انجیر ایک خشک میوہ ہے اور اسے ہر موسم میں کھایا جا سکتا ہے۔ انجیر میں پائے جانے والے زیادہ تر غذائی اجزاء اس کے خشک ٹکڑوں میں ہوتے ہیں اس لیے خشک انجیر کا استعمال ہر موسم میں فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ انجیر کھانے کے کیا فائدے ہیں؟ ہم میں سے اکثر کو اس بارے میں بہت کم علم ہے۔اگر آپ اپنے میٹابولزم کو بڑھا کر وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انجیر آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ انجیر قوت مدافعت بڑھانے میں بھی بہت فائدہ مند ہے۔ غذائیت سے بھرپور یہ معجزاتی کھانا کسی بھی شکل میں کھایا جا سکتا ہے۔
ماہیت: انجیر کا پودا تقریباً چھ سے دس یا بارہ فٹ اونچا ہوتا ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک خودرو (جنگلی )دوسرا کا شت کیا ہوا۔ اس کی قلمیں عموماً ماہ پھاگن (فروری کے وسط اور مارچ کے شروع ) میں کاٹ کرتھوڑی دور لگائی جاتی ہیں۔دوسے تین سال تک پودامکمل ہوکرپھل دینے لگتا ہے اور اس کے ہر جز سے دودھ نکلتا ہے۔
پتے: بڑے اور کھردرے ہوتے ہیں۔
پھل: انجیر کا پودا ایک سال میں دوبارپھل دیتا ہے۔ پہلے مئی کے وسط میں اور جون کے پہلے دنوں جبکہ دوسرا پھل مارچ کے وسط میں اور اپریل کے شروع میں ، یہ گولر کی طرح گول گول نرم گولہ نما گچھوں میں لگتا ہے۔کچا پھل سبز اور پکنے میں شیر یں اور لذیذ ہوتا ہے۔انجیر کا پھل کچی اور سخت حالت میں پک کرنرم ہوجاتا ہے۔
مقام پیدائش: خیال کیا جاتاہے کہ انجیر ایشیا ئے کوچک میں سمرنا کے مقام کی پیداوار ہے۔ افغانستان، ایران، بلوچستان اور جاپان میں اس کو تجا رتی لحاظ سے کاشت کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں انجیر کی کا شت اتنی نہیں ہوتی کہ عوام کی ضروریا ت پوری ہوسکے۔ تاریخ سے معلو م ہوتا ہے کہ برصغیر میں انجیر ایران اورعرب سے آنے والے اطباء نے بویا، اس سے قبل انجیر یہاں نہیں پائی جاتی تھی۔
انجیرکا مزاج: گرم وسردمعتدل کامزاج تروتازہ، شرینی کی وجہ سے تھوڑا ساگرم اور ماہیت کی زیادتی کے حکیم ارشد ملک نے انجیرکا مزاج تروتازہ اور زیادتی کا مزاج باعث لکھا ہے جبکہ مخزن الادویہ میں گرم ایک تر دوسرے درجے میں ہے لیکن طبی فارما میں انجیر کا مزاج صرف گرم تر لکھا ہے۔
رنگت: کچاbپھل سبز پکنے پر سرخی مائل بھورا یا جامنی ہو تا ہے۔
ذائقہ: شیریں۔
افعال: جالی، منفث، بلغم، مدربول، منفج اورام، محلل، مقوی ومسمن بدن، ملین شکم ، معرق ملطف اورمعقدی ،قطع بواسیراورنقرس۔
افعال خواص: کثیرالقداء اورسریع الہضم ہے۔ خشک انجیر گرم اور لطیف ہے۔ اس سے رقیق خون پیدا ہوتا ہے۔ انجیرتمام میوہ جا ت سے زیاد ہ سے زیا دہ غذا بخش ہے۔ یہ گرم تر ہونے کی وجہ سے منفج ہے اور حرارت ورطوبت کے علاوہ گودے والاانجیرزیادہ منضج دیتاہے۔ اوراس انتہا درجہ کی قوت تلیسین ہے۔ پسینہ لاتی ہے حرارت کو تسکین دیتاہے۔
