قومی خبریں

قد آور سیاسی لیڈرملائم سنگھ یادوکا 82 سال کی عمر میں انتقال

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو کا انتقال ہو گیا ہے۔انہوں نے آج (10 اکتوبر) صبح 8:16 بجے گروگرام کے میدانتا اسپتال میں 82 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ ملائم سنگھ یادو کو سانس لینے میں تکلیف اور کم بلڈ پریشر کی شکایت کے بعد 22 اگست کو میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، تاہم ان کی طبیعت میں بہتری نہیں آرہی تھی اور انہیں یکم اکتوبر کی رات آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کا ایک پینل ان کا علاج کر رہا تھا۔

واضح ہوکے ملائم سنگھ یادو کی اہلیہ سادھنا گپتا کا اس سال جولائی میں انتقال ہو گیا تھا۔ پھیپھڑوں میں انفیکشن کی وجہ سے گروگرام کے ایک نجی اسپتال میں علاج کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ سادھنا ملائم سنگھ یادو کی دوسری بیوی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی مالتی دیوی کا 2003 میں انتقال ہو گیا تھا۔ مالتی دیوی اکھلیش یادو کی ماں تھیں۔

ملائم سنگھ یادو کے بیٹے اکھلیش یادو نے پارٹی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ ایک ٹویٹ میں اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی۔سماج وادی پارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کیا گیا ۔ ملائم سنگھ یادو کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ میرے قابل احترام والد اور سب کے لیڈر اب نہیں رہے۔

 ملائم سنگھ یادو (82 سالہ) ہریانہ کے گروگرام کے میدانتا ہاسپٹل میں ایک ہفتہ سے زیادہ وقت سے  زیر علاج  تھے۔

کل سفئی میں ادا کی جائیں گی ملائم کی آخری رسومات

کل یعنی 11 اکتوبر 2022 کو سہ پہر 3 بجے سیفئی میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ایس پی صدر اور ملائم کے بیٹے اکھلیش یادو نے ٹویٹ کرکے اس کی اطلاع دی۔اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی کے انتقال پر سماج وادی پارٹی میں سوگ کی لہر ہے۔

تین ماہ قبل میدانتا میں ہی ملائم کی دوسری بیوی کا ہوا تھا انتقال

سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ نیتا جی نے گروگرام کے میدانتا اسپتال میںآج صبح 8.15 بجے آخری سانس لی۔ خاص بات یہ ہے کہ میدانتا اسپتال میں تقریباً تین ماہ قبل ان کی دوسری بیوی سادھنا گپتا نے بھی آخری سانس لی تھی۔ سادھنا گپتا بی جے پی لیڈر اپرنا یادو اور پرتیک یادو کی ماں تھیں۔بات سال 2003 کی ہے، جب ملائم سنگھ کی پہلی بیوی اور اکھلیش یادو کی والدہ مالتی دیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔ مالتی دیوی کی موت کے کچھ دن بعد ایس پی بانی نے دوسری شادی کر لی۔ ملائم سنگھ یادو نے سادھنا گپتا کو اپنی دوسری بیوی کا درجہ دیا۔ واضح رہے سادھنا ملائم سنگھ یادو سے 20 سال چھوٹی تھیں۔سادھنا گپتا اٹاوہ کی تحصیل بیدھونا کی رہنے والی تھیں۔ خاص بات یہ ہے کہ نہ صرف ملائم سنگھ یادو نے دوسری شادی کی بلکہ سادھنا گپتا کی بھی یہ دوسریی شادی تھی۔

4 جولائی 1986 کو سادھنا گپتا نے فرخ آباد کے چندر پرکاش گپتا سے شادی کی تھی۔ یہ جوڑا والدین بنا اور انہوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ بیٹے کا نام پرتیک رکھا گیا۔ تاہم، سادھنا اور چندر پرکاش دو سال کے بعد الگ ہو گئے اور اس کے بعد ہی سادھنا نیتا جی کے رابطے میں آئیں۔کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کی والدہ مورتی دیوی کافی بیمار رہتی تھیں۔ اس دوران سادھنا لکھنؤ کے ایک نرسنگ ہوم میں تربیت لے رہی تھیں، انہون نے سیفئی میڈیکل کالج میں مورتی دیوی کا بہت خیال رکھا۔ اس دوران ملائم سنگھ یادو سادھنا گپتا سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ سال 2003 میں ملائم کی پہلی بیوی مالتی دیوی کا انتقال ہوگیا اور اسی سال 23 مئی کو نیتا جی نے سادھنا کو دوسری بیوی کا دے درجہ دیا۔

ایس پی پارٹی کا قیام  1992 میں ہوا۔

55 سال سے زیادہ سیاست میں سرگرم رہنے والے ملائم سنگھ یادو 22 نومبر 1939 کو اٹاوہ ضلع کے سیفئی میں پیدا ہوئے۔ ملائم پانچ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ ملائم سنگھ نے اپنے کیریئر کا آغاز ریسلنگ سے کیا تھا۔ وہ پیشے کے اعتبار سے استاد تھے۔ کچھ عرصہ انٹر کالج میں پڑھایا۔ والد انھیں پہلوان بنانا چاہتے تھے۔ ملائم 1982-1985 تک قانون ساز کونسل کے رکن رہے۔لوہیا تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ملائم سنگھ یادو نے 4 اکتوبر 1992 کو سماج وادی پارٹی کی بنیاد رکھی۔

