مکھرجی نے کبھی شراب نہیں پی، مگر شرابی کردار کو کم مقالموں کے ساتھ بولتی آنکھوں سے بہترین اور منفرد انداز میں ادا کیا
کیشٹو مکھرجی 7- اگست 1925 کو کولکتہ میں پیدا ہوئے۔ بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہندوستان کے شہر ویسٹ بنگال کو کلکتہ کے نام سے شہرت حاصل تھی۔ کیشٹو مکھرجی نے اپنی پوری زندگی میں کبھی شراب نہیں پی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انھوں نے کبھی شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ انھوں نے اپنا فلمی سفر 1952 میں بنگالی زبان کی فلم سے کیا۔ مگر انھیں وہ شہرت نہیں ملی جس کی انھیں تلاش تھی۔
اس وقت کے مشہور مزاحیہ اداکار اور ہدایت کار اسیت سین نے کیشٹو سے کہا "شرابی کا کردار ادا کرو گے”، کیشٹو کو اس وقت بہت غصہ آیا مگر مرتا کیا نا کرتا کی مصداق کیشٹو نے سوچا اتنے بڑے اداکار اور ہدایت کار کو اگر میں نے ناراض کیا تو پھر کچھ نہیں کر سکتا۔ کیشٹو نے حامی بھری پھر کیا تھا۔ اس کے بعد ممبئی آئے رشی کیش سے ملے انھوں نے اپنی فلم "مسافر” میں موقع دیا۔ اس دوران کام کی تلاش میں ایک مرتبہ ومل رائے سے ملاقات کی۔
ومل رائے وہ کسی اسکرپٹ پر کام کر رہے تھے۔ انھوں نے کیشٹو سے کہا۔ ابھی کوئی کام نہیں ہے، مگر کیشٹو وہیں کھڑے رہے۔ کچھ لمحے بعد جب ومل رائے نے دیکھتے ہی کہا "میں نے کہا ابھی کام نہیں ہے” ابھی کتے کے آواز کی ضرورت ہے بھونک سکتے ہو۔۔۔”! کیشٹو نے کہا موقع ملا تو ضرور کتے کی آواز نکال سکتا ہوں، اور کتے کے بھونکنے کی آواز بھی نکالی۔ ومل رائے ہنس پڑے۔ کیشٹو مکھرجی نے 1970 میں اسیت سین کی فلم "ماں اور ممتا” میں شرابی کا کردار ادا کیا اور بالی ووڈ میں اپنی شناخت بنائی۔ کیشٹو مکھرجی کا کردار کچھ ہی لمحوں کا ہی ہو شرابی کردار کے لیے کیشٹو مکھرجی کو ہی یاد کیا جاتا تھا۔
کیشٹو مکھرجی کی بولتی آنکھیں ہی ان کے کردار میں جان ڈال دیتی تھیں۔ کیشٹو اپنے منفرد انداز میں بہت کم ڈائیلاگ کے باوجود اپنی بولتی آنکھوں سے بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ بالی ووڈ میں شرابی کی اداکاری کرتے کرتے کیشٹو کب مشہور ہو گئے انھیں بھی نہیں معلوم ہوا۔ کیشٹو مکھرجی کے زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا وہ اس وقت کیشٹو بہت بیمار تھے، علاج کے لیے ان کے پاس پیسے بھی نہیں تھے۔ اس دوران فلم "بے رحم” کے لیے انھیں اسٹوڈیو بلایا گیا انھوں نے اسپتال نا جاتے ہوئے اسٹوڈیو پہنچے۔ سیٹ پر اپنا کام کیا، اس روپیوں سے اپنا علاج کرایا اور صحت یاب ہوئے۔
انہوں نے بالی ووڈ کی فلموں میں مزاحیہ شرابی کرداروں کو بخوبی ادا کرتے ہوئے بے مثال کامیابی حاصل کی اور مشہور ہوئے۔ اگرچہ وہ ہندی فلموں میں اپنے شرابی کردار کے لیے مشہور تھے، لیکن زندگی بھر انھوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ اس کے علاوہ کیشٹو کو کئی مرتبہ سنجیدہ اور سیدھے سادھے انسان والے کردار بھی ملے، جسے انھوں نے بخوبی ادا کیا مگر انھوں نے اپنی اداکاری سے فلمی شائقین کو خوب ہنسایا۔ فلم شعلے میں نائی کے کردار سے بھی لوگوں کو لطف اندوز کیا۔
رشی کیش مکھرجی کی فلم چپکے چپکے میں ٹیکسی ڈرائیور کے کردار میں بھی بہت خوب نظر آئے۔ 1971 کی فلم میرے اپنے۔ 1972 کی فلم "پریچئے” میں انھوں نے شرارتی بچوں کے ٹیوشن ٹیچر کے کردار میں نظر آئے۔ کیشٹو مکھرجی نے اپنی بہترین خاموش مزاحیہ اداکاری کے دیرپا نقوش چھوڑے ہیں. جسے فلمی شائقین ہمیشہ یاد رکھے گے۔ انھوں نے کئی بہترین مزاحیہ اداکاروں کے ساتھ کام کیا جس میں کشور کمار کے ساتھ پڑوسن، سادھو اور شیطان۔ مشہور مزاحیہ اداکار ہدایت کار فلم ساز محمود کے ساتھ فلم "بومبے ٹو گوا” میں بھی نظر آئے۔
بومبے ٹو گوا میں ان کا نیند کی غنودگی والے مسافر کا کردار بہت مقبول ہوا۔ رشی کیش مکھرجی کی فلم "مسافر” میں اسٹریٹ ڈانسر کے کردار میں نظر آئے۔ کیشٹو مکھرجی نے بے شمار فلموں میں کام کیا مگر ان کی بہترین اداکاری 1973 میں فلم زنجیر، سپر اسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ۔ 1975 میں فلم شعلے میں بھی امیتابھ بچن اور دھرمیندر کے ساتھ۔ اور چپکے چپکے، میں دھرمیندر کے ساتھ، اس کے بعد تپسیا، تیسری قسم، سب سے بڑا روپیہ، للکار، سلام میم صاحب، خوبصورت ان تمام فلموں میں اپنی بہترین مزاحیہ اداکاری سے فلمی شائقین کو خوب ہنسایا۔
2 مارچ 1982 کو 56 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ بالی ووڈ میں انھیں شرابی کے مزاحیہ کردار کے لیے انھیں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ کیشٹو بالی ووڈ کی فلموں میں بہت چھوٹے لیکن اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ انھیں ان کی بہترین مزاحیہ اداکاری کے لیے مزاحیہ اداکاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ 1981 میں فلم "خوبصورت” کے لیے بہترین مزاحیہ اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔



