دلچسپ خبریں

کیڑوں کی دنیا کا ایک نایاب کیڑا

کیڑا اپنے انڈے سے باہر آتا ہے یہ اپنے اردگرد سلک کوکون کی چادر لیپٹ لیتا ہے اس چادر کے اندر یہ اتنی دیر تک رہتا ہے جب تک یہ جوان نا ہو۔

یہ Bagworm Moth ہے۔ یہ کیڑوں کی دنیا کا ایک وہ نایاب کیڑا ہے جو فن تعمیر کا ماہر ہے۔ جونہی یہ کیڑا اپنے انڈے سے باہر آتا ہے یہ اپنے اردگرد سلک کوکون کی چادر لیپٹ لیتا ہے اس چادر کے اندر یہ اتنی دیر تک رہتا ہے جب تک یہ جوان نا ہو۔

اپنی زندگی کو دوسرے شکاری جانوروں سے محفوظ بنانے کی خاطر یہ کیٹر پیلر اپنی سلک کوکون کو مزید مضبوط کرلیتا ہے ان چھوٹی چھوٹی درختوں کی ٹہنیوں سے یا جو کچھ بھی اسے میسر ہو اپنے آس پاس کے ماحول سے۔ جب اس کا یہ ڈھانچہ یا لاگ ہاوس تیار ہوتا ہے تو اسے cases کہتے ہیں جس کی وجہ سے یہ moth زیادہ تر ’’case moths‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ان ٹہنیوں کو بڑی خوبصورتی سے کاٹتا ہے اپنے منہ سے اور اس لاگ ہاؤس کی صورت میں ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے اوپر نیچے اپنے جسم کے اوپر۔

اس موٹھ کے یہ cases جب تیار ہو جاتے ہیں تو یہ زیادہ تر جڑے ہوتے ہیں چٹانوں کے ساتھ، درختوں اور ان کے پتوں کے ساتھ لیکن یہ کیڑا ایک جگہ مستقل نہیں ٹھہرتا بلکہ اپنی خوراک کی خاطر اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے اور یہ کیسز مسلسل اس کی حفاظت کرتے ہیں باقی جانوروں کے حملوں سے۔ ان کیسز سے خوراک کھانے کے لئے یہ اپنا سر باہر نکالتا ہے سامنے سے اور پھر اس کے اندر چھپا لیتا ہے جوں جوں یہ بڑا ہوتا ہے اس کے یہ کیسز بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑے ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے کیسز کافی مضبوط ہوتے ہیں اور اگر کوئی پرندہ یا دوسرا جانور ان پر حملہ کرتا ہے کھانے کی غرض سے تو انہیں توڑنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

یہ بگ ورم موٹھ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ انہیں کیسز کے اندر گزارتے ہیں۔ ان کیسز کا سائز 1 سینٹی میٹر سے 15 سینٹی میٹر تک کا ہوتا ہے اور ہر موٹھ کا کیس اپنی ایک نمایاں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اسپیشلی مادہ جب جوان ہوجاتی ہے تو اپنی بقیہ زندگی انہی کیسز کے اندر گزارتی ہیں لیکن نر جوان ہونے کے بعد ان کیسز کو توڑ کر اڑ کر مادہ کو ڈھونڈتے ہیں ان سے ملاپ کی خاطر۔ جب وہ آپس میں ملاپ کرتے ہیں تو مادہ اپنے انڈے اپنے پرانے گھر کے اندر دیتی ہے اور جب ان انڈوں سے نئے بچے نکلتے ہیں تو وہ پھر اپنے لئے یہ بالکل اسی طرح کے نئے گھر جنہیں لاگ ہاوس بھی کہتے ہیں اپنے لئے بناکر ان کے اندر رہتے ہیں۔٭

متعلقہ خبریں

Back to top button