سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

غیر متوازن غذا کیٹو ڈائٹ کی حقیقت

کیٹو ڈائیٹ کیا ہے؟

کیٹو ڈائٹ کو کیٹوجینک ڈائٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ زیادہ چکنائی والی غذا ہے۔ اس غذا میں جسم توانائی کے لئے چربی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس غذا میں کاربو ہائیڈریٹ بہت کم ہوتا ہے اور پروٹین بہت معتدل یا کنٹرولڈ مقدار میں دی جاتی ہے۔غذائیت کی ماہر ڈاکٹر شیکھا شرما نے بی بی سی ہندی کی سوشیلا سنگھ کو بتایا: جب جسم کیٹونز کو توانائی کے ذرائع کے طور پر استعمال کرتا ہے تو اسے مختصر طور پر کیٹو ڈائٹ کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت آپ کاربو ہائیڈریٹ نہیں کھاتے ہیں جبکہ چربی زیادہ مقدار میں لیتے ہیں۔ اس غذا میں کیٹو شیکس، پنیر، کچھ منتخب قسم کی سبزیاں کھاتے ہیں جبکہ پھل نہیں کھاتے ہیں۔ پروٹین کے لئے آپ چکن، مٹن، مچھلی، ناریل کے تیل میں میتھی کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں لوگ اس ڈائٹ کے تحت بہت زیادہ پنیر کھاتے ہیں۔ ایک اور ماہر غذائیت ڈاکٹر مہرین نے کہا کہ یہ فیٹ ڈائٹ کہلاتی ہے۔

کس طرح وزن کم ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق کیٹو ڈائٹ کا اثر کم سے کم ایک ہفتے میں آپ کے جسم پر ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر شکھا شرما نے بتایا: جب آپ اس طرح کی غذاء لے رہے ہوتے ہیں تو آپ کا جسم اس طرح کے کھانے کو ہضم نہیں کررہا ہوتا ہے اور ہر چیز آنتوں میں جا رہی ہوتی ہے۔ اور جو کھانا ہضم ہورہا ہوتا ہے وہ آپ کے جگر اور گال بلاڈر (یعنی صفرہ کی تھیلی) میں بھرتا رہتا ہے۔جسم سروائول یعنی بقا کے موڈ میں چلا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جسم کیٹون سے اپنی توانائی حاصل کرتا ہے۔ لیکن اس کے ضمنی اثرات جسم پر نظر آنے لگتے ہیں۔ آپ کے جسم پر کیٹو ڈائیٹ کا اثر دو یا تین دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو پہلے سے ہی اپنے جگر یا صفرا کی تھیلی میں پریشانی ہے تو دو یا تین دنوں میں اس غذا کے اثرات ابھرنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کے ان اعضاء میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو اس کے خراب اثرات کے ظاہر ہونے میں تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ کے وزن میں اضافے کی بنیادی وجہ سادہ کاربس (کاربوہائیڈریٹس) ہیں، جس میں شکر، آٹا، سوجی اور کارن فلور سے بننے والی چیزیں شامل ہیں۔

اگرچہ ان چیزوں کو یکسر ترک کرنا مشکل نظر آتا ہے لیکن جب وزن کم کرنا ہوتا ہے تو لوگ متبادل تلاش کرنے لگتے ہیں اور فوری طور پر وزن کم کرنے کا ایک متبادل کیٹو ڈائٹ کی شکل میں نظر آتا ہے۔ڈاکٹر شکھا شرما نے کہا: میرے علم میں کوئی ایسا ڈائیٹشین نہیں ہے جو کیٹو ڈائٹ کا مشورہ دے۔ بہت سے لوگ گھریلو علاج کے طور پر ایسی غذا کو اپنا لیتے ہیں لیکن کسی بھی ڈائٹ پلان سے قبل ماہرین سے پوچھنا ضروری ہے اور اس پر عمل در آمد انھی کی نگرانی میں ہونی چاہئے کیونکہ اس قسم کی ڈائٹس کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔

جسم پر کیٹو ڈائیٹ کے اثرات

ڈاکٹر شکھا شرما نے اس بابت بتایا: عام طور پر ایک دن میں جسم کو 20 گرام چربی، جسم کے وزن کے مطابق ایک گرام فی کلو کے حساب سے پروٹین لینا چاہئے۔ یعنی اگر آپ کا وزن 55 سے 60 کلوگرام ہے تو 60 گرام پروٹین لیں۔ اس کے ساتھ 50 سے 60 فیصد کاربوہائیڈریٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ آپ کے جسم، کام اور سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ مثلا اگر آپ سپورٹس پرسن ہیں تو آپ کو اس کی زیادہ ضرورت ہوسکتی ہے۔ لیکن جب آپ کے جسم کو صرف 20 گرام چربی کی ضرورت ہے اور آپ اسے 60۔80 گرام تک بڑھا دیں گے یہ آپ کے جگر اور گال بلاڈر کو متاثر کرے گا۔اس ڈائٹ میں تونائی کا ذریعہ کاربوہائیڈریٹس کے بجائے چربی یعنی فیٹس ہیں۔

