سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

سائنسی تصدیق شرعی طریقے سے جانور کو ذبح کرنے کے فوائد✍️ سلیم احمد عثمانی

اسلامی طریقہ ذبح پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس میں جانور پر ظلم کیا جاتا ہے، اس لیے یہ ایک بے رحمانہ طریقہ ہے۔ لیکن سائنسی تحقیق اس کے خلاف ہے۔ چنانچہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی University” Hanover ” کے پروفیسر Schultz اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر Hazem نے عملی تجربے سے ثابت کیا کہ اسلامی طریقہ ذبح انتہائی رحمدلانہ اور سب سے اچھا ہے، کیونکہ اس میں جانور کو کم سے کم تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ’’کیپٹِوبولٹ اسٹننگ‘‘ (Captive Bolt Stunning )سے جانور کو بہت زیادہ اذیت پہنچتی ہے۔

اس تجربے میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اسلامی طریقہ ذبح اور مغربی ممالک میں کثرت سے رائج طریقے (جس میں جانور کو پہلے سٹن (Stun) کیا جاتا ہے اور اس کے بعد گلے پر چھری پھیر کر خون بہایا جاتا ہے) میں جانور کو پہنچنے والی تکلیف میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے کس طریقے میں خون تیز رفتاری سے اور زیادہ سے زیادہ مقدار میں نکل جاتا ہے اور کس طریقے میں جانور جلدی بے ہوش ہوتا ہے اور اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہر جانور کا (EEG)-Electroencephalgram اور -Electrocardiogram (ECG) کیا گیا۔

تجربے کی تفصیلات

یہ تجربہ 10 بچھڑوں اور 17 بھیڑوں پر کیا گیا اور اس میں درج ذیل امور سر انجام دیے گئے:

1 ۔ سب سے پہلے تمام جانوروں کی کھوپڑیوں میں سرجری کر کے Electrodesاس طرح لگائے گئے کہ یہ دماغ کی سطح کو چھو رہے ہوں۔

2 ۔ اس کے بعدجانوروں کو روبہ صحت ہونے کے لیے کئی ہفتوں تک چھوڑدیا گیا۔

3 ۔ اگلے مر حلے میں کچھ جانوروں کو تیز دھار چھری استعمال کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے مطابق ذبح کیا گیا اور کچھ جانوروں کو ’’کیپٹو بولٹ پسٹل‘‘کے ذریعے سٹن کیا گیا۔

4۔ اس پورے عمل کے دوران ECG اور EEG کے ذریعے ہر جانور کے دل و دماغ کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کیا گیا۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group

https://chat.whatsapp.com/KYVv7IXqzIgASe8WCiBxwM

شرعی طریقہ ذبح کے نتائج

1 ذبح کرنے کے بعد پہلے تین سیکنڈ کے دوران گراف میں کوئی تبدیلی نہ آئی جس سے صاف ظاہر تھا کہ اس دوران یا فوراً بعد جانور کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہوئی۔

2 اگلے تین سیکنڈ میں EEGنے ایسی بے ہوشی ظاہر کی جیسی نیند کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خو ن بہت بڑی مقدار میں اور تیزی سے نکل رہا تھا۔

3 ان 6 سیکنڈ کے بعد EEG صفر پر تھا اور اس سے بھی یہی ظاہر ہوا کہ اس وقت جانور کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔

4 جونہی EEG صفر پر آیا تو دل ابھی تک دھڑک رہا تھا اور جسم سکڑ رہا تھا جس کی بدولت جسم سے زیادہ سے زیادہ خون باہر نکل رہا تھا (اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر جانور کے جسم سے سارا خون نکل جائے تو صارفین کو بیماریوں سے پاک صحت افزا گوشت ملتا ہے)۔
کیپٹو بولٹ اسٹننگ کے نتائج

