سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

1857ء کی ’جنگ آزادی‘: پھانسی دینے کے باوجود انگریزوں کو تاتیا ٹوپے کی موت کا یقین کیوں نہ آیا؟

یہ سنہ 1863 کی بات ہے۔ اس وقت کے میجر جنرل جی ایس پی لارنس نے انڈین حکومت کے سیکریٹری کو لکھا تھا ’ہمارے 40 ہزار فوجی ’اصلی‘ تاتیا ٹوپے اور اُن کے پانچ ہزار فوجیوں کی گرفتاری کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘تاتیا ٹوپے کے ساتھ جنگ اور اُن کی موت کے تقریباً چار سال بعد بھی انگریزوں کو یقین نہیں آیا تھا کہ تاتیا ٹوپے کی موت واقع ہو چکی ہے۔

تاتیا ٹوپے سنہ 1857 کی جنگ آزادی (یا انگریزوں کے خلاف ہونے والی بغاوت) کے اہم رہنما تھے اور برطانوی افواج کے لیے دردِ سر بن چکے تھے۔تاتیا ٹوپے کی موت کے بارے میں اس طرح کی داستانیں اُس دور میں ضرور معروف رہی ہوں گی کیونکہ چند لوگوں کا خیال تھا کہ تاتیا ٹوپے کو کبھی بھی اور کوئی بھی نہیں مار سکتا۔آج شاید اس کی تصدیق ممکن نہیں ہے لیکن برطانوی میجر جنرل کے خط سے یہ بات ظاہر ہے کہ تاتیا ٹوپے برطانوی سلطنت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکے تھے۔

سنہ 1857 کی جنگِ آزادی کو آج تقریباً 165 سال پورے ہونے کو آ رہے ہیں لیکن تاتیا ٹوپے کی موت کے بارے میں اب بھی بہت سارے سوالات موجود ہیں اور اسی وجہ سے ان کی موت کے بارے میں آج بھی لوگوں میں کافی دلچسپی اور تجسس پایا جاتا ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سنہ 1857 میں برطانوی حکمرانوں کی مخالفت کا جو عمل شروع ہوا تھا اس ہی کے باعث لگ بھگ 90 سال بعد یعنی سنہ 1947 میں انڈیا کو آزادی نصیب ہوئی تھی۔تاہم سنہ 1857-1858 میں انڈیا میں جو کچھ ہوا اس کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کیا جاتا رہا ہے۔

چند لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آزادی کی لڑائی تھی جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ جاگیرداروں کی اپنے اپنے مفادات کی جنگ تھی۔ کیا وہ غیر ملکی حکمرانی سے آزاد ہونا چاہتے تھے؟ بہت سارے انڈین اور غیر ملکی مصنفین نے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔تاتیا ٹوپے کا اصل نام رام چندر پانڈورنگ ٹوپے تھا۔ مہاراشٹر کا ضلع یولا اُن کا آبائی گاؤں تھا۔ ان کے والد پانڈورنگ ایک پڑھے لکھے شخص تھے جنھیں ہندو مذہبی کُتب ’وید‘ اور ’اُپنِشد‘ حفظ (زبانی یاد) تھیں۔

اسی وجہ سے باجی راؤ دوئم (میراٹھا سلطنت کے آخری پیشوا) نے اُنھیں (تاتیا کے والد کو) پونے بلایا۔ جب باجی راؤ دوئم پونے چھوڑ کر شمالی انڈیا کے شہر کانپور کے علاقے بیتور آئے تو پونے سے بہت سے خاندان بھی اُن کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ ان میں پانڈورنگ خاندان بھی شامل تھا۔ پانڈورنگ اپنی بیوی اور بچوں رام چندر اور گنگا دھر کے ساتھ بیتور آئے تھے۔بیتور میں تاتیا ٹوپے کا پیشوا نانا صاحب اور موروپنت تنبے کے ساتھ رابطہ ہوا۔ اس کے بعد وہ جھانسی کی رانی لکشمی بائی سے بھی رابطہ میں آئے۔ تاتیا ٹوپے ان سب سے عمر میں بڑے تھے۔سنہ 1857 میں نانا صاحب پیشوا، تاتیا ٹوپے، رانی لکشمی بائی، اودھ کے نواب اور مغل حکمرانوں نے بندیل کھنڈ میں برطانوی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا۔

اس کا اثر جنوبی ہندوستان کی ریاستوں تک بھی پہنچا۔بہت سے برطانوی اور انڈین مؤرخین کا خیال ہے کہ گوالیار کے شندے حکمران اس بغاوت میں شامل نہیں تھے لیکن کچھ انڈین مؤرخین کے مطابق گوالیار کے حکمران بھی اس بغاوت میں شامل ہو گئے تھے۔بائیجا بائی شندے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے بغاوت کی تیاری کی تھی۔ بہت سے حکمران جنگ میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے۔لیکن برطانوی فوجی کئی مہینوں تک ان کی موت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار رہے۔ پیراگ ٹوپے کے مطابق تاتیا ٹوپے کے ساتھی رام سنگھ، راؤ سنگھ اور جل جنگ افواہیں پھیلاتے رہے کہ تاتیا ٹوپے زندہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button