نئی دہلی، 20اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) نے دہلی ایکسائز پالیسی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کے چند گھنٹے بعد جمعہ کو ایک درجن آئی اے ایس افسران کا تبادلہ کر دیا گیا۔دہلی حکومت کے محکمہ خدمات کے ذریعہ جاری کردہ تبادلے کے حکم کے مطابق جن لوگوں کا تبادلہ کیا گیا ہے ان میں صحت اور خاندانی بہبود کے محکمہ کے اسپیشل سکریٹری ادت پرکاش رائے شامل ہیں جو اے جی ایم یو ٹی کیڈر کے 2007 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے بدعنوانی کے دو معاملات میں ایک ایگزیکٹیو انجینئر کو غیر منصفانہ طور پر فائدہ پہنچانے کے لیے 50 لاکھ روپے کی رشوت لینے پر رائے کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔حکم نامے کے مطابق رائے کا تبادلہ انتظامی اصلاحات کے محکمے میں خصوصی سکریٹری کے طور پر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سی بی آئی نے دہلی کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا کو ایف آئی آر میں پہلا ملزم بنایا ہے۔ سی بی آئی کی اس ایف آئی آر میں 15 ملزمان ہیں۔سی بی آئی نے پی سی ایکٹ 1988، 120 بی، 477 اے اصل جرم کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
سی بی آئی نے جمعہ کو دہلی کی شراب پالیسی میں بدعنوانی کے الزامات کو لے کر دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا کے گھر پر چھاپہ مارا۔ سی بی آئی نے منیش سیسودیا کی دہلی رہائش گاہ اور سات ریاستوں میں 20 دیگر مقامات کی تلاشی لی تھی۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت نے اس چھاپے کی سختی سے مخالفت کی۔عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ سیسودیا کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ جمعرات کو نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر ان کی خبر شائع ہونے سے مرکز ناراض ہے۔
ساتھ ہی چھاپے کے بعد منیش سیسودیا نے کہا کہ انہیں ابھی تک پوچھ گچھ کے لیے نہیں بلایا گیا ہے۔سب بہت اچھے تھے، میرے پاس کچھ فائلیں تھیں۔ فون لے لیا ہے۔ مجھے اور میرے گھر والوں نے بھرپور تعاون کیا۔ اگر مزید تفتیش ہوئی تو ہم تعاون کریں گے۔ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا، ہم نے کوئی کرپشن نہیں کی۔ خیال رہے کہ بدعنوانی کا مقدمہ درج کرنے کی لازمی منظوری لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے دی تھی۔



