جنتی پھل زیتون دوا اور غذا ✍️ڈاکٹر قرۃ العین فاطمہ عثمان دہلی
قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی اور اس امن وامان والے شہر کی (سورہ التین)
ماہیت: یہ بیر کی شکل کا پھل جس کا سائز بڑے بیر کی طرح کا اور گٹھلی ویسی ہوتی ہے۔اس کا ذائقہ کسیلا ہوتاہے۔زیتون کا پھل اور پتوں کا رس نچوڑ کر اسے اتنی دیر لگائیں کہ وہ شہد کی مانند گاڑھا ہوجائے۔اس کے کلیاں کریں تومنہ کے اندر زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں۔مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔اس میں سرکہ یا سپرٹ ملا کر سر پر لیپ کرنے سے گنج اور داء الثعلب میں مفیدہے۔اس لیپ میں شہد ملاکر زخموں پرلگانے سے ان کی سرخ اور تعفن دورکرتاہیے اگر زخم پر چھلکا آیا ہوتو اسکے لگانے سے وہ اتر جاتاہے۔اس کے مسلسل لیپ سے پھنسیوں اور چیچک کے داغ دورہو جاتے ہیں اس کی گٹھلی کو پیس کو اور چربی میں حل کرکے لگانے سے ناخنوں کا مرض ٹھیک ہوجاتاہے۔
زیتون کے پتوں کو گھوٹ کر لگانے سے پسینہ کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔ان پتوں کا ضماد جمرہ داد قوبا پتی اورنملہ کو نافع ہے۔خراب اور گندے زخموں پر لگانے سے ان کی بدبو دور کرکے جلدٹھیک کر دیتاہے۔جنگلی زیتون کے پتوں کا پانی کان میں ڈالنے سے کان بہنے بند ہوجاتے ہیں۔اگر اس میں شہد ملا کر گرم گرم ٹپکائیں تو کان کی پھنسی میل کی زیادتی اور اس سے پیدا ہونے والے بہرہ پن میں مفید ہے۔پتوں کو سرکہ میں جوش دے کر کلیاں کرنے سے دانتوں کا دردجاتارہتا ہے۔زیتون کی لکڑی کو آگ لگاکر جلائیں تو اس سے نکلنے والا تیل پھیپھوندی سے پیدا ہونے والی تمام زیتون کا اچار بھوک بڑھاتاہے۔زیادہ مقدارمیں قبض کشا ہے۔بہر حال ہوتاہے۔بہت لذیذ ہے اور مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہے۔
روغن زیتون یا زیتون کا تیل کا بیرونی استعمال
روغن زیتون کو درد اعضاء فالج اوجاع مفاصل عرق النساء اور دوسرے امراض میں تحلیل و تسکین کی غر ض سے مالش کرتے ہیں بدن کی خشکی کو دور کرنے اور جلدکے خشک امراض مثلاً چمبل اور خشک گنج میں لگاتے ہیں۔ روغن زیتون باقاعدگی سے سرپر لگانے سے نہ تو بال گرتے ہیں اور نہ ہی جلد سفید ہوتے ہیں۔ تیل اس کی مالش سے داد اور بھوسی زائل ہوجاتے ہیں۔
کان میں پانی جانے پر زیتون کا تیل ڈالنے سے یہ پانی نکل جاتا ہے۔ آگ سے جلے ہوئے اعضاء کی سوزش کو تسکین دینے کیلئے مرہم بناکر استعمال کرتے ہیں اسے مرہم میں شامل کرنے سے زخم جلد بھر جاتے ہیں۔ ناسور کومندمل کرنے کوئی دوائی زیتون سے بہتر نہیں۔ ضعیف خصوصاً لاغرو ضعیف بچوں میں اس کو بدن پر ملتے ہیں ان کے جسم سے ضعیف ولاغری دور کرتا ہے۔
بعض اطباء کے نزدیک اس کی سلائی باقاعدہ آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے اورموتیا بندکر کم کرنے میں مفیدہے بعض طبیب اس کی مالش کو مرگی کیلئے مفید قرار دیتاہے عضو مخصوص پر مالش سختی موٹاپا پیدا کرتی ہے اور محرک باہ ہے۔
اندرونی استعمال
