صحت اور سائنس کی دنیا

گردے فیل، گردوں کے پھوڑے اور رسولیاں✍️ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور

تعریف مرض: اس مرض میں انسان کے خون سے البیومن خارج ہوکر پیشاب کے ذریعہ خارج ہونے لگتی ہے، اس کو ہی البیومی نوریا یا ضعفِ گردہ کہتے ہیں۔

وجوہات: ورم گردہ، کثرت ملاپ، انڈوں کا زیادہ استعمال، گھوڑے کی سواری، عصبی امراض، سل دق، شدید بخار، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں، کمر پر بوجھ،شراب اور سگریٹ کی کثرت وغیرہ سے یہ عارضہ ہوجاتا ہے۔

علامات: البیومی نوریا کے خارج ہونے سے خون خراب ہوجاتا ہے، جسم کمزور، رنگ پھیکا، ہاضمہ خراب، سر درد، چہرہ پر بھربھراہٹ کبھی دست یا قبض وغیرہ کا عارضہ ہوجاتا ہے، پیشاب میں چربی یا انڈے کی سفیدی کی طرح مادہ خارج ہوتا ہے۔

پرہیز: اصل سبب کو دور کر کے اس کا علاج کریں، ملاپ سے سخت پرہیز کریں، اگر بخار میں البیومن آنے لگے تو حرارت و کمزوری دور ہوجانے سے ہی مریض کو آرام محسوس ہونے لگتا ہے۔

علاج: جند بید ستر خالص ایک گرام، جائفل پانچ گرام، جاوتری پانچ گرام، دار چینی پانچ گرام، حرمل پانچ گرام، تل سیاہ چھلے ہوئے پچاس گرام، کوٹ چھان کر حسب ضرورت شہد ملا کر چنے کے برابر گولیاں بنائیں، دو گولی صبح ، دو گولی شام کو ہمراہ دودھ گائے کے نیم گرم سے استعمال کرائیں، گردہ کی کمزوری کے لئے مفید ہے، پیشاب کی زیادتی رُک جاتی ہے اور کمزوری کے لئے مفید ہے، اگر یہ عارضہ عصبی کمزوری کے سبب سے ہو تو خمیرہ گاؤ زبان عنبری پانچ گرام، عرق عنبر پچاس گرام، عرق گاؤ زبان پچاس گرام، اگر کمزوری خون وغیرہ کے سبب سے ہو تو کشتہ فولاد و کشتہ سونا یا دواء المسک معتدل جواہر والی پانچ گرام صبح و شام ہمراہ عرق گلاؤ زبان دیں یا شلاجیت شدھ ایک گرام، لبوب صغیر پانچ گرام ملا کر کھلائیں، مقوی ادویات و مغزیات کا استعمال بھی مفید ہے۔اگر مرض کی ابتداء ہے تو صرف جوارش زرعونی ہمراہ عرق کاسنی صبح و شام استعمال کرائیں مفید ہے۔

گردوں کی طاقت کیلئے: ساٹھی چاول، بہمن سرخ، بہمن سفید، تو دری زرد، تودری سرخ، دار چینی، مغز اخروٹ، مغز پستہ ہر ایک تین گرام مغز بادام شریں چھلے ہوئے سات عدد کو دودھ سو گرام میں چھان کر آگ پر پکائیں۔ جب وہ گاڑھا ہوجائے تو مصری بیس گرام سے میٹھا کر کے پلائیں، کمزوری گردہ کے لئے از حد مفید ہے۔

نسخہ نمبر 2: گوکھرو خشک کو کوٹ کر چھلنی سے چھان لیں، پھر تازہ گوکھرو کا رس نکال کر اس میں اتنا ڈالیں کہ تر ہوجائے، پھر خشک ہونے پر اور ڈال دیں، اس طرح تین بار کریں، اگر یہ 100گرام ہو تو اس میں 10گرام سونٹھ شامل کرلیں، پانچ گرام دونوں وقت دودھ گرم میں میٹھا ڈال کر کھالیا کریں۔ کمزوری گردہ و مثانہ کے لئے از حد مفید ہے۔

