سرورقفلمی دنیا

عامر خان کی فلم کے لیے کرینہ کپور کو آڈیشن کیوں دینا پڑا؟

ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کرینہ کپور خان نے سنہ 2000 میں جے پی دتہ کی فلم رفیوجی سے اپنا کریئر شروع کیا تھا اور اب انھیں اس صنعت میں 22 برس ہوچکے ہیں۔گذشتہ دو دہائیوں میں کرینہ کپور نے اپنی کامیابی اور شہرت برقرار رکھی ہے۔کرینہ نے اب سے پہلے کبھی بھی فلموں کے لیے آڈیشن نہیں دیا تھا تاہم لال سنگھ چڈھا کے لیے عامر خان نے ان کا آڈیشن لیا کیونکہ وہ فلم کی کاسٹ کے بارے میں بالکل پراعتماد ہونا چاہتے تھے۔

کرینہ، عامر خان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر تقریباً 10 برس بعد کام کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عامر خان ان اسٹارز میں سے نہیں ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر فلم میں بنا رہا ہوں تو میرا اس میں ہونا ضروری ہے، بلکہ وہ فلم کے ساتھ مخلص رہتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو فلم کے لیے درست ہوتا ہے۔اُنھوں نے چار گھنٹے تک کرینہ کپور کو فلم کی کہانی پر بریف کیا اور آڈیشن میں عامر خان نے یہ دیکھنا چاہا کہ کیا کرینہ درمیانی عمر کا کردار نبھا سکیں گی یا نہیں۔ اس کے بعد ہی وہ اس فلم کا حصہ بن پائیں۔

کرینہ کپور کو حمل کے دوران کام کرنے پر بھی اکثر و بیشتر تعریف و توصیف ملتی رہی ہے کہ کیسے اُنھوں نے حمل کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں کو کیمرے کے سامنے بھی اپنائے رکھا۔لال سنگھ چڈھا کی شوٹنگ کے دوران عالمی وبا کے باعث لاک ڈاؤن تھا۔ اسی دوران وہ دوسری بار ماں بن گئیں مگر اُنھوں نے کام کرنا جاری رکھا۔ کرینہ کپور کا ماننا ہے کہ یہی ایک عورت کی طاقت ہے۔بی بی سی سے گفتگو میں وہ کہتی ہیں کہ ‘اگر آپ کو کام کرنا پسند ہے تو کام کریں۔ ایسا کچھ نہیں ہے جو ہم (عورتیں) نہیں کر سکتیں۔کرینہ کپور کا ماننا ہے کہ گانوں، سیکس، آئٹم نمبرز وغیرہ جیسے فارمولوں پر مبنی فلموں کا دور جا چکا ہے۔حال ہی میں جنوبی انڈین سنیما کی فلموں آر آر آر، کے جی ایف 2، اور پشپا نے ہندی فلموں سے زیادہ بہتر کمائی کی ہے اور شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔

کرینہ کپور جنوبی انڈین فلموں کے بارے میں کہتی ہیں کہ ‘جنوبی فلموں کی ایک کہانی ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ دو گانے چلیں، پھر ایک منظر آئے، اور پھر ہیروئن ولن کے دروازے پر ناچ رہی ہو۔جنوب کی فلموں میں ایسا ہوتا بھی ہے تب بھی ان میں ایک کہانی ہوتی ہے۔ میں نے باہوبلی دیکھی ہے، کیا زبردست آرٹ، ویژوئل افیکٹس ہیں اور کیا زبردست کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جو شائقین کی توجہ کھینچتی ہے۔کرینہ کہتی ہیں کہ ‘آج کا دور کہانی اور اداکاروں کا ہے، سٹارز کا نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب فلموں میں سٹارز سے زیادہ فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی فارمولا فلمیں کام کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button