قومی خبریں

اے سی بی کا ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کے 4 مقامات پر چھاپہ

میرے غائبانہ میں پولیس کو بھیج کر اہل خانہ پر تشدد کیا گیا:امانت اللہ خان

نئی دہلی ، 16 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی اینٹی کرپشن برانچ نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے 4 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ اے سی بی نے ایک جگہ پر 1 ہتھیار دریافت کئے جانے کا مبینہ دعویٰ کیا ہے ، جس کا لائسنس امانت اللہ خان ابھی تک نہیں دکھا سکے ہیں۔ آج امانت اللہ کو بھی اے سی بی نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔ ذرائع کے مطابق امانت اللہ کے بزنس پارٹنر پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ اے سی بی کو چھاپے کے دوران 12 لاکھ روپے نقد بھی ملے ہیں۔اے سی بی کی پوچھ گچھ کے بارے میں ایم ایل اے امانت اللہ نے کہا کہ مجھے پوچھ گچھ کے لیے اے سی بی کے دفتر بلایا گیا اور پیچھے سے دہلی پولیس کو میرے اہل خانہ پر تشدد کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔

ایل جی صاحب سچ پریشان ہوسکتاہے ،لیکن کبھی جھک نہیں سکتا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے اس ملک کے آئین اور عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ امانت اللہ خان نے یہ بھی کہا کہ 2020 میں میرے خلاف ایف آئی آر درج کرایا گیا ۔ پوچھ گچھ کرنے والے کہتے ہیں کہ مجھ پر دباؤ ہے۔ ہم نے حکومت سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔امانت اللہ خان دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے نوٹس کے بارے میں ٹویٹ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں وقف بورڈ کا نیا دفتر مل گیا ہے، اس لئے انہیں طلب کیا گیا ہے۔درحقیقت انسداد بدعنوانی برانچ (اے سی بی) نے جمعرات کو وقف بورڈ سے متعلق دو سال پرانے معاملہ میں پوچھ گچھ کے لیے عام آدمی پارٹی کے لیڈر امانت اللہ خان کو نوٹس جاری کیا تھا۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اوکھلا حلقہ کے ممبراسمبلی کو 2020 میں انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت درج کیس کے سلسلے میں جمعہ کو دوپہر 12 بجے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اے سی بی دہلی وقف بورڈ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button