فوائد: اس دوا کا استعمال بچے، بوڑھے، جوان ، عورتوں اور مردوں کے لئے یکساں فائدہ مند ہے، سلاجیت اور کشتہ فولاد کے اجزائے خاص ہونے کی وجہ یہ امراض گردہ و مثانہ کے لئے خاص طور پر مفید ہے، کمزوری مثانہ، کمزوری گردہ، کثرت پیشاب، سلسل البول، پیشاب کا گدلاپن، جریان، احتلام، مثانہ کی پتھری یا پیشاب کے ساتھ ریت خارج ہونا وغیرہ میں مفید ہے جگر کو طاقت دے کر خون صالح پیدا کرتی ہے، رات کو سوتے میںبستر پر پیشاب ساقط ہونے والے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

گردے کے پھوڑے اور رسولیاں، رینل ٹیومر

اس مرض میں گردے کے اندر پھوڑے یا رسولیاں پیدا ہوجاتی ہیں، پیشاب کے اخراج کے وقت مریض کو سخت تکلیف ہوتی ہے، اور بعض دفعہ تو گردہ کو درد کا عارضہ بھی ہوجاتا ہے، گردے کے مقام پر بوجھ معلوم ہوتا ہے۔

ٹیوبر کیولوسز آف کڈنی

اس مرض میں گردے دق میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ان میں بعض دفعہ پیپ بھی پڑجاتی ہے، جس سے گردے متورم ہوجاتے ہیں، تمام علامات دق کی ہوتی ہیں، اگر یہ مرض ایک گردے میں ہو تو جلد آرام آجاتا ہے، ورنہ کافی عرصہ تک علاج کرانا پڑتا ہے، اس مرض کا علاج بطرز ورم گردہ و مرض دق کے ہے۔

گردوں کا پھیل جانا، ہائیڈرو نیفروسز

اس مرض میں گردے پھیل جاتے ہیں اور کمزور ہوجاتے ہیں، گردوں کے مقام پر درد ہوتا ہے شدید صورت میں گردوں کے اندر سوزش اور پیپ ہوجاتی ہے، اس مرض کا علاج بطرز ورم گردہ کے کریں اور مریض کو آرام اور سکون سے لیٹے رہنا چاہیے۔

گردوں کا فیل ہونا

جو مریض بلڈپریشر (بی پی) میںمبتلا ہوتے ہیں ان سے اگر ذرا سی غفلت ہوجائے تو بلڈپریشر ہائی ہوکر گردے فیل ہوجاتے ہیں۔ کریٹین بڑھ جاتا ہے اور پیشاب کم مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کو چاہیے کہ انڈا اور گوشت بند کردے، نمک سے پرہیز کریں اور بلاکسی تاخیر اچھے طبیب سے رجوع ہوں، اگر ڈیالیسس سے پہلے یونانی ادویات استعمال کی جائیں تو ڈیالیسس سے بچا جاسکتا ہے اور گردے کام کرنے لگتے ہیں اور روز مرہ کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔

جوشاندوں سے علاج

گردہ فیل مریضوں کو معجون یا جوارشات کے بجائے عرقیات اور جوشاندے استعمال کرائے جائیں۔ رحیمی شفاخانہ میں ابھی بھی سینکڑوں مریض جن کے گردے فیل ہیں پورے ہندوستان سے زیر علاج ہیں، میرے والد محترم بڑے حکیم صاحب ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی خصوصیت سے دوا کے ساتھ نمک اور ٹھنڈے پانی کا پرہیز کراتے ہیں جس کے اچھے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

نوٹ: ہمارے جنوبی ہندوستان میں اکثر اس طرح کے مریضوں کو جو گردوں کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں رشتہ دار گھر والے بکرے کے گردے اور پائے کا شوربا پلانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ایسے میں نے مطب میں سینکڑوں مریض دیکھے ہیں ایسے مریض کو اس طرح کی چیزیں نہ کھلائیں جائیں۔٭

متعلقہ خبریں

Back to top button