دس ہندوؤں کو ڈوبنے سے ایک مسلمان نے بچایا
مانک نے دیکھا کہ جو لوگ دریا کے اندر مورتی کو وسرجن کرنے کے لیے موجود تھے وہ تیز دھار کے ساتھ ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ اس وقت ہر کوئی ویڈیو بنا رہا تھا یا تماشا دیکھ رہا تھا مگر اس مشکل وقت میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیرمحمد مانک اپنا موبائل اپنے دوست کے حوالے کیا اور اس سے قبل اس کا دوست کچھ سمجھ پاتا محمد مانک نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔
مسلم نوجوان نے کہا،اللہ کا نام لے کر ریسیکو کیلئے دریا میں کود پڑا
کولکاتہ، 7اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)’’میں نے اللہ کا نام لے کر دریا میں چھلانگ لگا دی، مجھے اتنا یقین تھا کہ صرف اللہ ہے اور میں تیرنا جانتا ہوں‘۔یہ الفاظ ہیں محمد مانک کے، جس نے درگا پوجا کے وسرجن (غرقِ دریا کا عمل)کے دوران دریا میں اچانک پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے بعدڈوب رہے متعدد افراد میں سے دس کو بچا لیا،صرف بنگال ہی نہیں ،بلکہ ملک کے لیے ایک مثال بن کر سرخیوں میں ہے۔یہ خبر ملک کی تہذیب اور بھائی چارے کی اصلی تصویر پیش کرتی ہے ۔
محمد مانک نے ملک کو بتا دیا کہ آفت اور مصیبت میں کوئی کسی کا مذہب یا ذات نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسانی جان سے زیادہ قیمتی کچھ نہیں۔مغربی بنگال کے جل پائی گوڑی ضلع کے ایک چھوٹا سے قصبہ مغربی تیشیمالا کے محمد مانک اب بنگال کے ہیرو ہیں۔جلپائی گوڑی کے مال بازار میں عبدالخالق کا گھر مہمانوں سے بھرا ہے۔ ہر کوئی مبارک باد دینے آرہا ہے۔ہر سال درگا پوجا کے موقع پر وسرجن ایک میلہ بن جاتا ہے۔ اس دن بھی وہ تقریباً 8:30 بجے وسرجن کے مقام پر پہنچے تھے اور چند لمحوں بعد پانی کی سطح بلند ہوگئی۔
مانک نے دیکھا کہ جو لوگ دریا کے اندر مورتی کو وسرجن کرنے کے لیے موجود تھے وہ تیز دھار کے ساتھ ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ اس وقت ہر کوئی ویڈیو بنا رہا تھا یا تماشا دیکھ رہا تھا مگر اس مشکل وقت میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیرمحمد مانک اپنا موبائل اپنے دوست کے حوالے کیا اور اس سے قبل اس کا دوست کچھ سمجھ پاتا محمد مانک نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔
محمد مانک نے کہا کہ میں نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے دیکھا، جس کو بھی میں پکڑ سکتا تھا، میں نے انہیں باہر نکالا اور گھسیٹتے ہوئے کنارے تک لے گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ پتھروں سے لپٹے ہوئے تھے اور بہاؤ بہت تیز تھا۔ریسکیو آپریشن کے دوران مانک زخمی ہو گیا اور اسے محسوس ہوا کہ اس کے دائیں پاؤں کے انگوٹھے سے خون بہنے لگا۔ اسے ایک فائر فائٹر نے رومال دیا تھا، جسے مانک نے کٹے ہوئے حصے پر باندھا اور لوگوں کی مدد کے لیے واپس دریا میں غوطہ لگایا۔
تقریباً 2 گھنٹے تک دریا سے کنارے تک کی جدوجہد کے سبب تھکاوٹ مانک کے جوش پر غالب آگئی اور اسے اس کا دوست اسپتال لے گیا، جہاں اسے ابتدائی طبی امداد دی گئی۔وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ان کے ایک دوست کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر چند اور مانک ہوتے تو وسرجن کی جگہ سے کم ہلاکتیں ہوتیں۔ تھوڑی دیر بعد لائف جیکٹ پہنے شہری دفاع کے رضاکار بھی کود پڑے، اس کے بعد فائر بریگیڈ اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس بھی آگئی مگرایک گھنٹے بعد۔ہر کوئی محمد مانک کی کہانی سنا رہا ہے کہ کس طرح اس نے پانی میں چھلانگ لگانے کے بعد اس نے لہروں کا مقابلہ کرکے ڈوبتے ہوئے ہندؤں کو ایک ایک کرکے کنارے پر پہنچایا۔ اس دوران اس کی ٹانگ بھی زخمی ہو گئی۔