1 اسٹننگ کے فوراً بعد ہی جانور بظاہر بے ہوش ہوگئے۔

2 اسٹننگ کے فوراً بعد EEGسے شدید تکلیف ظاہر ہورہی تھی۔

3 سٹن کیے گئے جانوروں کے دل کی دھڑکن شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے جانوروں کی دل کی دھڑکن کے مقابلے میں پہلے رُک گئی۔ اس کے نتیجے میں ان جانوروں کے گوشت میں زیادہ خون باقی رہ گیا(اور ایسی صورت میں بیماریوں سے پاک صحت افزا گوشت نہیں مل سکتا)۔

دیگر تحقیقات میں اسٹننگ کے نقصانات

کچھ اور اداروںنے بھی تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ اسٹننگ کے متعدد نقصانات ہیں، جیسے:

٭ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹننگ سے دماغ کے ٹِشو جانور کے پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں اور اگر ایسا جانور میڈ کاؤ بیماری میں مبتلا ہو تو اس کا گوشت انسانوں میں ’’میڈ کاؤ‘‘ بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ جانور کے دماغ اور حرام مغز ہی میںاس بیماری کے سب سے زیادہ جراثیم ہوتے ہیں۔

٭ ٹیکسساس کی اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور کنیڈا کی فوڈ انسپکشن ایجنسی کی تحقیق کے مطابق Pneumatic اسٹننگ سے اتنی زور دار ضرب لگتی ہے کہ دماغ کے ذرات جانور کے پورے نظام میں پھیل جاتے ہیں حتیٰ کہ یہ پھیپڑوں اور جگر تک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ امریکا میں 30 سے 40 فیصد اسٹننگ اسی طریقے سے ہوتی ہے۔

٭ اگر اسٹننگ درست نہ ہو پائے تو جانور کو دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ 1996ء میں یورپی کمیشن کی سائنسی کمیٹی نے رپورٹ دی تھی کہ 5سے10 فیصد جانوروں کی کیپٹوبولٹ اسٹننگ درست نہیں ہوتی۔

٭ اگر اسٹننگ ’’ریور سیبل‘‘ ہو اور گردن کاٹنے میں تاخیر ہو جائے تو جانور کے ہوش میں آنے کے سبب مقصد فوت ہو جاتا ہے اور اسے بلا وجہ دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک ادارے VIVAنے رپورٹ دی کہ مجوزہ وقفہ 20سے 40سیکنڈ کا ہے، لیکن عملاً بھیڑوں کے لیے 70سیکنڈ کا وقفہ ہوجاتا ہے جس سے وہ ہوش میں آجاتی ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذبح کے وقت انہیںدوبارہ تکلیف سے گزرنا پڑتاہے۔

٭ نیورولوجسٹ ڈاکٹر ہیرالڈ ہل مین بھی اسٹننگ کو انتہائی تکلیف دہ خیال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے تکلیف دہ ہونے کی واضح دلیل یہ ہے کہ کچھ ملکوں میں قیدیوںکو بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے ہی سزائیں دی جاتی ہیں (ا گر اس سے تکلیف نہ ہوتی تو یہ سزا نہ دی جاتی)۔ جانور اس تکلیف کا اظہار چیخ کر یا حرکت کر کے اس لیے نہیں کر سکتے کہ اس کرنٹ سے وہ مفلوج ہو جاتے ہیں۔

٭ اسٹننگ سے خون کی چھوٹی چھوٹی رگیں پھٹ سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں خون گوشت میں سرایت کر سکتا ہے۔

٭ اسٹننگ کی وجہ سے جانور کا جسم مفلوج ہوجاتا ہے، خون کا بہاؤ بھی صحیح طریقے سے نہیں ہوپاتا، جس کی وجہ سے انتہائی زہریلے بیکٹیریا اور دیگر مادے گوشت کے اندر ہی رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ جب انسان اس گوشت کو استعمال کرتا ہے تو یہ زہریلے مادے اس کے جسم میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

نتیجہ بحث

اسلامی تعلیمات میں تمام انسانوں کے لیے خیر ہی خیر ہے، اگرچہ ہمیں معلوم نہ ہو۔ اب سائنس بھی اس حقیقت کو آشکارا کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مسلمان ان تعلیمات پر دل و جان سے عمل کریں اور دوسروں کے لیے عملی نمونہ بنیں۔ ٭

متعلقہ خبریں

Back to top button