’’آج میرے یار کی شادی ہے،لگتا ہے جیسے سارے سنسار کی شادی ہے‘‘گانے کو لکھنے والا نغمہ نگار-ورما ملک
ورما ملک نے سال 1970 میں اپنے نغموں سے بالی ووڈ کو دیوانہ بنادیا تھا۔ اس وقت کے تمام فلم ساز، ہدیات کار اور موسیقار ورما ملک سے ہی نغمہ لکھانا چاہتے تھے۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان کا لکھا ہوا نغمہ فلم کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔
سلام بن عثمان،کرلاممبئی 70
بالی ووڈ میں نغمہ نگاروں کا بھی ایک بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر کسی فلم میں ایک بھی نغمہ نہیں ہوگا تو فلم ناکام ہوجاتی ہے۔ کئی فلموں میں تو آٹھ سے نو نغمے بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلموں میں موسیقار اور نغمہ نگاروں کے ساتھ ہی فلمیں کامیاب ہوتی ہیں۔ جی ہاں آج ہم ایک ایسے بہترین نغمہ نگار کے متعلق بتانے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا فلمی سفر پنجابی زبان سے نغمہ نگار کے طور پر پنجابی فلموں میں اپنی بہترین شناخت بنائی اور 40 فلموں کے بعد انھوں نے بالی ووڈ یعنی ہندی فلموں کی طرف رخ کیا۔ جی ہاں وہ اپنے وقت کے مشہور نغمہ نگاروں میں سے ایک ورما ملک تھے۔
13 اپریل 1925 کو برٹش انڈیا کے وقت پنجاب کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ آج شہر فیروز پور پاکستان کا حصہ ہے۔ انھیں بچپن ہی سے شاعری کا بہت شوق تھا۔ اسکول کے زمانے میں ہی انھوں نے شاعری کی شروعات کی تھی۔ اس وقت انھوں نے ایک نظم لکھی اور ایک گرودوارے میں پڑھا۔ سب لوگوں نے بہت پسند کیا۔ ان کا یہ شوق بڑھتا ہی گیا۔ ایک وقت آیا کہ انھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف نظمیں لکھنا شروع کیں، جس کی وجہ سے انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ اس کے بعد وہ گرودوارے میں رہنے لگے، ساتھ ہی بھجن لکھا کرتے اور اس کی موسیقی بھی سنوارتے تھے۔
اسی دوران ہندوستان کا بٹوارہ ہوگیا۔ برکت رائے پنجاب فیروز پور سے دہلی آگیے۔ دہلی میں ان کی ملاقات مشہور فلمساز ہنس راج بہل سے ہوئی، انھوں نے برکت رائے ملک کو بمبئی جانے کا مشورہ دیا۔ ہنس راج بہل کے مشورے کو قبول کیا اور بمبئی کا رخ کیا۔ 1949 میں فلم "چکوری” میں نغمہ لکھنے کا موقع ملا۔ مگر فلم کو کامیابی نہیں ملی، اس کے بعد انھوں نے کچھ اور فلموں میں نغمے لکھے مگر شناخت بنانے میں ناکام رہے۔
اس وقت ان کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ آپ اپنا نام بدل دیں۔ دوستوں کے مشورے پر انھوں نے اپنا نام برکت رائے ملک سے ورما ملک کیا۔ ہندی فلموں میں کامیابی حاصل نہیں ہونے سے انھوں نے پنجابی فلموں کی طرف رخ کیا۔ پنجابی فلموں میں ان کے نغمے کافی مقبول ہوئے ساتھ ہی انھوں نے تین فلموں میں موسیقی بھی دی۔ ورما ملک نے پنجابی فلموں میں چالیس سے بھی زیادہ نغمے لکھے۔ ایک وقت ایسا آیا کی پنجابی فلموں کا بازار گرنے لگا۔
اس کی سب سے بڑی وجہ بالی ووڈ میں چمک دھمک کے ساتھ بالی ووڈ کا بازار عروج پر تھا۔ اس دوران ورما ملک نے سات سال تک کوئی نغمہ نہیں لکھا، یوں سمجھ لیں کہ پنجابی فلم کے زوال پر وہ اس وقت (ڈپریشن) ذہنی طور پر پریشان تھے۔ سات سال کے طویل عرصے کے بعد ورما ملک نے 1967 میں ایک مرتبہ پھر بمبئی کا رخ کیا۔ اس وقت ان کی ملاقات اوپی نئیر سے ہوئی انھوں نے اپنی فلم "دل اور محبت” کے لیے نغمہ لکھنے کا موقع دیا۔