ملائم سنگھ یادو کو سیاسی میدان کا پہلوان کہا جاتا تھا۔ وہ حریفوں کو چت کرنے میں ماہر تھا۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی سیاست میں انہوں نے وہ بلندی حاصل کی جو کسی بھی لیڈر کے لیے خواب ہوتا ہے۔ اس نے تین بار ریاست کی کمان سنبھالی۔ وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن گئے۔وہ آٹھ بار ایم ایل اے منتخب ہوئے تو وہیں سات بار لوک سبھا ممبر بنے۔

ملائم سنگھ یادو کے سیاسی کیریئر پر ایک نظر

1967 میں ملائم سنگھ پہلی بار ایم ایل اے بنے تھے۔ اس کے بعد 5 دسمبر 1989 کو وہ پہلی بار ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے۔ ملائم نے جسونت نگر اسمبلی سیٹ سے اپنی سیاسی مہم کا آغاز کیا۔ وہ سوشلسٹ پارٹی، پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ آگے بڑھے۔ وہ 1967، 1974، 1977، 1985، 1989 میں قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔ ملائم سنگھ 1989، 1993 اور 2003 میں یوپی کے وزیر اعلیٰ رہے۔ وہ لوک سبھا کے رکن بھی رہے۔

وہ 1996 کے الیکشن جیت کر پہلی بار پارلیمنٹ پہنچے۔ اس کے بعد وہ 1998 میں جیت گئے۔ 1999 کے انتخابات میں بھی ان کی جیت کا سلسلہ جاری تھا۔ 2004 میں انہوں نے مین پوری سے لوک سبھا الیکشن جیتا تھا۔ 2014 میں، انہوں نے اعظم گڑھ پارلیمانی سیٹ اور مین پوری سے الیکشن لڑا اور دونوں سیٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ایس پی کے اس تجربہ کار لیڈر کی جیت کا سلسلہ 2019 کے انتخابات میں بھی جاری رہا اور مین پوری سے جیت کر ایک بار پھر پارلیمنٹ میں پہنچے۔

یوپی میں چھ ماہ کے اندر دوبارہ ہوں گے لوک سبھا ضمنی انتخابات

یوپی کے سابق وزیر اعلی اور سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو کی موت کے بعد یوپی میں اگلے چھ ماہ کے اندر ضمنی انتخابات کے راستے دوبارہ کھل گئے ہیں۔دراصل ملائم یادو اس وقت سماج وادی پارٹی کے ایم پی تھے۔ انہوں نے گزشتہ لوک سبھا الیکشن مین پوری سے لڑا تھا، جو ایس پی خاندان کی روایتی سیٹ ہے۔ تب بی جے پی نے پریم سنگھ شاکیہ کو ان کیخلاف اپنا امیدوار بنایا تھا۔ تاہم ملائم سنگھ یادو نے اپنی روایتی سیٹ پر مودی لہر میں بی جے پی امیدوار کو آسانی سے شکست دی۔ اس کے بعد ملائم سنگھ یادو کو 5.24 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے۔ انہیں تقریباً 53.75 فیصد ووٹ ملے۔ وہیں بی جے پی امیدوار کو ان کے خلاف 4.30 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے، یعنی تقریباً 44.09 فیصد ووٹ۔ لیکن اب یہ سیٹ سماج وادی پارٹی کے سرپرست کی موت کی وجہ سے خالی ہو گئی ہے۔

اب اگر الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق دیکھا جائے تو کوئی بھی لوک سبھا سیٹ چھ ماہ سے زیادہ خالی نہیں رہ سکتی۔ اس کی وجہ سے ملائم سنگھ یادو کی موت کے بعد خالی ہونے والی سیٹ پر اگلے چھ ماہ کے اندر لوک سبھا ضمنی انتخاب ہوں گے ۔ تاہم اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل یا تیاری شروع نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ اس نشست پر ضمنی انتخاب کب ہوگا

ملائم کی نعش، ان کے آبائی وطن سیفئی پہنچی

سماجوادی پارٹی کے بانی اور سابق وزیر دفاع ملائم سنگھ کی میت آبائی گاؤں سیفئی پہنچ گئی ہے۔اس دوران یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے سیفئی پہنچ کر ملائم سنگھ یادو کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سی ایم یوگی کے ساتھ ان کے کئی ساتھی وزیر بھی سفئی پہنچے اور ملائم سنگھ یادو کی آخری جھلک دیکھی۔اس دوران سی ایم یوگی کچھ دیر اکھلیش یادو کے پاس کھڑے رہے اور ملائم سنگھ یادو کی نعش کو دیکھتے رہے۔ ساتھ ہی، سی ایم یوگی، سواتنتر دیو سنگھ کے علاوہ، بی جے پی کے یوپی کے ریاستی صدر بھوپیندر چودھری نے بھی ایس پی سرپرست کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بتا دیں کہ ان کے چچا شیو پال یادو کو بھی اکھلیش یادو کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا تھا۔بتا دیں کہ ملائم سنگھ یادو کی نعش کو ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر واقع گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ اس دوران جمع لوگوں نے نیتا جی امر رہے کے نعرے لگائے۔

