سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مسنون و مرغوب غذا سید الاطعام: بکرے کا گوشت ✍️پیش کش: شاہی فاروق بنگلور

آپ ﷺ اگرچہ کل کائنات کے وجود میں آنے کی وجہ ہیں اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ آپ صلی الله علیه وسلم مفلسی کی زندگی گزارتے مگر آپ ﷺ نے اپنی امت کے بیچ میں رہتے ہوئے، اپنے لئے ممکن ہوتے ہوئے بھی عشرت کی زندگی کی خواہش نہ رکھی۔ اور عام رعایا کی طرح رہن سہن اپنا رکھا اگر آپ صلی الله علیه وسلم خواہش فرماتے تو دنیا جہاں کے خزانے آپ ﷺ کے قدموں ڈھیر کر دئے جاتے۔مگر آپ ﷺ نے ایک مثالی زندگی کا عملی نمونہ پیش فرمانا تھا۔جب اْمت محمدی کے خوشحالی کے دن آئے توآپ ﷺ کے حالات بھی اسی مناسبت سے بہتر ہوئی۔

خوشحالی کے دنوں میں ہی آپ ﷺ کو صحابہ کی طرف سے تحائف ملا کرتے جن میں مختلف اشیا ء کے ساتھ ساتھ گوشت کی صورت میں بھی تحائف آتے۔صحابہؓ جانتے تھے کہ آپ ﷺ دنبے کی دستی کا گوشت پسند فرماتے ہیں لہٰذا اسی مناسبت سے آپ ﷺ کو دنبے کی دستی کا گوشت بھی تحفہ کیا کرتے تھے۔ حدیث میں آپ ﷺ کے اس طرح گوشت کھانے کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ: آپ ﷺ کے پا س گوشت لایا گیا اور آپ ﷺ کو دستی کا گوشت دیا گیا کیونکہ آپ ﷺ اسے پسند فرماتے تھے۔آپ ﷺ نے اس سے ایک تکڑا نوش فرمایا۔ (راوی احمد،صحیح بخاری اور مسلم)

اس حدیث سے آپ ﷺ کی دنبے کے گوشت کیلئے پسندیدگی ثابت ہوتی ہے اگرچہ آپ ﷺ کی ازدواج کے مطابق آپ ﷺ کسی مخصوص حصے کو اہمیت نہیں دیتے تھے۔ اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ گوشت (goat meat) کو مستقل غذا کے طور پر نہیں لیتے تھے۔

ترمذی شریف کے مطابق آپ ﷺ گوشت کا یہ حصہ اسلئے پسند فرماتے تھے کیونکہ اسے پکانا آسان اور کم وقت میں ممکن ہوتا ہے۔اور آپ ﷺ کی خواہش ہوتی تھی کہ جو بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہے وہ یہ کھا سکے اس لئے آپ ﷺ اس حصے کو پسند فرماتے کیونکہ یہ جلدی گل جاتا ہے۔ آپ ﷺ زیادہ سے زیادہ ساتھیوں کو اسمیں سے حصہ دینا پسند فرماتے۔اسکے علاوہ ایک اور حدیث سے بھی اسکی واضح نشانی ملتی ہے جہاں ایک یہودی عورت نے آپ ﷺ کو زہر دینے کی کوشش کی تو وہاں اسنے زیادہ تر زہر دنبے کے کندھے میں ڈالا۔ (ابو داؤد اور الترمذی)

بہر حال ان تمام حوالوں سے یہ سامنے آتا ہے کہ مٹن صرف ایک صحت مند مرغوب غذا ہی نہیں بلکہ چونکہ یہ آپ e کو پسند تھا اس لئے یقینا بہت سے فوائد بھی رکھتا ہوگا۔ دنیا میں کھایا جانے والا سب سے زیادہ گوشت مٹن ہی ہے۔ خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ مٹن کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ مٹن میں غیر حل شدہ چربی کی مقدار حل شدہ صحت مند چربی سے بہت کم ہوتی ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ سوزش کو کم کر کے یہ دل کی دھڑکن کو مناسب رکھتا ہے۔اور صلابتِ شریان سے بچاتا ہے۔چونکہ بکریاں اور دنبے جگالی کرنے والے جاندار ہیں اسلئے انکے گوشت میں کاجوگیٹڈ لینولک ایسڈ پایا جاتا ہے جو سوزش اور کینسر کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس میں وٹامن بی بھی ہوتا ہے جو چربی کو گھلنے مین مدد دیتا ہے۔ مزید یہ کہ مٹن میں پروٹین کی مقدار ہوتی ہے وزن کم کرنے اور موٹاپے سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں سیلینیم اور کولائن بھی پائے جاتے ہیں۔ جو کینسر سے بچاتے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ مٹن حاملہ خواتین کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے یہ ہیموگلوبن کی مقدار بڑھا کر دورانِ خون تیز کرتا ہے اور بچے کو آئرن بھی پہنچاتا ہے۔

پیدائشی خرابیوں اور اسقاطِ حمل سے بچانے میں مٹن بہت مددگار ثابت ہو تا ہے۔ اس میں وٹامن بی 12 اور فیٹی ایسڈز اوٹزم کے علاج اور جلد کی خوبصورتی کا باعث بنتے ہیں۔ پوٹاشیم اور سوڈیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتے ہیں اسکے علاوہ کیلشیم بڑھاپے کے عمل کو روکتی اور تھائیرائیڈ کے افعال کو درست کرتی ہے۔ غرض یہ کہ اسکی افادیت اتنی زیادہ ہے کہ اسے سید الاطعام یعنی بہترین کھانے کا لقب دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button