انجیرکا دودھ جمے ہوئے خون اور دودھ کو پگھلادیتا ہے۔ انجیر کی حرارت، رطوبت اور لطافت کی وجہ سے اس کا ضماد پھوڑوں کو پکاتا ہے۔ اور جو پیاس بلغم شور کی وجہ سے ہو اس کو تسکین دیتا ہے۔ کیونکہ یہ بلغم کو پگھلاتا ہے۔ اوررقیق کرتا، جس کی وجہ سے پرانی کھانسی میں مفید ہے۔ جو کھانسی محض بلغم کی وجہ سے ہو انجیر تنقیہ کرکے پرانی کھانسی کونفع کرتاہے۔ انجیر اپنی قوت تفنج اورجلا کے باعث پیشاب کا ادرارکرتا ہے جگر اورطحال کے سدوں کودفع کردیتا ہے۔یہ گردے اور مثا نے کے لئے موافق ہے۔ انجیر نہارمنہ کھانے سے مجارئی غذا کے کھولنے میں عجیب منفعت حاصل ہے۔ خصوصاً جبکہ اس کو بادام یا اخروٹ کے ساتھ کھایا جائے ۔
استعمال: حلق کی خشونت کودورکرتا ہے۔ قبض کو کھولتا ہے۔ معرق ہونے کی وجہ سے فضلا ت کو جلد کی طرف خارج کرتا ہے۔ اس لئے چیچک، خسرہ، موتی، جھرہ کے دانے جلد پر یعنی با ہرنکالتا ہے۔مغزاخروٹ کے ہمراہ کھاناتقویت باہ کیلئے بہتر بیان کیا جا تاہے۔
محلل کے بطو رسفوف سکنجین کے ساتھ تلی کے ورم میں مفیدہے جبکہ انجیر کو پانی میں جوش دے کرغرغرہ کے طورپرخناق کو مفید ہے۔بطورضماد خنا زیری گلٹیوں پر لگا نا مفید ہے اورمعجون کے طور پر استعمال کرنے سے ورم رحم ومقعدکے علاوہ بواسیر کے دردکوبھی مفید ہے۔
جالی ہونے کی وجہ سے امراض جلدیہ میں اور خاص طور پرچھیپ میں، برص اور کلف میں ضماداًمفید ہے۔حکیم رام لبھایا لکھتے ہیں کہ انجیر اورصعتر کا جو شاندہ پلانے سے بلغم کوصاف کرتا ہے۔ جبکہ نسیان میں انجیر کے ساتھ بادام ، پستہ یا مغز یا ت کا استعمال مفیدو مقوی دماغ ہے۔
انجیرکا قرآن پا ک میں ذکر
ترجمہ: قسم ہے انجیر اور زیتون کی اورطورسیناکی اس امن والے شہر کی کہ ہم نے انسان کو بہترین انداز کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
انجیر کے بارے میں ارشاد نبوی: حضر ت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے انجیر سے بھرا ہوا تھال آیا۔ انہوں نے ہمیں فرمایا کہ ،کھاؤ ، ہم نے اس میں سے کھایا اور پھر ارشاد فرمایا اگرکوئی پھل جنت سے زمین پر آسکتا ہے تو میں کہوں گا کہ یہی وہ پھل ہے کیو نکہ بلا شبہ جنت کا میو ہ ہے۔اس میں سے کھاؤ کہ یہ بواسیر کو ختم کر دیتی ہے اور نقرس (میں مفید ہے )۔
کتب مقدسہ میں انجیر کی اہمیت
توریت اورانجیل میں انجیر کا ذکر مختلف مقامات پر 49 مرتبہ کیا گیا ہے۔تب درختوں نے انجیر کے درخت سے کہاکہ توآؤاورہم پرسلطنت کر، پر انجیر کے درخت نے کہا میں اپنی مٹھاس اور اچھے اچھے پھلوں کوچھوڑکر درختوں پرحکمرانی کرنے جاؤں۔انجیر کے درختوں میں ہر انجیر پکنے لگا اور تاکیں پھوٹنے لگیں۔انکی مہک پھیل رہی تھی۔
انجیر کے بارے میں محدثین کے مشاہدات
حافظ ابن قیم لکھتے ہیں کہ انجیر ارض حجازاور مدینہ میں نہیں ہوتی بلکہ اس علا قہ میں عام پھل صرف کھجور ہی ہے لیکن اللہ نے قرآن پاک میں اس کی قسم کھائی ہے اوراس امرمیں کوئی شک نہیں کہ اس سے حاصل ہو نے والی افادیت اورمنافع بے شمار ہیں۔اس کی بہترین قسم سفید ہے۔یہ گردہ اور مثانہ سے پتھر ی کوحل کرکے خارج کر تی ہے۔
