جگتیال میں پٹرول کیساتھ اسکول کے باہر کرسپانڈنٹ اور طلباءکا احتجاج
جگتیال ۔یکم /فروری(اردودنیا.اِن) جگتیال میں سری ندی اولمپیاڈ اسکول کے کرسپانڈنٹ و اسکول کے پارٹنرشیخ امیر کی قیادت میں اسکول کے ٹیچرس اور طلباء کے احتجاج سے افراتفری کاماحول پیدا ہوگیا اور اسکول انتظامیہ کے درمیان مالی لین دین کا معاملہ آشکار ہوگیا ۔
تفصیلات کے بموجب جگتیال کے ساکن موسی پٹلا راجندر اور شیخ امیر نے پارٹنر شپ میں جگتیال میںسری ندی اولمپیاڈ آئی آئی ٹی ہائی اسکول کا قیام عمل میں لایا تھاجسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی تھی اسی دوران تین سال سے مالی لین اور حساب کتاب کے بعد ایک پارٹنر موسی پٹلا راجندرنے اس تعلیمی ادارہ کے پرائمری سیکشن کی ذمہ داری لے لی اور اپرپرائمری اور کالج دوسرے پارٹنر شیخ امیرکے حوالے کردیا تھا ۔
لاک ڈاؤن کے طویل عرصہ بعد حکومت کی جانب سے آج ریاست میں 9نویں جماعت سے تعلیمی اداروں کی کشادگی کے اعلان کے بعد جب شیخ امیر نے اسکول کے سامنے احتجاج شروع کردیا ان کا کہنا تھا کہ موسی پٹلا راجندر نے اسکول کھولنے سے باز کھنے کی غرض سے چند خانگی افراد کے ذریعہ انہیں دھمکاتے ہوئے اسکول کی عمارت پر موجود کو قفل توڑدئیے اور اپنی جانب سے اسکول کو مقفل کردیا ہے جس سے انہیں اور طلباء کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا،
اسکول کے کرسپانڈنٹ شیخ امیر کا کہنا تھا کہ 8سال قبل اس تعلیمی ادارہ کے قیام کے بعد سے انکے پارٹنر راجندر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس تعلیمی ادارہ میں 40لاکھ روپئے کا سرمایہ لگایا ہے جبکہ شیخ امیر کا کہنا ہیکہ انہوں مختلف ذرائع سے قرض حاصل کرتے ہوئے اس تعلیمی ادارہ میں 70لاکھ روپئے لگائے ہیں تاہم اب راجندر کا کہنا ہیکہ انہیں شیخ امیر کی جانب سے لگائے گئے سرمایہ سے کوئی غرض نہیں ہے اور اسکول سمیت مکمل تعلیمی ادارہ ان کی ہی ملکیت ہے اور اسی دعویداری کے تحت راجندر اسکو ل کو آج دوبارہ نہ کھولنے کی غرض سے مقفل کرکے قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
جس سے طلباء کا مستقبل داو پر لگا ہےشیخ امیر کاکہنا تھا کہ لاک ڈاون کےدوران طلباکا نقصان نہ ہو یہ سوچ کر انہوں نے اپنے ماتحت عملہ کیساتھ بناء کسی مالی فائدہ کہ آن لائن کلاسیس کا اہتمام کرتے ہوئے اسکولی نصاب کو مکمل بھی کرلیا ہے ۔ اس احتجاج کے دوران شیخ امیر نے پٹرول کے ڈبے کیساتھ اسکول کے باہر احتجاج منظم کیا اطلاع پر سرکل انسپکٹر پولیس جیش ریڈی کی قیادت میں سب انسپکٹر پولیس مہندر کیساتھ پولیس جمعیت جائے مقام پر پہنچ کر مداخلت کی اور احتجاج کررہے شیخ امیر کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا




