کوچی ، 23ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کیرالہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے رہنماؤں کیخلاف کیرالہ میں ایک روزہ ریاست گیر بند کے خلاف از خود مقدمہ شروع کیا۔کیرالہ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق کوئی بھی ریاست میں بغیر اجازت کے بند کی کال نہیں دے سکتا۔جس کے دوران عوامی املاک کا بھاری نقصان ہورہا ہے اور عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔پی ایف آئی کی طرف سے اس کے قائدین کے دفاتر اور رہائش گاہوں پر چھاپوں کیخلاف احتجاج کرنے اور نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور دیگر ایجنسیوں کی طرف سے جمعرات کو ملک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مبینہ حمایت کے الزام میں ان کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے لیے ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔
کیرالہ کے مختلف حصوں میں تشدد کے ہلکے واقعات کی اطلاع ملی ہے کیونکہ جمعہ کو جنوبی ریاست میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی طرف سے صبح سے شام تک کی ہڑتال جاری تھی۔کیرالہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں (کے ایس آر ٹی سی) پر مختلف اضلاع بشمول ترواننت پورم، کولم، کوزی کوڈ، وائناڈ اور الاپپوزا میں مبینہ طور پر پتھراؤ کیا گیا۔ الپپوزا میں، کے ایس آر ٹی سی کی بسیں، ایک ٹینکر لاری اور کچھ دیگر گاڑیوں کو مبینہ طور پر ہرتال کال کی حمایت کرنے والوں کی طرف سے پتھراؤ میں نقصان پہنچا۔
دریں اثنا کیرالہ پولیس نے ریاست میں سیکورٹی کو بڑھا دیا اور پی ایف آئی کی طرف سے ایک دن کی ریاست گیر ہڑتال کی کال کے بعد امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ضلع پولیس کے سربراہوں کو ہدایات جاری کیں۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔خیال رہے کہ پاپولرفرنٹ آف انڈیا کی طرف سے آرایس ایس کو فکری طور پر سخت ٹکر مل رہی ہے ، اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا کیخلاف شب خون اور چھاپہ ماری اسی قبیل سے تصور کی جارہی ہے۔