انجیر بہترین غذا ہے اور زہروں کے اثرات سے بچاتی ہے۔ حلق کی سوزش، سینے میں بوجھ،پھیپھڑوں کی سوجن میں مفید ہے اورجگر اورتلی کی اصلاح کرتی ہے۔ بلغم کو پتلا کر کے نکالتی ہے۔جالینوس نے کہا کہ انجیر کے ساتھ جوزبواء اوربادام ملا کرکھالئے جائیں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اس کاگودا بخا ر کے دوران مریض کے منہ کو خشک نہیں ہونے دیتا ہے۔ نمکین بلغم کو پتلا کرکے نکالتی ہے۔ گردہ اور مثانہ کی سوزشوں کیلئے مفید ہے۔
انجیر کو نہارمنہ کھانا عجیب وغریب فوائد کا حامل ہوتاہے۔کیونکہ یہ آنتوں کے بند کھولتی، پیٹ سے ہوا نکالتی ہے۔اس کے ساتھ اگر بادام بھی کھائے جائیں تو پیٹ کی اکثر بیما ریو ں کو دور بھگاتی ہے۔
نفع خاص: موتی جھرہ، جدری وغیرہ میں دانوں کوظاہرکرنے کیلئے مفید ہے۔ ملین طبع اور مدر بول، قبض ،دمہ ،سعال، کھانسی کے علاوہ رنگت کو نکھارتا ہے۔ اورجسم کوفربہ کرتاہے۔ تلی کی صلابت وورم میں مفید ہے۔
مضر: طبی فارما کے مطابق جگرہ معدہ وآنت،سدہ و جگر کو۔
مصلح: سکنجین ،شربت ترنج ، انیسون،صعتر فارسی ،بادام شریں۔
بدل: موویزمنقیٰ ،مغز چلغوزہ۔
مقدارخوراک: دوسے تین دانے، شربت اور جوشاندہ میں مستعمل ہے۔ جدری اور دیگرمستعدی امراض میں دو سے تین خشک انجیر کھلائیں۔قبض کیلئے کم ازکم پانچ خشک انجیر ، جبکہ بواسیر کیلئے میرا خود ذاتی تجربہ ہے کہ تین پانچ یاسات عدد دانے دینے سے درد کوفوری آرام آتا ہے۔ پیٹ سے ریا ح کو خارج کرتاہے۔ جدید تحقیق اور تجربہ: مذکورہ کیمیا وی اجزاء کے علا وہ وٹامن اے اور و وٹامن سی کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک نہا یت مفید غذااوردواء ہے۔ اس لئے عام کمزوری اوربخاروں میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا۔ بو اسیرمیں انجیر خشک کو عام طور پر چارماہ سے دس ماہ تک استعمال کرنے سے مسے خشک ہوجاتے ہیں۔
اگربواسیر کے ساتھ بدہضمی زیادہ ہوتوہرکھانے سے پہلے آدھ گھنٹہ پہلے دوسے تین انجیر کھلائی جائے۔ جن کوصرف پیٹ میں بوجھ ہو تو ان کو کھا نے کے بعد انجیر کھا نی چائیے۔ انجیر پرانی قبض کا بہترین علاج ہے۔اس کے گودے میں پائے جانے والا دودھ ملین اور چھوٹے چھوٹے دانے پیٹ کے حموضات میں پھول کر آنتوں میں حرکات پیدا کرنے کاباعث ہوتے ہیں۔
انجیر خوراک کوہضم کرنے اور آنتو ں کی سڑاندختم کرتی ہیں۔ انجیر خون کی نا لیوں میں جمی ہوئی غلاظتو ں کو نکال سکتی ہے اور اسکی افادیت کو آپ نے بواسیرمیں پھولی ہوئی وریدوں کی اصلا ح کرنے کیلئے استعمال فرمایا۔ خون کی نالیوں میں موٹائی آجائے تو انجیر اس مشکل کا آسان حل ہے۔ انجیر گردوں کے فیل ہونے کے علاوہ خشک انجیر کو جلا کردانتوں پرمنجن کیا جائے تو دانتوں سے رنگ اور میل کے داغ اترجاتے ہیں۔ انجیر کے تازہ پھل سے نچوڑ کر اگر مسوں پر لگایاجائے تو وہ گرجاتے ہیں۔ اس کے پتے پھوڑوں کو پکا نے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
انجیرکوخشک کرنے کا طریقہ خشک کرنے کے لئے انجیر کو اس وقت تک پودے پر رہنے دیا جا تا ہے کہ جب تک وہ خوب پک کر زمین پر گر جائے کیونکہ اس مرحلہ تک تقریباً تین چار حصہ تک خشک کیا جاتا ہے۔پھر ان کو کشتیوں میں ڈبوکر رکھ کر جما لیا جاتا ہے پھر ان پر گندھک کے مرطوب دخان پر 20 سے 30 منٹ تک گزارا جا تا ہے۔
