بڑے جانوروں میں ’’ Lumpy ‘‘ وائرس، گوشت کے استعمال پر انسانوں میں منتقلی ممکن
بڑے جانوروں اور مویشیوں کے گوشت کا استعمال بند کردینے کی صلاح دی ہے۔ اس کے علاوہ بکریوں اور مینڈوں کے گوشت سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا ہے اور آئندہ دو تا تین ہفتوں تک گوشت کا مکمل استعمال بند کرنے پر زور دیا ہے تاکہ اس وائرس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاسکے۔
تین ہفتوں تک گوشت کا استعمال نہ کرنے کا مشورہ
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بڑے جانوروں کو متاثر کرنے والے ’’لمپی وائرس‘‘ دن بہ دن پھیلتا جارہا ہے۔ پڑوسی ریاستوں میں محدود لمپی وائرس بتایا جاتا ہے جو ریاست میں بھی داخل ہوچکا ہے۔ جانوروں کو خطرناک انداز سے متاثر کرنے والے اس وائرس کے انسانوں کو متاثر کرنے کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے اور کسی بھی وقت لمپی وائرس انسانوں میں داخل ہوکر متاثر کرسکتا ہے۔
ماہرین اور دانشوروں نے لمپی وائرس کی روک تھام اور انسانوں کو متاثر کرنے سے روک تھام کیلئے گوشت سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے اور فوری طور پر بڑے جانوروں اور مویشیوں کے گوشت کا استعمال بند کردینے کی صلاح دی ہے۔ اس کے علاوہ بکریوں اور مینڈوں کے گوشت سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا ہے اور آئندہ دو تا تین ہفتوں تک گوشت کا مکمل استعمال بند کرنے پر زور دیا ہے تاکہ اس وائرس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاسکے۔ ایک تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہیکہ بڑے جانوروں سے یہ وائرس انسان میں داخل ہورہا ہے۔
ہندوستان میں ایسے واقعات کا خطرہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے بڑے شہروں کے علاوہ ٹاؤن اور ضلع ہیڈکوارٹرس میں بھی بڑے جانوروں کے گوشت کا بہت زیادہ استعمال دیکھنے میں آیا ہے۔ ان حالات کے سبب ماہرین نے وائرس سے بچاؤ کیلئے گوشت سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا ہے حالانکہ گذشتہ دنوں لمپی وائرس کا خوف مارکٹ میں صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے اور جانوروں کی خرید و فروخت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب تازہ تحقیق کے بعد ماہرین کے مشورہ سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔ ایسے امکانات بتائے جارہے ہیں۔



