سرورقسوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

پاکستانی نژاد کے پہلے مسلم آسٹریلیائی بہترین بلے باز-عثمان طارق خواجہ✍️سلام بن عثمان،کرلاممبئی 70

عثمان طارق خواجہ پاکستان کے شہر اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔ جب وہ پانچ سال کے تھے اس وقت ان کے خاندان نیو ساؤتھ ویلز آسٹریلیا ہجرت کی۔ وہ پاکستانی نژاد پہلے آسٹریلوی بنے اور کرکٹ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ جب انہوں نے 2010-11 کی ایشز سیریز کے ذریعے کرکٹ کھیلی۔ عثمان خواجہ نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کرنے سے پہلے نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی سے ہوا بازی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ عثمان خواجہ نے اپنے ڈرائیونگ لائسنس سے پہلے اپنا بنیادی پائلٹ لائسنس حاصل کر لیا تھا۔ ان کی تعلیم ویسٹ فیلڈز اسپورٹس ہائی اسکول میں ہوئی۔ انھیں کرکٹ کے میدان میں "عژی” عرفیت ملی۔

عثمان خواجہ بائیں ہاتھ کے بہترین افتتاحی بلے باز کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ عثمان خواجہ کو 2005 میں "پلیئر آف دی آسٹریلین” انڈر 19 چیمپیئن شپ کے وقت اعزاز سے نوازا گیا، عثمان خواجہ ایک افتتاحی بلے باز کے طور پر سری لنکا میں 2006 کے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے لیے بھی کھیلے۔ انھوں نے 2008 میں نیو ساؤتھ ویلز بلیوز کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ اسی سال عثمان خواجہ نے NSW سیکنڈ الیون کے لیے لگاتار ڈبل سنچریاں بنائیں۔

ایسا کارنامہ جو پہلے کبھی کسی NSW کھلاڑی نے حاصل نہیں کیا۔ 22 جون 2010 کو آسٹریلیائی کرکٹ بورڈ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ عثمان خواجہ پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے دورہ کرنے والے اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ 2011 سے لے کر فروری 2022 تک، عثمان خواجہ بگ بیش لیگ میں سڈنی تھنڈر کے لیے کھیلتے تھے۔ وہ 172.50 کی اوسط کے ساتھ دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کی فہرست میں شامل ہوئے۔ انھوں نے 345 رنز کی بہترین اننگ کھیلی۔

عثمان خواجہ نے 2011 کے انگلش ڈومیسٹک سیزن میں کاؤنٹی سائیڈ ڈربی شائر کے لیے کھیلنے کا معاہدہ کیا۔ انھوں نے کاؤنٹی چیمپئن شپ کے چار میچ کھیلے، بہترین بلے بازی میں 39.87 کی اوسط سے اور کینٹ کے خلاف 135 رنز کی بہترین اننگ کھیلی۔ اپنے کاؤنٹی عہد کے بعد انہوں نے 2011 میں مزید پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے، جنوبی افریقہ کے خلاف 65 رنز کی عمدہ بلے بازی کی۔

لنکا شائر نے عثمان خواجہ کو 2014 کے کاؤنٹی سیزن کے لیے تمام فارمیٹس کے لیے بطور اوورسیز کھلاڑی سائن کیا۔ عثمان خواجہ نے ڈرہم کے خلاف اپنے ڈیبیو پر بہترین 86 رنز بنائے۔ وہ برسبین میں ویلی ڈسٹرکٹ کرکٹ کلب کے لیے کلب کرکٹ میں بھی شامل رہے۔ اگست 2015 میں، عثمان خواجہ کو سابق کپتان جیمز ہوپس کی جگہ کوئنز لینڈ کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا۔

اپریل 2018 میں، انھیں گلیمورگن کاؤنٹی کرکٹ کلب نے انگلینڈ میں 2018 وائٹلٹی بلاسٹ ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے سائن کیا ۔ اپریل 2021 میں، انہیں اسلام آباد یونائیٹڈ نے 2021 پاکستان سپر لیگ میں دوبارہ شیڈول میچز کھیلنے کے لیے سائن کیا۔ فروری 2022 میں، عثمان خواجہ نے "خاندانی وجوہات” کا حوالہ دیتے ہوئے سڈنی تھنڈر کے ساتھ اپنے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی۔

3 جنوری 2011 میں عثمان خواجہ 419 ویں آسٹریلوی کرکٹرز بن گئے جنہیں آسٹریلیائی کرکٹ ٹیسٹ بیگی گرین کیپ پیش کی گئی۔ عثمان خواجہ آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے پہلے مسلمان اور پہلے پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی کے طور پر میدان میں نظر آئے۔ گزشتہ 80 سالوں میں ایسے ساتویں غیر ملکی نژاد کرکٹروں میں ان کا شمار ہے۔ عثمان خواجہ نے نومبر 2015 کو نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 16 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 174 رنز بنائے۔

