نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ویسے تو محبت کی کہانیاں ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہیں۔ لیکن زندگی کے مرحلے پر کب کسی سے محبت ہو جاتی ہے،کسی کو نہیں پتا۔ ایسا ہی کچھ 50 سالہ شازیہ کے ساتھ ہوا جب اسے اپنے 20 سالہ لڑکے فاروق سے محبت ہو گئی۔ دراصل یہ معاملہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع سرگودھا شہر کا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہاں کے ایک یوٹیوبر عبدالباسط نے ان دونوں کی محبت کی کہانی شئیر کی ہے۔
پاکستان کے شہر سرگودھا میں رہنے والی شازیہ کئی دنوں سے اکیلی رہ رہی تھی۔ وہ گھریلو کاموں میں مدد کے لیے فاروق نامی نوجوان کو بطور نوکر رکھا تھا۔ فاروق یتیم ہونے کی وجہ سے محنت مزدوری کیا کرتا تھا۔ گھر کے کاموں کے علاوہ وہ باہر سے گھر کی ضروریات کا سامان اور پکوان کے کام کرتا تھا۔دونوں کے درمیان محبت کب پروان چڑھی پتہ ہی نہیں چلا،۔شازیہ اور فاروق دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ اور وہ شادی کرکے ایک دوسرے کے لیے جینا چاہتے تھے۔
دراصل فاروق شازیہ کے گھر میں نوکر تھا۔ ان کی شادی کی کہانی یوٹیوب پر کافی وائرل ہو رہی ہے۔
محبت کی کہانی
شازیہ نے بتایا کہ وہ اکیلی رہتی تھی۔ اس لیے اس نے فاروق کو گھر میں نوکر بنا کر رکھا تھا۔ اس نے بتایا کہ فاروق بہت اچھا کام کرتے تھے، کھانا بہت اچھا بناتے تھے اور میرا خیال رکھتے تھے۔ شازیہ نے مزید بتایا کہ وہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی تھی اور فاروق کا بھی اپنا کوئی نہیں تھا۔ اس طرح دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ فاروق نے بھی شازیہ کی تعریف کی۔ اس نے بتایا کہ شازیہ نے ان کے ساتھ نوکر نہیں بلکہ گھر کے فرد جیسا سلوک کیا۔
شادی کے فیصلے پر اہل خانہ حیران،
شازیہ نے بتایا کہ جب اس نے رشتہ داروں کو شادی کے فیصلے کے بارے میں بتایا تو وہ حیران رہ گئے۔ خاص کر رشتہ داروں نے عمر کے فرق پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ تب شازیہ نے کہا کہ جب وہ اکیلی تھی تو پھر کسی نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ جس کی وجہ سے اسے رشتہ داروں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
فاروق نے کہا کہ محبت میں عمر نہیں دیکھی جاتی صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ سامنے والا آپ کا کتنا خیال رکھتا ہے۔ فاروق نے ویڈیو میں کہا کہ وہ شازیہ کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں، جان بھی دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی شازیہ نے کہا کہ جب وہ اپنی جان دے سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں… میں ان کے لیے اپنی جان بھی دے سکتی ہوں۔فاروق نے بتایا کہ شازیہ نے انہیں یہ شعر پڑھ کر پرپوز کیا تھا۔
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اس قدر ٹوٹ کے چاہو مجھے پاگل کر دو
انٹرویو میں جب پوچھا گیا کے اب پکوان کون کرتے ہیں۔شازیہ نے مسکرا کر بتایا کہ کھانا ہمیشہ فاروق ہی تیار کرتے ہیں۔ اسی دوران جب سید باسط علی نے ان دونوں سے پوچھا کہ کیا آپ کی لڑائی ہوتی ہے؟ اس پر دونوں ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے دیکھتے ہیں اور ایک ساتھ – ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔



