کی تیزی کو توڑتاہے پیاس کو تسکین دیتاہے۔پھول کا سونگھنا گرم مزاجوں کو نافع ہے۔آنتوں کے زخم کو فائدہ کرتاہے۔سرخ پھول والی نیلوفرکی جڑ ابال کر مرض بواسیر میں بطور غذا کھلاتے ہیں نیز اس کے بیجوں کی کھیر پکاکرکھائی جاتی ہے۔گل نیلوفرکا جوشاندہ ورم حلق اور خناق میں غرغرے کرانے سے فائدہ ہوتاہے۔احتلام اور چیچک میں مفید ہے گل نیلوفر کا شربت‘ خیساندہ یا جوشاندہ دل و دماغ کو طاقت دیتا ہے۔پیاس اور حدت خون کو کم کرتاہے۔کھانسی سینہ کی خشونت اور خفقان کیلئے مفید ہے۔



