وقف قوانین ختم کرنے کی مہم کا آغاز ۔ جائیدادوں سے محروم کرنے کی پہل
وقف ایکٹ 1995 کو برخواست کیا جاتا ہے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تو صرف موقوفہ جائیدادیں ہی نہیں بلکہ عبادتگاہوں کو بھی خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹی وی چیانلس پر مباحث کے ذریعہ ماحول تیار کرنے کی کوشش۔ نام نہاد مسلم نما چہرے بھی مباحث کا حصہ ۔ ذمہ داران ملت کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت
حیدرآباد:(محمد مبشرالدین خرم)ہندستان بھر میں مسلمانوں کے عرصہ حیات کو تنگ کرنے انہیں بیک وقت کئی محاذوں پر الجھانے اور بکھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بابری مسجد‘ طلاق ثلاثہ ‘ سی اے اے ۔این آر سی ‘ گیان واپی ‘ حجاب معاملہ کے علاوہ دینی مدارس کے سروے کے دوران مسلم دشمن قوتوں نے اب ملک میں مسلمانوں کی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کی ہے اور ہندوستان میں موجود اوقافی قوانین کو ظالمانہ قوانین قرار دیتے ہوئے انہیں برخواست کرنے کی بحث چھیڑی جاچکی ہے۔ مرکز میں بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کے بعد مخالف مسلم قوانین کی تیاری اور ہراسانی کے معاملوں میں اضافہ کے دوران اب مسلمانوں کو ان کے حقوق سے اور ان کی جائیدادوں سے محروم کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا جاچکا ہے۔
ملک کے ایک ٹیلی ویژن چیانل پر ’وقف کے خصوصی موقف کو برخواست کرنے کی مہم‘ کے ساتھ مباحث کے دوران سبرامنیم سوامی کو مباحث میں مدعو کرکے وقف ایکٹ کے خلاف بحث چھیڑدی گئی ہے ۔ ٹیلی ویژن چیانلس پر وقف ایکٹ کے خلاف مباحث کے دوران یہ باور کروایا جانے لگا کہ اب ملک میں وقف ایکٹ کو ختم کرنے کا وقت آچکا ہے۔ ہندستان کی کئی ریاستوں میں وقف بورڈ کے تحت لاکھوں کروڑ کی جائیدادیں موجود ہیں اور ان جائیدادوں کے علاوہ وقف قوانین کے مطابق مساجد ‘ مسلم قبرستان اور وقف اراضیات وقف ہوتی ہیں ۔
ہندستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبہ کے تحت اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ہندستان میں دفاعی اداروں و ریلویز کے بعد سب سے زیادہ جائیدادیں مختلف ریاستوں میں وقف بورڈز کے پاس ہیں ۔ 1954 وقف ایکٹ کی منظوری کے بعد 1964سنٹرل وقف کونسل کے قیام کے حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ وقف بورڈ کی سب جائیدادیں جو کہ وقف قوانین کے اعتبار سے ’ اللہ کی ملکیت ‘ ہوتی ہیں ۔ وقف ایکٹ 1995 کی مختلف شق کو مباحث کے دورن چیالنج کرکے چیانل پر یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ وقف ایکٹ کے ذریعہ ملک میں اراضیات پر وقف بورڈ کے ذریعہ قبضہ کیا جا رہا ہے۔
ٹاملناڈو کی ایک مندر کے وقف بورڈ میں درج ہونے ‘ گیان واپی معاملہ کے بعض امور کو بنیاد بناتے ہوئے بحث کے دوران وقف ایکٹ 1995 کے سیکشن 4,5 اور 6 کے علاوہ سیکشن 101 اور 54کے ساتھ سیکشن 40(3) پر اعتراضات کے ذریعہ یہ کہا جا رہاہے کہ یہ وقف ایکٹ دیوانی مقدمات سے متعلق قوانین پر لاگو نہیں ہوتا اسی لئے اس ایکٹ کو فوری برخواست کردیا جانا چاہئے۔ وقف ایکٹ 1995 کو برخواست کرنے اشونی کمار اپادھیائے نامی شخص نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کردی ہے ۔
