سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

نفسیاتی امراض میں اضافہ،رات کی شفٹ میں کام کرنے کے خوفناک نقصانات

ایک تحقیق کے مطابق اس سے اووری کے کینسر اور دوسرا چھاتی کے کینسر کے خطرہ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس سے نظامِ انہضام کے امراض جیسے پیپٹیک السر اور مستقل بدہضمی رہنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔رات کی شفٹ میں کام سے موجودہ لاحق بیماریوں مثلاً ذیابیطس اور نفسیاتی بیماریوں میں شدت آنے کو خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے کنبہ میں افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کمانے کے ذمہ دار افراد کو کمانے کے لئے زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کا نتیجہ بعض اوقات دو دو شفٹوں میں کام کرنے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں رات کی شفٹ میں کام کرنے کا رواج ابھی اتنا زیادہ نہیں ہوا، لیکن بڑے شہروں میں یہ معمول کی بات ہے۔ایک تازہ تحقیق کے مطابق رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کے نیند کے اوقات میں بیقاعدگی کی وجہ سے ان میں ذیابیطس اور موٹاپے کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق جب نیند کے عام اوقات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم کو شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اس تحقیق میں شامل کئی لوگوں میں تو کچھ ہفتوں کے اندر ہی ذیابیطس کی علامات نظر آنے لگیں۔

رات کی شفٹ میں کام کرنا صحت سے متعلق دیگر مسائل کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں موٹاپے، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس دوران چینی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ان ملازمت پیشہ خواتین میں کینسر ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، جو طویل وقت تک رات کی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر سب سے زیادہ خطرہ نرسز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ہوتا ہے، جو کئی کئی ماہ تک مسلسل رات کے اوقات میں ڈیوٹی کے فرائض نبھاتی ہیں۔نائٹ شفٹ میں نوکری کرنے والی خواتین میں مجموعی طور پر دن کے وقت میں ڈیوٹی کرنے والی خواتین کے مقابلے 19 فیصد کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے جسم میں قدرتی طور پر ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہتی ہے لیکن اس کی مرمت کا قدرتی نظام بھی موجود رہتا ہے اور جیسے ہی ڈی این اے کی مرمت ہوتی ہے تو پیشاب میں 8-OH-dG کی زائد مقدار خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی کم مقدار کا خارج ہونا ظاہر کرتا ہے کہ شاید ڈی این اے کی درستگی مناسب نہیں ہو رہی۔

اگر مسلسل یہی عمل جاری رہے تو اس سے موٹاپے، ذیابیطس اور امراضِ قلب کے علاوہ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جو لوگ مختلف اوقات خصوصاً رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں ان میں ڈی این اے مرمت کرنے والا یہ قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے جو آگے چل کر اوپر بتائے گئے کئی امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ڈی این اے متاثر ہونے سے کئی امراض لاحق ہو سکتے ہیں جن میں کینسر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے سے ایک جسمانی ہارمون میلاٹونن بھی کم ہوجاتا ہے، جو جسم کی اندرونی گھڑی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جب ملازمین رات کی نیند لینے لگیں تو ان میں 8-OH-dG کی شرح واپس بحال ہو جاتی ہے۔ رات کی شفٹ میں کام بعض مخصوص قسم کے کینسر کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق اس سے اووری کے کینسر اور دوسرا چھاتی کے کینسر کے خطرہ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس سے نظامِ انہضام کے امراض جیسے پیپٹیک السر اور مستقل بدہضمی رہنے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔رات کی شفٹ میں کام سے موجودہ لاحق بیماریوں مثلاً ذیابیطس اور نفسیاتی بیماریوں میں شدت آنے کو خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button