کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھانا ڈاکٹر کو دور رکھے، یعنی یہ صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے؟جی ہاں سیب کے بیج زہریلے ہوتے ہیں اور جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔سیب کے یج میں ایمیگڈیلین نامی جز ہوتا ہے جو کہ انسانی نظام ہاضمہ کے انزائمے میں جاکر سائنائیڈ خارج کرتا ہے۔ایمیگڈیلین میں سائنائیڈ اور شوگر موجود ہوتی ہے جو کہ جسم میں جاکر ہائیڈروجن سائنائیڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے، جو کہ انسانوں کو بیمار بلکہ ہلاک بھی کرسکتی ہے۔تاہم اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
یہ بتانے کی ضروری نہیں کہ سائنائیڈ کتنا خطرناک زہر ہے اور کیمیائی طور پر تیار ہونے کے ساتھ یہ مختلف پھلوں کے بیج جیسے سیب، آڑو، آلو بخارے، چیری اور خوبانی وغیرہ بھی پایا جاتا ہے۔ان پھلوں کے بیجوں پر ایک سخت تہہ ہوتی ہے جس کے اندر ایمیگڈیلین موجود ہوتا ہے اور عام طور پر ان بیجوں کی سخت تہہ معدے کی تیزابیت میں گھلتی نہیں۔تو یہ بیج نگلنا تو نقصان دہ نہیں تاہم اگر انہیں چبا کر نگلا جائے تو پھر یہ جسم میں جاکر ہائیڈروجن سائنائیڈ کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔
امریکی ادارہ صحت سی ڈی سی کے مطابق ایک سے 2 ملی گرام سائنائیڈ 70 کلوگرام وزن کے حامل فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔تاہم سیب کے بیجوں میں اتنی مقدار نہیں ہوتی اور یہ اسی وقت جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں جب 200 یا اس سے زائد بیج چبا کر کھالیے جائیں۔تاہم ان بیجوں سے خارج ہونے والے اس زہر کی معمولی مقدار بھی مختلف مسائل جیسے قے، سردرد، دل متلانے، معدے کے درد، غشی طاری ہونا، ذہنی طور پر الجھن محسوس کرنا اور کمزوری کا سامنا ہوسکتا ہے۔تو سیب کے بیج نگل لینا تو نقصان دہ نہیں تاہم غلطی سے انہیں چبالیں تو بہتر ہے کہ تھوک دیں تاکہ کسی قسم کے مسئلے سے بچ سکیں۔