انہوں نے یہ واپسی اپنے دسویں ٹیسٹ میں مطلوبہ نمبر 3 پوزیشن پر کی، جس سے آسٹریلیا کو زبردست فتح حاصل ہوئی۔ انہوں نے آسٹریلیا کے لیے 31 جنوری 2016 کو ہندوستان کے خلاف اپنا ٹی 20 انٹرنیشنل ڈیبیو کیا۔ عثمان خواجہ نے گھریلو سرزمین پر ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کی ایک اننگ میں ٹیسٹ سنچری بنانے والے پہلے بلے باز بننے کا ریکارڈ قائم کیا اور ایک دن میں دوسرے سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا ریکارڈ بھی ان کے پاس ہے۔

جنوری 2017 میں عثمان خواجہ نے سڈنی میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اپنی نصف سنچری کا جشن منایا۔ ان کے اس اقدام پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے 2018 میں دبئی میں پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف میچ بچانے والی زبردست اننگ کھیلی۔ انہیں 2019 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے آسٹریلیا کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ آسٹریلیا کے آخری گروپ مرحلے کے میچ میں، جنوبی افریقہ کے خلاف خواجہ کو ہیمسٹرنگ کی انجری ہوئی، جس سے وہ باقی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔

انہیں انگلینڈ میں 2019 کی ایشز سیریز کے لیے آسٹریلیا کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ سیریز میں انھوں نے 13، 40، 36، 2، 8 اور 23 رنز بنائے، سیریز میں ناکام نظر آئے جس کی وجہ سے انھیں چوتھے ایشز ٹیسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ 16 جولائی 2020 کو عثمان خواجہ کو آسٹریلیائی کھلاڑیوں کے 26 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں نامزد کیا گیا تھا۔ مگر کسی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ جنوری 2022 میں عثمان خواجہ نے ایک طویل وقفے کے بعد، SCG میں ایشز کے چوتھے ٹیسٹ میں بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی،۔ اور بالترتیب 137 اور ناٹ آؤٹ 101* کے ساتھ بہترین دو سنچریاں بنائیں۔

اس کے بعد انھیں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے لیے منتخب کیا گیا۔ وہ سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے۔ جنہوں نے 165.33 کی اوسط سے 496 رنز بنائے، اس کارکردگی نے انہیں سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ انہوں نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں 97 رنز بنائے۔

اس کے بعد انہوں نے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں 160 اور دوسری اننگ میں ناٹ آؤٹ 44* رنز بنائے۔ تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں، انھوں نے 91 اور دوسری اننگ میں ناٹ آؤٹ 104* رنز بنائے، جس سے آسٹریلیا کو سیریز کے آخری میچ میں فتح ملی اور اس طرح مجموعی طور پر سیریز میں بھی فتح حاصل ہوئی۔

عثمان خواجہ نے ٹیسٹ میچوں میں 12 اور ون ڈے انٹرنیشنل میں دو سنچریاں اسکور کیں۔ ان کا اب تک کا سب سے زیادہ ٹیسٹ اسکور 174 رنز ہے۔ نومبر 2015 میں دی گابا برسبین میں نیوزی لینڈ کے خلاف بنا اور مارچ 2019 میں جے ایس سی اے انٹرنیشنل اسٹیڈیم، رانچی میں ان کا سب سے زیادہ 104 رنز ون ڈے اسکور ٹیم انڈیا کے خلاف بنایا۔

عثمان خواجہ نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 3 جنوری 2011 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔ پہلا یک روزہ بین الاقوامی میچ 11 جنوری 2013 میں سری لنکا کے خلاف۔ پہلا ٹی20 میچ 31 جنوری 2016 میں ٹیم انڈیا کے خلاف کھیلا۔ مجموعی طور پر عثمان خواجہ کی کارکردگی دیکھنے میں واضح طور سامنے ہے کہ تمامی پہلا میچ نئے سال کے آغاز جنوری سے کیا ہے۔ عثمان خواجہ نے 51 ٹیسٹ میچوں میں 3775 رنز بنائے، جس میں بارہ سنچریاں اور 17 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین کارکردگی 174 رنز کی رہی اور 41 بہترین کیچیز۔

40 یک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 1554 رنز میں دو سنچریاں اور 12 نصف سنچریوں کے ساتھ 104 رنز کی بہترین اننگ اور 13 شاندار کیچیز۔ 173 فرسٹ کلاس میچوں میں 11935 رنز کی بہترین اننگ کھیلی جس میں 36 سنچریوں کے ساتھ 56 نصف سنچریاں جس میں بہترین اسکور 214 رنز اور بیش قیمتی 137 کیچیز۔ 123 لسٹ اے محدود اوورز میچوں میں 5226 رنز بنائے جس میں 14 سنچریاں اور 30 نصف سنچریوں کے ساتھ بہترین کارکردگی رہی 166 رنز کی اور 45 کیچیز۔

سلام بن عثمان

متعلقہ خبریں

Back to top button