بین الاقوامی خبریں

افغانستان میں دہشت گردانہ حملے، بائیڈن انتظامیہ کو تشویش

افغانستان میں دہشت گردانہ حملے، بائیڈن انتظامیہ کو تشویش

حملےواشنگٹن : (ایجنسی)پیر کو افغان وزیر مملکت برائے امن ایک بم دھماکے میں معمولی زخمی ہو گئے اورکابل میں ایک دوسرے حملے میں فوج کی ایک گاڑی میں نصب کردہ بم کے دھماکے میں ایک پولیس افسر اور ایک شہری بھی ہلاک ہو گیا۔افغان پولیس کے مطابق خوشنود نبی زادہ ایک بکتر بند گاڑی میں سوار تھے کہ یہ دھماکا کابل کی ایک سڑک پراْس وقت ہوا جب ان کے گاڑی قریب سے گزر رہی تھی۔

یہ دہشت گردانہ حملہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں شہریوں پر تسلسل سے ہونے والے حملوں میں سے تازہ ترین واقعہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق خوشنود نبی زادہ ایک مقامی نیوز ایجنسی خامہ کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔افغانستان میں چھوٹے مقناطیسی بموں کے ذریعے ہلاکتیں، گاڑیوں پر چھپ کر فائرنگ اور گاڑیوں کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے ان کو دھماکوں سے اڑا دینے کے واقعات افغان عہدیداروں، کارکنوں اور صحافیوں کے لیے سخت پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ملک میں عدم استحکام کے تسلسل کی بڑی وجہ بھی ہیں۔

افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے باوجود اس طرح کے دہشت گردانہ واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن UNAMA (یوناما) نے آج یکم فروری کو کابل میں کیے گئے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن عمل میں شامل ایک سینئر اہلکارکو حملے کا نشانہ بنانا قابل افسوس واقعہ ہے اور یہ امن عمل پر حملے کے مترادف ہے۔

یہ بیان یوناما نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں دیا۔ اس بم حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی۔ افغانستان میں سرکاری اہلکار عام طور پر طالبان کو اس طرح کے حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button