ان کے آخری درشن کے لیے کئی ایم ایل اے اور ایم پی موجود ہیں۔ لالو پرساد یادو نے آر جے ڈی کی ایگزیکٹو میٹنگ میں ملائم سنگھ یادو کے لیے نعرے لگوائے۔ انہوں نے نیتا جی امر رہے، ملائم سنگھ یادو امرے رہے، سماج واد امر رہے کے نعرے لگائے۔ بتا دیں کہ ملائم سنگھ یادو طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے اور انہیں علاج کے لیے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے انتقال پر سیاسی دنیا کی کئی بڑی شخصیات نے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ جہاں پی ایم نریندر مودی نے تین ٹویٹ کرکے تعزیت کا اظہار کیا،وہیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ گروگرام کے میدانتا اسپتال گئے اور ملائم سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ملائم سنگھ یادو کے انتقال پر تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔

صدر مرمو، مودی اور اوم برلا نے ملائم سنگھ کے انتقال پر کیا تعزیت کا اظہار

صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پیر کو سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ٹوئٹر پر اپنے تعزیتی پیغام میں، صدر مرمو نے لکھا کہ ملائم سنگھ یادو کا انتقال ملک کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ عام ماحول سے آنے والے ملائم سنگھ یادو جی کے کارنامے غیر معمولی تھے۔ ’دھرتی پتر‘ ملائم جی زمین سے وابستہ ایک قدآور رہنما تھے۔ تمام جماعتوں کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ ان کے خاندان اور حامیوں کے تئیں میری گہری تعزیت پیش ہے۔پی ایم مودی نے ملائم سنگھ یادو کی موت کو ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو جی ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔

انہیں ایک شائستہ اور زمینی رہنما کے طور پر بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔ وہ عوام کے مسائل کے تئیں حساس تھے۔ انہوں نے پوری تندہی سے لوگوں کی خدمت کی اور لوک نائک جے پی اور ڈاکٹر لوہیا کے نظریات کو مقبول بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ایک اور ٹوئٹ میں، انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو جی نے اتر پردیش (یو پی) اور قومی سیاست میں اپنی الگ شناخت بنائی۔ وہ ایمرجنسی کے دوران جمہوریت کے لیے ایک ممتاز سپاہی تھے۔ وزیر دفاع کی حیثیت سے انہوں نے ایک مضبوط ہندوستان کے لیے کام کیا۔ ان کی پارلیمانی مداخلت عملی تھی اور قومی مفاد کو آگے بڑھانے پر زور دیتے تھے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی اپنی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے طور پر کام کیا، تب ملائم سنگھ یادو جی کے ساتھ میری بہت سی بات چیت ہوئی۔

قربت جاری رہی اور میں ہمیشہ ان کے خیالات سننے کا منتظر رہا۔ میں ان کی موت سے دکھی ہوں۔ ان کے خاندان اور لاکھوں حامیوں سے میری تعزیت۔ اوم شانتی۔اوم برلا نے لکھا کہ ملائم سنگھ سوشلزم کی آواز تھے، وہ ہمیشہ محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہے۔ بڑھتی عمراور بیماری کے باوجود ملائم جی لوک سبھا میں سرگرم تھے، انہوں نے جے پی اور لوہیا کی روایت کو آگے بڑھایا، ملک کے وزیر دفاع اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

ملائم کا انتقال انتہائی تکلیف دہ، یوپی میں تین دن کا سرکاری سوگ: یوگی

یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اہم اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے بانی ملائم سنگھ یادو کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ یوگی نے ملائم یادو کے انتقال پر ریاست میں تین دن کے سرکاری سوگ اور ان کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کییجانے کا اعلان کیا ہے۔پیر کو وزیر اعلیٰ کی طرف سے جاری ایک تعزیتی پیغام میں یوگی نے ملائم یادو کے بیٹے اکھلیش یادو اور ان کے بھائی رام گوپال یادو سے فون پر بات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔

یوگی نے کہاکہ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو جی کا انتقال انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان کی موت سے سوشلزم کا بنیادی ستون اور جدوجہد کا دور ختم ہوا ہے۔یوگی نے کہاکہ بھگوان سے پرارتھنا ہے کہ آنجہانی کی روح کو سکون عطا کرے، سوگوار خاندان و حامیوں کے تئیں میری تعزیت۔ ملائم سنگھ یادو جی کے انتقال پر اتر پردیش حکومت تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کرتی ہے۔ ان کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ غورطلب ہے کہ ملائم یادو کا آج صبح گروگرام کے میدانتا اسپتال میں انتقال ہوگیا، وہ کچھ وقت سے علیل تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button