پھر ان کو لکڑی کی کشتیوں میں رکھ کر دھو پ میں رکھتے ہیں اور 5 سے7 دن تک ان کو الٹ پلٹ کرتے ہیں۔خشک ہونے سے کچھ قبل ان کو دبا کر چپٹا بنا لیا جاتاہے بعد میں ان کو نمک کے محلول میں ڈبولیا جاتا ہے جس سے ان میں نرمی اور ذائقہ برقراررہتا ہے۔
انجیر کا استعمال کیسے کرنا چاہیے؟
انجیر کو کچے پھل کے طور پر کھایا جا سکتا ہے، اسے خشک کرنے کے علاوہ بھی کھایا جا سکتا ہے۔ دونوں یکساں طور پر غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خشک انجیر میں پانی کی مقدار نہیں ہوتی۔ کچھ آیورویداچاری خشک انجیر کو دودھ میں ابال کر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انجیر کو پانی میں بھگو کر کھانا بھی فائدہ مند ہے۔ خام اور خشک انجیر میں پروٹین، فائبر، صحت بخش چکنائی، کیلشیم، پوٹاشیم، آئرن اور کاپر کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
اگر آپ وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انجیر آپ کے لیے بہت اچھا ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ اسے بطور پھل یا خشک کھا سکتے ہیں۔ بازار میں خشک انجیر بھی دستیاب ہیں۔ انجیر آپ کے میٹابولزم کو بڑھا کر وزن کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اگر آپ سخنجن کھا رہے ہیں تو اسے رات کو بھگو دیں اور صبح خالی پیٹ اچھی طرح چبا کر کھا لیں۔ وہ فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں اور ہضم کرنے میں بھی آسان ہوتے ہیں۔ انجیر میں کیلوریز کم ہوتی ہیں۔
اسٹیمینا بڑھانے میں انجیر کے فائدے
انجیر میں موجود آئرن اور پوٹاشیم جسمانی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جو کہ دن بھر لوگوں کو تھکاوٹ میں مبتلا رکھتے ہیں۔ آپ اپنے دن کی شروعات بھیگی ہوئی انجیر سے کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ صبح دودھ پینا پسند کرتے ہیں تو انجیر کو دودھ میں ابال کر صبح سویرے ایک گلاس پینے سے جسم میں توانائی برقرار رہے گی۔ یہ جم کرنے والوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
ایک دن میں انجیر کی صحیح مقدار کتنی ہے؟
اگر آپ انجیر کو اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن میں کتنی مقدار میں انجیر کھانا چاہیے۔ انجیر کو ضرورت سے زیادہ کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگر آپ انجیر کو کچے پھل کی شکل میں کھا رہے ہیں تو دو سے تین پھل کافی ہیں۔ اگر انجیر خشک ہو جائیں تو تین انجیروں کو رات بھر پانی میں بھگو دیں اور صبح کھالیں۔ انجیر کھانے کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ یہ بلڈ شوگر لیول، جگر اور ہاضمے کے مسائل اور خون سے متعلق مسائل کو دور کرنے میں بھی مددگار ہے۔
نوٹ: حکیم کبیرالدین نے لکھا ہے کہ انجیر معدہ وجگر اورآنتوں کیلئے مضر ہے مگر اچھے استعمال سے اور ڈاکٹر اور حکیم کے مشورے سے یہ اچھا بھی ثابت ہوتا ہے۔