پانی میں روغن زیتون ملاکر پینے سے پرانی قبض جاتی رہتی ہے۔روغن زیتون معدہ اور آنتوں کے اکثر امراض میں پینا مفید ہے۔پیچش میں فائدہ مند ہے۔ پیٹ کے کیڑے مار دیتا ہے۔ گردہ کی پتھری توڑ کر نکلتا ہے۔ استسقاء میں مفید اور پیشاب آور ہے۔منہ کے زخموں کو جلد مندمل کرتاہے گلے کو صاف کرتاہے قبض قروح مقعد شقاق مقعد بواسیر خونی و بادی اور حصات المرار کیلئے مفید ہے اندرونی اعضاء اور سوزش کو تسکین دیتا ہے۔ پتہ کی سوزش کے مریضوں کو بنیادی طور پر چکنائی سے پرہیز کرایا جاتا ہے۔ مگر روغن زیتون ان کیلئے مفید ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس مقصد کیلئے تین سو ملی لیٹر روغن زیتون پالاکر نالیوں سے سدے نکالنے کاکام لیا بعض اوقات اسی عمل کے دوران پتہ کی پتھریاں بھی نکل گئیں۔جب ورم آمعاء سدے کی وجہ سے قولنج ہو تو گلیسرین اور روغن زیتون پچکاری کرنا مفید ہے قوت باہ کو تقویت دینے کے لئے مفیدومجرب ہے۔
روغن زیتون زہروں کا تریاق
تیزابی زہروں کے علاج میں عام طور پر قلوی ادویہ دی جاتی ہیں جبکہ قلوی زہروں کا اثر زائل کرنے کیلئے تیزابی دوائیں استعمال ہوتی ہے۔ اس لئے زہروں کے فوری علاج میں اگر زہر سے واقفیت نہ بھی تو اکثر اوقات دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر روغن زیتوں وہ منفرد دوائی ہے جوہر قسم کی زہروں کے اثر کو زائل کرنے کے ساتھ ساتھ معدہ اور آنتوں کے مضر اثرات کو ختم کرتا ہے۔
سنکھیا کے زہر خودرنی میں اندرونی علامات سے قطع نظرخرابی کا اصل ذریعہ معدہ اور آنتوں میں سوزش ہے کیونکہ سنکھیاکھانے کے فوراًبعد آنتوں میں خراش کی وجہ سے اسہال شروع ہوجاتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد دستوں کے ساتھ خون آنے لگتاہے۔اس کے بعد آنتوں میں زخم اور سوراخ ہوجاتے ہیں اندرونی اثرات کے علاوہ اتنا کچھ ہی موت کا باعث ہوسکتا ہے۔ ان حالات میں مریض کو زیتون کا تیل بار بار پلایا جائے تو وہ آنتوں کے زخموں کو مندمل کردیتا ہے۔ سوزش کو ختم کردیتا ہے۔ اسکے ساتھ اگر لعاب بہی دانہ بھی شامل کرلیا جائے تو فوائد میں اضافہ ہوتاہے۔ ا سکے یہ لاجواب اثرات ہر زہر کا تریاق ہے۔ جو تیز جلانے والی اور آنتوں یا گردوں میں زخم پیدا کرتی ہو جیسے کینتھراڈین وغیرہ۔
قرآن پاک میں زیتون کا بیان
ترجمہ: قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور صحرائے سینا کے پہاڑ طور کی اور اس امن وامان والے شہر کی (سورہ التین)
ترجمہ: وہی اللہ ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اور اسی سے وہ درخت اگتے ہیں جن میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ اسی سے اللہ تمہارے لئے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔ (سورہ نحل)
حدیث میں زیتون کا ذکر
حضرت السید الانصاری روایات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔’’زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس کی جسم پر مالش کروکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ حضرت علقمہ بن عامر ؓ روایات فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے زیتون کا تیل موجود ہے اسے کھاؤ اور بدن پر مالش کرو کیونکہ یہ بواسیر میں فائدہ کرتا ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔’’زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے جس میں سے ایک کوڑھ (جذام )بھی ہے۔‘‘
حضرت زید بن ارقمؓ روایت فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم e ذات الجنب کے علاج میں درس اور زیتون کے تیل کی افادیت کی تعریف فرمایا کرتے تھے۔‘‘
نفع خاص: مقوی اعصاب۔
مضر: متعفن حالت میں استعمال کرنے سے خارش پیدا کرتا ہے۔
مصلح: شہد شربت بنفشہ ۔
مقدارخوراک: چھ ماشے سے ایک تولہ تک (پانچ ملی لیٹر سے بیس ملی لیٹر تک)