ورما ملک نے ایک نغمہ لکھا جو بہت مشہور ہوا "آنکھوں کی تلاشی لے لے میرے دل کی ہوگئی چوری۔۔۔۔۔اس نغمے کو جانی واکر پر فلمایا گیا تھا اور محمد رفیع صاحب نے اسے گایا تھا۔ اس کے بعد بھی انھوں نے کئی نغمے لکھے مگر وہ کامیابی نہیں ملی جس کی انھیں تلاش تھی۔
ورما ملک کو ایک روز موہن سہگل کی یاد آئی۔ موہن سہگل سے ملنے پر انھیں مشورہ ملا کہ آپ کلیان جی آنند جی سے کیوں نہیں ملتے۔ اس وقت کلیان جی آنند جی منوج کمار کی فلم "اپکار” کے لیے موسیقی دے رہے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات منوج کمار سے ہوئی۔ منوج کمار ورما ملک کو پہلے ہی سے جانتے تھے۔ ورما ملک سے گفتگو کے دوران منوج کمار نے پوچھا کچھ لکھا ہے آپ نے۔۔۔؟ ورما ملک نے کچھ نغمے دکھائے۔ اس وقت منوج کمار کو ایک نغمہ بہت پسند آیا تھا جسے بعد میں منوج کمار نے اپنی فلم یادگار میں اس نغمے میں کچھ تبدیلی کے ساتھ فلم میں شامل کیا اور نغمہ بہت مشہور ہوا۔
"ایک تارا بولے.. تن.. تن…” نغمہ اتنا مشہور ہوا کہ ورما ملک بالی ووڈ میں مشہور ہوگئے۔ اس کے بعد منوج کمار کی فلم "پہچان” میں سات نغموں میں سے تین نغمہ ورما ملک نے لکھا اور وہ بہت مشہور ہوا ساتھ ہی ورما ملک بہترین نغمہ نگار کے ایوارڈ سے نوازے گئے۔ فلم "پہچان” کے نغموں سے ورما ملک نے بالی ووڈ میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ "سب سے بڑا نادان وہی ہے جو سمجھے نادان۔۔۔۔۔” "وہ پری کہاں سے لاؤں تیری دلہن جسے بناؤں۔۔۔۔۔”
1970 میں ریکھا کی پہلی فلم "ساون بھادوں” میں نغمہ لکھا اور کئی سال تک لوگوں کی زبان پر تھا۔ "کان میں جھمکا چال ٹھمکا کمر پہ چوٹی لٹکے۔۔۔۔” ۔”سن سن اوے گلابی کلی تیری میری بات کچھ۔۔۔۔۔”
ورما ملک نے تعلیم پنجابی اور اردو میں حاصل کی تھی۔ انھیں ان دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ مگر اس دوران ایک وقت ایسا آیا کہ انھیں ہندی میں نغمہ لکھنے کو کہا گیا۔ انھیں ہندی صحیح سے لکھنے نہیں آتی تھی۔ ورما ملک نے ہمت نہیں ہاری، چیلینج کو قبول کرتے ہوئے انھوں نے ہندی سیکھا۔ 1971 میں انھوں نے بہت نغمے ہندی میں لکھے۔ اسی سال انھیں فلم” ہم تم اور وہ ” میں ایک شدھ ہندی نغمہ لکھنے کے لیے کہا گیا، فلم کے سیچویشن پر ورما ملک نے بہت ہی بہترین انداز میں نغمہ لکھا۔ "پریہ پران سری ہردیہ سری۔۔یدی آپ ہمیں آدیس کرے تو پریم کا ہم سری گنڈیش کرے۔۔۔۔”
ورما ملک نے اس نغمے کے ساتھ بالی ووڈ میں سب کو حیرت زدہ کر دیا۔ اس کے بعد تو ورما ملک نے ہندی میں کئی سپر ہٹ نغموں کو ترتیب دیا اور وہ تمام کے تمام مشہور ہوئے۔ جن میں فلم "بے ایمان” میں "نا عزت کی چنتا نا فکر کرے ایمان کی۔۔۔۔۔” یہ راکھی بندھن ہے ایسا۔۔۔۔۔” "پنڈت جی میرے مرنے کے بعد۔۔۔۔” چلو رے ڈولی اٹھاؤ کہار پیا ملن کی رت آئی۔۔۔۔” "سن بال برہما چاری میں ہوں کنیا کنواری۔۔۔۔”
ورما ملک نے سال 1970 میں اپنے نغموں سے بالی ووڈ کو دیوانہ بنادیا تھا۔ اس وقت کے تمام فلم ساز، ہدیات کار اور موسیقار ورما ملک سے ہی نغمہ لکھانا چاہتے تھے۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان کا لکھا ہوا نغمہ فلم کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔
فلم "روٹی کپڑا اور مکان” کے نغموں نے ان کے کیریئر کی سب سے بڑی ہٹ فلمیں تھی۔ "باقی کچھ بچا تو مہنگائی مار گئی” نے بناکا گیت مالا کی 1975 کی سالانہ درجہ بندی میں نمبر 1 مقام حاصل کیا۔ اس سال پروگرام کا گانا نمبر 2 اسی فلم کا رہا "ہائے ہائے یہ مجبوری”۔ دونوں نغمے ورما ملک نے لکھے تھے۔ فلم روٹی کپڑا اور مکان کے وقت جب ورما ملک نے ایک نغمہ لکھا تو پورا یونٹ حیران تھا کہ یہ کیسا نغمہ ہے، کبھی یہ قوالی بن جاتا ہے، تو کبھی کہاں چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس نغمے میں ٹہراؤ بھی بہت تھا۔ اس وقت بالی ووڈ کے کسی بھی نغموں میں ایسا ٹہراؤ نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس نغمے کو جب موسیقار اور یونٹ کے دیگر لوگوں نے پڑھا تو حیران ہوگئے یہ کیسا نغمہ ہے۔