ٹیلی ویژن چیانل پر مباحث میں وشوا ہندو پریشد کے علاوہ بعض ایسے مسلمانوں کو بھی شامل کرکے ان کے ذریعہ اوقافی قوانین کی مخالفت کروائی جا رہی ہے جو امت کو نقصان پہنچانے والوں کے آلہ کار کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ریکارڈس کے مطابق ہندستان میں 6 لاکھ 59 ہزار877 درج اوقاف جائیدادیں ہیں جن کے تحت زائد از 8لاکھ ایکڑ اراضیات ہیں اور اگر وقف ایکٹ 1995 کو برخواست کیا جاتا ہے تو یہ تمام جائیدادیں جو کہ اللہ کی ملکیت ہیں اور سپریم کورٹ نے وقف جائیدادوں کے معاملہ میں جاری مقدمہ کے دوران یہ کہا تھا کہ Once a Waqf Always a Waqf اور اب یہ جائیدادیں ان لوگوں کو کھٹکنے لگی ہیں جو ملک میں مسلمانوں کو برباد و نامراد دیکھنا چاہتے ہیں۔
آزاد ہندستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی جائیدادوں کو چھیننے 1953 جاگیر ابالیشن ایکٹ لایا گیا کیونکہ اس دور میں مسلمان جاگیردار ہوا کرتے تھے انہیں ان کی جاگیروں سے محروم کرنے اقدامات ناگزیر تصور کئے گئے اور جاگیر وں کو ختم کرنے بنائے گئے قانون کے بعد بھی جب یہ محسوس کیا گیا کہ جاگیر ابالیشن ایکٹ کے باوجود مسلمانوں کے پاس جائیدادیں موجود ہیں تو 1976 میں اربن لینڈ سیلنگ ایکٹ لاکر شہری حدود میں ایکڑوں میں موجود اراضیات کو چھین لیا گیا اور اب وقف بورڈ کے پاس موجود 8 لاکھ ایکڑ اراضیات کھٹکنے لگی ہیں اگر اس معاملہ میں مسلم ذمہ دار‘ عمائدین اور علمائے اسلام خاموشی اختیار کرتے ہیں تو شرعی قوانین وقف میں حکومت راست مداخلت کی مجاز گردانی جائیگی اور مساجد‘ خانقاہیں‘ درگاہیں ‘ قبرستان کے علاوہ جو بھی ادارۂ جات وقف ہیں ان کے تحفظ کی بنیاد ختم ہوجائے گی۔
وقف ایکٹ 1995 کو محض اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا قانون تصور کرنے والوں کے علاوہ وقف امور کو مخصوص خانقاہی نظام سے مربوط تصور کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس قانون کی ان باریکیوں کا جائزہ لیں جو ملک میں مسلمانوں کی املاک جو کہ اللہ کی امانت ہیں اس کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ ہندوتوا تنظیموں کے علاوہ زرخرید مسلمان جو کہ وقف ایکٹ 1995 کی مخالفت میں مباحث کا حصہ بن رہے ہیں ان کی نظریں صرف اوقافی جائیدادوں پر نہیں ہیں بلکہ وہ مساجد‘ درگاہوں‘ خانقاہو ں کے علاوہ قبرستانوں کو اس ایکٹ کے ذریعہ تحفظ کو ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔
بابری مسجد‘ طلاق ثلاثہ کے علاوہ دیگر معاملات میں جس طرح سے کمزور موقف اختیار کیا گیا اگر وہی موقف وقف قوانین کے متعلق اختیار کیا جاتا ہے تو ہندو انتہاء پسند تنظیموں کو بابری مسجد‘ گیان واپی مسجد‘ ہبلی عید گاہ‘ کاشی متھرا کے علاوہ ٹیلے والی مسجد و دیگر مساجد و مذہبی مقامات کیلئے علحدہ مقدمات کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا بلکہ حالیہ دنوں میں گیان واپی معاملہ میں ضلع عدالت نے عبادت گاہوں سے متعلق قانون ’’ پلیسس آف ورشپ ایکٹ 1991‘‘ کو نظر انداز کرکے مداخلت کی راہیں ہموار کردی ہیں اور اگر ایسے میں وقف ایکٹ 1995 کو برخواست کیا جاتا ہے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تو صرف موقوفہ جائیدادیں ہی نہیں بلکہ عبادتگاہوں کو بھی خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔



