سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

بالی ووڈ کے بے مثال ویلن: امجد خان کی زندگی، اداکاری اور لازوال کردار ’’گبر سنگھ‘‘

امجد خان کا ابتدائی سفر اور فنی پس منظر

امجد خان – ایک ناقابل فراموش اداکار

بالی ووڈ کی سپر ہٹ فلم ’’شعلے‘‘ کے کردار ’’گبر سنگھ‘‘ نے امجد خان کو فلم انڈسٹری میں ایک ایسی منفرد شناخت دلائی، جس کا ثانی آج تک کوئی نہیں ہے۔ اس فلم میں گبر سنگھ کے کردار کے لیے پہلے ڈینی کا نام تجویز کیا گیا تھا۔ فلم شعلے كے گبر سنگھ والا کردار ڈینی کو دیا گیا تھا، لیکن اس وقت فلم ’’دھرماتما‘‘ میں کام کرنے کی وجہ سے انہوں نے شعلے میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ شعلے کے اسکرپٹ رائٹر سلیم خان کی سفارش پر رمیش سپی نے امجد خان کو گبر سنگھ کا کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔

جب سلیم خان نے امجد خان سے فلم شعلے میں گبر سنگھ کا کردار ادا کرنے کو کہا تو پہلے تو وہ گھبرا گئے، لیکن بعد میں انہوں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور چمبل کے ڈاکوؤں پر بنی کتاب ابھیشپت چمبل کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو ان کا ادا کردہ کردار ’گبر سنگھ‘ اس قدر مقبول ہوا کہ لوگ ان کی آواز اور چال ڈھال کی نقل کرنے لگے۔


اداکاری وراثت میں ملی

12 نومبر 1940 کو پیدا ہونے والے امجد خان کو اداکاری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد جینت فلم انڈسٹری میں معروف ویلن رہ چکے تھے۔ انہوں نے بطور اداکار اپنے کیریئر کا آغاز 1957 میں فلم ’’اب دہلی دور نہیں‘‘ سے کیا، جس میں انہوں نے چائلڈ اسٹار کا کردار نبھایا۔


پہلا بریک اور شعلے کی کامیابی

سال 1965 میں ان کی ہوم پروڈکشن فلم پتھر کے صنم کے ذریعے اداکاری کا آغاز ہونا تھا، لیکن یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ 1973 میں فلم ’ہندوستان کی قسم‘ سے انہوں نے بطور اداکار آغاز کیا، مگر شناخت نہ بنا سکے۔ اس دوران تھیٹر میں ان کی شاندار اداکاری دیکھ کر سلیم خان نے انہیں ’شعلے‘ کے لیے کاسٹ کرنے کی سفارش کی، جو اُن کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔


شطرنج سے قربانی تک

فلم ’شعلے‘ کی کامیابی کے بعد امجد خان کا فلمی کیریئر روشن ہو گیا۔ 1977 میں ستیہ جیت رے کی فلم شطرنج کے کھلاڑی میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ 1980 میں فیروز خان کی فلم قربانی میں مزاحیہ کردار ادا کرکے ایک نئے پہلو سے سامنے آئے۔


لاوارث، یارانہ اور فلم فیئر ایوارڈز

1981 کی فلم لاوارث میں امیتابھ کے والد کا سنجیدہ کردار ادا کیا۔ اسی سال فلم یارانہ میں امیتابھ کے دوست کا کردار نبھایا، اور "بشن چاچا کچھ گاؤ” نغمے سے بچوں میں بے حد مقبول ہوئے۔ انہیں فلم دادا (1979) اور یارانہ (1981) کے لیے بہترین سپورٹنگ ایکٹر کے فلم فیئر ایوارڈز ملے، جبکہ ماں قسم (1985) کے لیے بہترین مزاحیہ اداکار کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔


ہدایت کاری کا سفر اور صحت کی خرابی

امجد خان نے 1983 میں فلم چور پولیس کے ذریعے ہدایت کاری کا آغاز کیا، جو ناکام رہی۔ 1985 میں فلم امیر آدمی غریب آدمی بھی باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔ 1986 میں ایک حادثے کے بعد ان کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ دوائیوں کے مسلسل استعمال سے ان کا وزن بڑھتا گیا اور وہ بیمار رہنے لگے۔


آخری دور اور ناتمام خواب

1990 کی دہائی میں انہوں نے فلموں میں کام کم کر دیا۔ وہ امیتابھ کے ساتھ فلم لمبائی چوڑائی بنانا چاہتے تھے، جو مکمل نہ ہو سکی۔ امجد خان نے تقریباً تین دہائیوں تک فلمی دنیا میں شاندار خدمات انجام دیں۔


وفات

27 جولائی 1992 کو امجد خان کا انتقال ہوا۔ وہ نہ صرف بہترین ویلن تھے بلکہ ایک ورسٹائل اداکار بھی تھے، جن کی اداکاری آج بھی لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔


بالی ووڈ کے عظیم مزاحیہ اداکار مکری: چھوٹے قد، دبی مسکراہٹ اور منفرد مکالموں کے مالک

متعلقہ خبریں

Back to top button