اس کو کیسے فلمایا جائے گا۔ لتا منگیشکر، جانی بابو قوال، پریم ناتھ، موسمی چٹرجی ان تمام لوگوں کا تو ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ جیسے ہی اس نغمے کو ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں ریکارڈ کیا گیا تو پورا یونٹ جب ریکاڈنگ روم سے باہر آیا تو ہر کوئی یہ نغمہ گنگنا رہا تھا۔ "باقی جو بچا تو مہنگائی مار گئی۔۔۔۔۔۔” یہ نغمہ ہر گلی کوچوں، محلوں میں زور و شور سے گایا اور بجایا جارہا تھا۔ اس وقت ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اس نغمے کو برداشت نہیں کرسکیں اور اس نغمہ پر پابندی لگا دی، مگر بعد میں منوج کمار کی درخواست پر پابندی ہٹا دی گئی۔ ورما ملک کے کچھ مشہور نغمے۔۔۔۔
1973 میں "تم نے کبھی کسی سے پیار کیا ہے۔۔۔۔۔بڑے دور سے لائے ہیں پیار کا تحفہ لائے۔۔۔۔۔۔1974 میں "میری بات کے معنی دو جسے اچھا لگے اسے اپنا لو۔۔۔۔” 1975 میں فلم ناگن "تیرے عشق کا مجھ پر۔۔۔۔تیرے سنگ پیار میں نہیں چھوڑنا۔۔۔” 1976 میں "ایک سے بڑھ کر ایک میں لائی ہوں تحفے انیک۔۔۔۔” 1977 میں "آج میرے یار کی شادی ہے۔۔۔” یہ نغمہ پورے ہندوستان میں اتنا مشہور ہوا کہ ہر مذہب کی شادی میں یہ نغمہ بجایا جاتا تھا۔ 1978 میں ” آج فیصلہ ہوجائے گا تم نہیں یا ہم۔۔۔۔۔” 1979 میں "اری او پڑوسن کی لڑکی تجھے دیکھ طبعیت۔۔۔” "تیرے ہاتھوں میں پہنا کے چوڑیاں ۔۔۔۔” "لے میں تیرے واسطے سب چھوڑ کے آگئی۔۔۔۔” چلو رے ڈولی اٹھاؤ ۔۔۔۔” "چندہ ماما سے پیارا میرا ماما۔۔۔۔”
ورما ملک بہترین نغمہ نگاروں میں سے ایک تھے۔ وہ ہر دہائی میں فلم ساز اور ہدایت کار کے کہنے پر ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ ورما ملک ماہر نغمہ نگار تھے۔ انھوں نے ہر اس زبان میں نغمہ لکھا جس زبان میں کہا گیا، جس کی وجہ سے وہ بالی ووڈ میں مشہور تھے۔وہ ایسے ماہر نغمہ نگار تھے کہ انھوں نے ہر سچویشن کو دیکھتے ہوئے نغمہ لکھا۔ ان کا ایک بہت مشہور نغمہ قوالی کے طرز پر تھا، جسے پران اور بندو پر فلمایا گیا تھا بہت مشہور ہوا۔ "راز کی بات کہہ دوں تو جانے محفل میں پھر کیا ہو۔۔۔۔۔۔”
1980 کی دہائی نے بالی ووڈ نے مزاج بدلا فلمیں نئے انداز میں بنائی جارہی تھیں۔ جس میں تھرکتے اور ڈسکو ڈانسر کا زمانہ چل پڑا ٹھا۔ اس وقت بھی ورما ملک نے ہمت نہیں ہاری نغمے لکھتے رہے۔ 1987 میں فلم "کل یگ” میں منوج کمار نے اپنے بیٹے کو بطور ہیرو پہلی فلم بنانے جارہے تھے۔ اس وقت بھی منوج کمار نے ورما ملک کو ہی نغمہ لکھنے کو کہا۔ اس فلم کا ایک نغمہ بہت مشہور ہوا "چل بھاگ چلے پورب کی اوور۔۔۔۔۔”
1990 میں بالی ووڈ کا مزاج ایک مرتبہ اور بدلہ، وہ دور ایکشن فلموں کا تھا۔ ورما ملک پر ایکشن فلموں نے روک لگائی جس کی وجہ سے انھوں نے نغمے لکھنا بند کردیا۔
ورما ملک نے 15 مارچ 2009 کو اپنے مکان جوہو ممبئی میں آخری سانس لی اور 83 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ورما ملک ایک خاموش مزاج سادگی پسند انسان تھے۔ انھیں اپنے کام پر فخر تھا۔ انھیں روایتی پنجابی لوک نغموں کو فلمی نغموں میں ترتیب دینے میں مہارت حاصل تھی۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ فلمی شائقین نے بھی انھیں بھلا دیا۔




