سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

غلط فہمیوں کا ازالہ انڈے کھانے کے بہترین فائدے

ہر انسان کو اپنی روزانہ کی خوراک میں کم از کم دو سے تین ابلے انڈے ضرور شامل کرنے چاہیے۔ 

غذائی ماہرین کے نقطہ نظر سے انڈوں کا شمار زمین پر پائے جانے والے چند ایک ایسے کھانوں میں ہوتا ہے جنہیں سپر فوڈ کہا جاتا ہے اور غذائی صلاحیت کے حوالے سے دْوسرے کھانے انہیں چھوکر بھی نہیں گزرتے اس آرٹیکل میں ہم انڈے کھانے کے 9 ایسے فائدوں کا ذکر کریں گے جنہیں پڑھ کر آپ انڈوں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں ضرور شامل کرنا چاہیں گے۔

انڈوں کی غذائی صلاحیت

انڈوں میں بے شمار نیوٹریشنز شامل ہیں اور کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو بہت کم دوسرے کھانوں میں پائے جاتے ہیں اور انڈوں کی غذائی صلاحیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کے صرف ایک انڈے میں اتنی غذائی صلاحیت ہوتی ہے جس سے چوزا پیدا ہوسکتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق ایک ابلے ہوئے انڈے میں تقریباً 6 فیصد وٹامن اے، فولیٹ 5 فیصد، وٹامن بی 5 پانچ فیصد، وٹامن بی 12 9 فیصد، وٹامن بی 2 پندراں فیصد، فاسفورس 9 فیصد اور سیلینیم 22 فیصد کے علاوہ وٹامن ڈی، ای، اے، وٹامن کے، کیلشیم،اور زنک جیسی اہم غذائی صلاحیت موجود ہوتی ہے جو اتنی مقدار میں شاید ہی کسی اور کھانے میں ہو۔ایک انڈے میں صرف 77 کیلوریز اور 6 گرام پروٹین کے علاوہ پانچ گرام صحت کے لئے انتہائی مفید چکنائی پائی جاتی ہے۔

کولیسٹرال زیادہ ہوتا ہے

کولیسٹرال زیادہ ہوتا ہے مگر خون کے کولیسٹرال کو متاثر نہیں کرتا، عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ انڈوں میں کولیسٹرال کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ خیال درست بھی ہے کیونکہ صرف انڈے میں 212 ملی گرام کولیسٹرال پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کی روزانہ کی ضرورت کا نصف سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ایک انسان کو خوراک میں روزانہ کم از کم 300 ملی گرام کولیسٹرال کھانا چاہیے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ انسان اپنی ضرورت کی مقدار سے زیادہ کولیسٹرال کھاتا ہے تو جگر جو کے روزانہ جسم میں کولیسٹرال پیدا کرتا ہے اپنے کولیسٹرال پیدا کرنے کی مقدار کم کردیتا ہے اور جسم کولیسٹرال کو خوراک سے کھائے ہوئے کولیسٹرال سے پورا کرلیتا ہے۔

انڈا اچھے کولیسٹرال سے بھرپور غذا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈا اچھے کولیسٹرال یعنی ایچ ڈی ایل سے بھرپور غذا ہے اور جسم میں ایچ ڈی ایل کی زیادہ مقدار بہت سی دائمی بیماریوں کو پیدا ہونے سے روکتی ہے خاص طور پر دل کی بیماریاں اور فالج وغیرہ کو پیدا نہیں ہونے دیتی۔
انڈے میں چولین ہوتی ہے

چولین ایک ایسا نیوٹریشن ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور یہ نیوٹریشن وٹامن بی کے ساتھ ملکر کام کرتا ہے۔چولین ہمارے جسم کے سیلز میں میمبرنس پیدا کرتی ہے اور دماغ کے مالیکولز میں سگنل پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے اور جسم کے کئی اور فنکشنز کو بہتر طور پر پرفارم کروانے میں انتہائی مددگار ہے۔ایک انڈے میں تقریباً 100 ملی گرام چولین شامل ہوتی ہے جو ہماری صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔

دل کی بیماریوں میں مفید ہے

ہم سب جانتے ہیں کہ برا کولیسٹرال یعنی ایل ڈی ایل دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے مگر ایل ڈی ایل کی دو اقسام ہوتی ہیں سمال اور لارج ایل ڈی ایل۔ایسے افراد جن میں سمال یعنی چھوٹا ایل ڈی ایل اگر زیادہ ہے تو ان میں دل کی بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہیان افراد کی نسبت جن میں لارج ایل ڈی ایل موجود ہوتا ہے۔اگرچہ انڈا کچھ افراد میں ایل ڈی ایل کو تھوڑا سا بڑھاتا ہے مگر میڈیکل سائنس کی کچھ تحقیقات کے نزدیک یہ سمال نہیں بلکہ لارج ایل ڈی ایل کی مقدار بڑھاتا ہے جس سے دل کی بیماری کا زیادہ خدشہ نہیں ہوتا۔

آنکھوں کی صحت کیلئے انتہائی مفید ہے

انڈے میں لوٹین اور زییکسانتھین جیسے اینٹی آکسائیڈینٹ شامل ہوتے ہیں جنیں آنکھوں کی صحت کے لئے انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے اور یہ آنکھوں کے رتینا کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔

اومیگا تھری

تمام انڈے ایک جیسی غذائی صلاحیت نہیں رکھتے اور ان کی غذائی صلاحیت کا دارومدار اْس خوراک پر ہوتا ہے جو مرغی کو کھلائی جاتی ہے اور آجکل بازار میں اومیگا تھری انڈے عام دستیاب ہیں۔

اومیگا تھری انڈے دینے والی مْرغیوں کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ والی خوراک دی جاتی ہے اور ان مرغیوں کے انڈوں میں عام انڈوں کی نسبت زیادہ غذائی صلاحیت اومیگا تھری کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ماہرین کے نزدیک دل کی بیماری کو پیدا ہونے سے روکتے ہیں اور جسم میں کئی اہم افعال سر انجام دیتے ہیں جن میں جلد کو توانا کرنا اور بالوں کی نشوونما شامل ہے۔

انڈے پروٹین کا خزانہ ہیں

پروٹین جسم کی نشوونما کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے جو ہڈیوں سے لیکر پٹھوں تک کو جہاں مضبوط بناتی ہے وہاں ان کی پرورش کرتی ہے۔صرف ایک انڈے میں 6 گرام پروٹین کی موجودگی اسے ان کھانوں میں شامل کرتی ہے جو پروٹین سے بھرپور ہیں اور اگر آپ باڈی بلڈ کرنا چاہتے ہیں تو انڈے سے بہتر کوئی اور قدرتی خوراک نہیں جو اتنی بڑی مقدار میں پروٹین مہیا کرے۔

انڈے وزن کم کرنے میں مدد گار ہیں

انڈے کا شمار کم کیلوریز والے کھانوں میں ہوتا ہے اور ایک انڈے میں صرف 77 کیلوریز پائی جاتی ہیں جو وزن کم کرنے والے افراد کے لئے انڈے کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہیں۔انڈا نہ صرف کم کیلوریز کا حامل ہے بلکہ یہ معدے کو بھرا رکھتا ہے اور جلدی بھوک نہیں لگنے دیتا اور کھانے میں لمبے وقفے سے جسم میں موجود فاضل چربی پگھلنے میں مدد ملتی ہے۔

نوٹ: غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر انسان کو اپنی روزانہ کی خوراک میں کم از کم دو سے تین ابلے انڈے ضرور شامل کرنے چاہیے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button