آپ یہ محسوس کریں گے کہ آپ اپنا کا وزن کم ہو رہا ہے لیکن چربی کو ہضم کرنا آپ کے جگر اور صفرا کی تھیلی کے لئے مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ آپ کا جسم روزانہ 20 گرام چربی ہی ہضم کررہا ہوتا ہے اور کیٹو ڈائٹ پر جانے کے بعد اسے ایک دن میں 100 گرام چربی کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ڈاکٹر نوشین عباس کے مطابق عام پر جو سیزیئر کے مریض ہو تے ہیں ان کو ڈاکٹر صرف ایک ہفتے کے لئے کیٹو ڈائیٹ کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ان میں ایسے فیٹس تیار ہو سکیں لیکن آپ کیٹو ڈائٹ کے ذرریعے اپنے جسم کو اوورلوڈ نہیں کرسکتے اور کیٹو ڈائیٹ کے بہت سارے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق الیکٹرو فائب کا عدم توازن بھی کیٹو ڈائٹ سے پیدا ہوتا ہے جس میں غشی کے دورے یابے ہوش ہونے جیسی علامات بھی شامل ہوتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ کیٹو ڈائٹ کے استعمال کا بالکل بھی مشورہ نہیں دیتیں۔

ڈاکٹر شکھا شرما کہتی ہیں کہ ایسی صورتحال میں آپ کے ان دونوں اعضاء کو چربی کو ہضم کرنے کے لئے زیادہ محنت کرنی ہوتی ہے اور اس سے آپ کا جگر کمزور ہو جاتا ہے اور ان کے ناکام ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی غذاؤں کا خواتین پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ کوئی اگر عورت 40 سال کی عمر میں ہے جس کا وزن زیادہ ہے یا وہ فرٹیلیٹی کے ایام مدت میں ہے تو گال بلاڈر میں پتھری بھی بن سکتی ہے کیونکہ ایسی حالت میں آپ کے صفرا کی تھیلی زیادہ تیزابیت والے ماحول میں کام کر رہا ہوتا ہے اور جسم میں سوجن بھی بڑھ سکتی ہے۔اس قسم کی غذا پر جانے سے آپ کے ہارمون کا چکر خراب ہوسکتا ہے۔

کیٹو ڈائٹ سے آپ کے بلڈ پریشر اور شوگر کی سطح بھی گڑبڑ ہوسکتی ہے۔ جو شخص ایسی غذا پر ہے وہ کمزوری محسوس کرے گا، آپ کو متلی محسوس ہوگی، عمل انہضام میں خلل پڑجائے گا اور آپ کو گیس اور ایسیڈیٹی کی شکایت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر شکھا شرما کہتی ہیں: کوئی بھی ڈاکٹر کسی بھی عام حالت میں کیٹو ڈائٹ کی سفارش نہیں کرتا ہے۔ کیٹو ڈائٹ کی سفارش صرف اسی صورت میں کی جاتی ہے جب آپ کو کسی خاص طبی حالت سے گزر رہے ہوں۔ جیسے کسی شخص کو دورے آ رہے ہوں، مرگی کی شکایت ہو، مریض کاربوہائیڈریٹ ہضم کرنے سے قاصر ہو یا ان کے جسم میں انزائم نہ ہوں۔

اس غذا سے اگر چہ وزن بھی کم ہو جاتا ہے لیکن یہ غذا کبھی بھی وزن کم کرنے والی غذا نہیں رہی ہے۔ یہ فوری طور پر وزن کم کرنے کے لئے مقبول ہوگئی ہے اور یہ افسوسناک ہے کہ لوگ اسے اپنا رہے ہیں۔ انھیں ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے نقصانات دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ درست اور معتدل کھانا بھی دوا کے طور پر کام کر سکتا ہے لیکن اگر آپ اسے زہر بنا کر کھائیں گے تو وہ آپ کے جسم کے لئے زہریلا بھی ہوسکتا ہے۔

مکھن اور ناریل

کیٹو ڈائیٹ کے حوالے سے ماہر غذائیت ڈاکٹر مہرین بلال کا یہ کہنا ہے کہ اس پر عمل نہیں کرنا چاہئے، ان کے مطابق ہماری عوام میں آگاہی نہیں ہے اور وہ جادوئی نتائج کے منتظر رہتے ہیں وہ بہت جلد اپنے آپ کو سمارٹ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ بطور ماہر غذا یہی مشورہ دیتی ہیں کہ آپ اپنی غذا کو متوازن رکھیں پانی پئیں کھانا کھائیں چاول کھائیں روٹی کھائیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسی چیز کی جب آپ اپنے آپ پر پابندی لگا لیتے ہیں جس طرح کیٹو ڈائیٹ میں آپ کو کہا جاتا ہے کہ آپ فروٹ نہ کھائیں تو اس سے آپ وٹامین اور منرلز سے محروم ہو جاتے ہیں۔

جب آپ کیٹو ڈائٹ کرتے ہیں تو اس طرح جو چیزیں آپ کو کھانے کو ملتی ہیں اس سے آپ کا پیٹ تو بھرا بھرا محسوس ہوتا ہے اور آپ کا وزن بھی کم ہو رہا ہوتا ہے مگر اس کے سائڈ افیکٹس گردوں، دل اور دوسرے اعضا پر پڑتے ہیں۔جو غذا میں عدم توازن ہے وہ آپ کی صحت کے لئے بالکل بھی اچھی بات نہیں۔

ڈاکٹر مہرین کے مطابق کیٹو ڈائیٹ کرنے والوں میں عام طور پر جو سائڈ افیکٹس دیکھنے میں آتے ہیں وہ ان کے بالوں کا گرنا، نظر کا کمزور ہونا اور منہ پر جھریاں پڑ جانا شامل ہے۔ان کے مطابق ان کے پاس ایسے کئی مریض آتے ہیں جو یہی شکایت کرتے ہیں، کئی دلہنیں آتی ہیں ان کا وزن تو کم ہوا لیکن اب وہ اپنی عمر سے بڑی نظر آتی ہیں تو ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ کیٹو ڈائٹ متوازن غذا نہیں ہے اور اس سے کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button