
پی ایف آئی پر پابندی: دہلی پولیس نے پی ایف آئی کے حوالے سے دوسری ایف آئی آر درج کی، 2 گرفتار
نئی دہلی ، 5اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) پر پابندی کے بعد دہلی پولیس نے PFI کے خلاف قانونی کارروائی مزید تیز کر دی ہے۔ پولیس نے شمال مشرقی ضلع کے کھجوری خاص میں پی ایف آئی اور اس سے منسلک تنظیموں کیخلاف دوسری ایف آئی آر درج کی ہے۔پولیس نے پی ایف آئی کے سیاسی ونگ ایس ڈی پی آئی کے دہلی ریاستی صدر ڈاکٹر اسرار علی خان اور رکن ڈاکٹر سامون کو گرفتار کیا ہے۔ ان دونوں کیخلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان دونوں کو 27 ستمبر کو دہلی پولیس ایکٹ 107/151 کے تحت پکڑا گیا تھا۔ انہیں 7 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا اور دونوں پیر کو جیل سے باہر آئے، لیکن پھر گرفتارکرلئے گئے۔
دہلی پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی کہ کھجوری خاص پولیس اسٹیشن میں یو اے پی اے کے تحت ایف آئی آر درج کرتے ہوئے پی ایف آئی کے سیاسی ونگ ایس ڈی پی آئی کے دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اسرار کے لواحقین نے کہا کہ خانوادہ کی تاریخ ملک اور سماج کی خدمت کی رہی ہے۔ اسرار کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ دہلی پولیس انہیں جھوٹے طور پر پھنس رہی ہے۔ان کے بیٹے ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ ان کے والد آیوروید کے ڈاکٹر تھے اور 90 کی دہائی میں یوپی کے پرتاپ گڑھ سے دہلی آئے تھے،تب سے وہ شری رام کالونی میں مقیم ہیں۔ وہ طویل عرصے سے بی ایس پی سے منسلک ہیں۔
بی ایس پی کے بانی کانشی رام کے زمانے میں جنرل سکریٹری رہنے کے ساتھ وہ کروال اسمبلی سے ایم ایل اے اور کارپوریشن کونسلر کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ڈاکٹر عمران کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے تقریباً 2016 میں ایس ڈی پی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کبھی بھی کسی قسم کی اشتعال انگیز تقریر یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ 27 ستمبر کو سہ پہر 3 بجے دہلی پولیس نے انہیں گھر سے پکڑا تھا۔ہمیں جو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ڈاکٹر اسرار علی اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔
تاہم ابھی تک ہمیں پولیس کی جانب سے کوئی دستاویز نہیں ملی ہے۔ڈاکٹر اسرار کے پڑوس میں رہنے والے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ ان کے خاندان کا دوسرا بڑا بھائی فوج میں اور ایک بڑا بھائی مدھیہ پردیش پولیس میں رہ چکا ہے۔ ہمارا خاندان ملک کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ میرا بھائی کافی عرصے سے بی ایس پی میں رہا ہے۔ شاید یہ کوئی ایسا قدم ہو، جس کی وجہ سے اب پولیس اسے اس طرح سے گرفتار کر رہی ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔



