صحت اور سائنس کی دنیا

پام آئل، کتنا اچھا اور کتنا بُرا

پام آئل کے حوالے سے یہ کہنا درست ہے کہ اس کی شہرت اچھی نہیں ہے۔ اس تیل کے بارے میں ویجی آئل انڈسٹری میں کافی حد تک منفی خیالات پائے جاتے ہیں۔ اس تیل کے مثبت اور منفی اثرات پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے۔پام آئل دنیا بھر میں سالانہ بنیاد پر خوراک، ویجیٹیبل گھی، جانوروں کی فیڈ اور ایندھن میں استعمال کی چالیس فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس کی طلب مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور جنگلات کا صفایا کر کے اس کے پودے کی کاشت جاری ہے اور یہ عمل بھی ہر گز ماحول دوست نہیں۔یہ ایک تباہ کن سلسلہ ہے۔ اس وقت انڈونیشی جزیرے سماٹرا کے علاقے بورنیو اور جزیرہ نما مالے کے نوے فیصد علاقوں سے زائد پام آئل حاصل کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں کے قدرتی جنگلات کا صفایا ہو چکا ہے۔

جنگل کے خاتمے سے کیا ہوگا؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب ٹراپیکل جنگلات کا صفایا کیا جاتا ہے تو اس سے جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ بے شمار اہم جڑی بوٹیاں بھی اپنے قدرتی ماحول سے محروم ہوتے ہوئے ناپید ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ درخت اور زمین خارج شدہ کاربن کو ذخیرہ کرنے میں انسان کی مددگا کرتے ہیں۔ ماحولیات کے سرگرم کارکنوں کا موقف ہے کہ انسانوں کا بھی یہ چلن ہونا چاہیے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب کرنے والے قدرتی ذرائع کو تلف نہ کریں۔

پام آئل کا استعمال بند کیوں نہیں ہو سکتا؟

سری لنکا نے حال ہی میں پام آئل کی ملک میں برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملک نے بتدریج پام کے درختوں کی کٹائی کرنے کے منصوبے کو بھی متعارف کرا دیا ہے۔ سری لنکن حکومت پام کے درختوں کی جگہ ربڑ اور ماحول دوست پودے لگائے گی۔ یہ دوسری اقوام کے لیے بھی مثال ہو سکتی ہے۔

ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ پام آئل سے یکدم چھٹکارا حاصل کرنا آسان ہے اور رفتہ رفتہ ایسا کرنے میں مسائل جنم لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس تیل کو چاکلیٹ اسپریڈز کا بھی ایک لازمی جزو خیال کیا جاتا ہے، جو بچوں، بڑوں سب کی من پسندیدہ چیز ہے۔ پام آئل کا استعمال آہستہ آہستہ خواتین کے کاسمیٹکس کے علاوہ ادویات سازی، صنعتی شعبے اور پسندیدہ اسنیکس کے علاوہ کار سازی میں بھی سرایت کر چکا ہے۔

یورپ میں پام آئل کا استعمال

یورپی اقوام میں اس تیل کا استعمال قدرتی ایندھن کے طور پر کیا جاتا ہے۔ بقیہ اشیا میں اس کی حاجت اتنی زیادہ نہیں ہے۔ بائیو فیول میں پام آئل کے استعمال سے یہ پیٹرولیم مصنوعات کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ماحول کو نقصان پہچانے والی گیسوں کا اخراج کرتا ہے۔ اس تناظر میں قدرتی ایندھن کے طور پر اس کا استعمال کسی بھی طور پر ماحول دوست نہیں قرار دیا جا سکتا۔
چند برس قبل یورپی یونین نے پام آئل کے بائیو فیول کے طور پر استعمال پر پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی ضرور کی تھی۔ اس منصوبے کے خلاف چند ہی مہینوں کے اندر انڈونیشیا اور ملائیشیا کے پام آئل برآمد کرنے والے بڑے تاجروں نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں یورپی یونین کے خلاف ایک شکایت درج کرا دی تھی۔ اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں آیا۔

پام آئل چاہیے یا نہیں

یہ ضرورت ہے اور واقعی اس پر مکمل پابندی شاید درکار نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پام آئل کے ساتھ دوسرے پودوں کو اگانے اور ٹراپیکل جنگلات کو تلف کرنے کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا۔ یہ تمام عمل پام آئل کی پروڈکشن کے ساتھ شروع کیا جانا از حد ضروری ہے۔سن 2004 میں پام آئل کی صنعت میں شامل تاجروں نے مشاورت جاری رکھنے کا ایک ادارہ ‘راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل‘ (RSPO) قائم کیا۔ اس کے اراکین میں ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) بھی شامل ہے۔ اس ادارے نے اپنی ویب سائیٹ پر یہ درج کر رکھا ہے کہ پام آئل معاشرتی اقدار اور ماحول دوست انداز میں ذمہ داری کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے

سینکڑوں پام آئل تیار کرنے والی کمپنیوں نے RSPO کی مہر حاصل کر رکھی ہے اور وہ ان کی مصنوعات پر چھاپی جاتی ہے۔ ایسا رویے اپنانے کی ماحول دوست کارکنوں اور کئی اداروں نے مذمت کی ہے۔ ان میں ایک ادارہ گرین پیس ہے اور اس کا کہنا ہے کہ RSPO کے معیار پر انتہائی کم توجہ دی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button