لکھا،میں نے کسی مذہبی شخصیت کی توہین نہیں کی!
حیدرآباد ، 12اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بی جے پی کے معطل شدہ رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے کہاکہ وہ پارٹی کے نظریات اور اصول کے پابند ہیں اورہمیشہ پارٹی کے اصولوں پرقائم رہیں گے۔ آج راجہ سنگھ نے پارٹی کی جانب سے 23اگست کو جاری کی گئی وجہ بتاؤنوٹس کا جواب دیتے ہوئے تحریر کیا کہ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے مسلسل دومیعادوں کے لئے منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔انہیں موقع فراہم کرنے کے لئے وہ پارٹی کے شکرگزارہیں۔ راجہ سنگھ کو23 اگست کوپارٹی سے اُس وقت معطل کردیا گیا تھا جب انہوں نے پیغمبراسلام حضوراکرم کی شان میں گستاخی کی تھی۔
ان کی اس مذموم حرکت پر حیدرآباد اور ریاست تلنگانہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی اور مسلمانوں نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیاتھا۔ راجہ سنگھ نے پارٹی کی ڈسیلینری کمیٹی کے نام تحریر کردہ مکتوب میں کہاکہ بطوررکن اسمبلی گزشتہ8سالوں کے دوران انہوں نے کبھی بھی پارٹی کے نظریات اوراصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔پارٹی کے ہر پروگرام میں شرکت کی۔ صرف ناگزیرصورتحال میں ہی پارٹی سرگرمیوں سے دوررہے۔اپنے کردارسے کبھی پارٹی کے لئے پشیمانی کا سبب نہیں بنے۔راجہ سنگھ نے تحریر کیا کہ حلقہ اسمبلی گوشہ محل حیدرآباد پارلیمنٹ حلقہ کے تحت آتاہے جہاں سے گزشتہ 30سالوں سے صدرمجلس اتحاد المسلمین اسدالدین کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔
ان کی مسلسل کامیابی فرقہ وارانہ جذبات کی وجہ سے ہورہی ہے۔ملک کے ہر شہری کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ فرقہ وارانہ جذبات بھڑکاکرکامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس بات سے بھی سب اچھی طرح واقف ہے کہ 2014 سے حکمراں ٹی آرایس اورایم آئی ایم ساتھ ساتھ کام کررہے ہیں۔ راجہ سنگھ نے مزید تحریر کیا کہ اگرچہ کہ ملک میں ہندوں کی اکثریت ہے مگر حلقہ پارلیمنٹ حیدرآبادمیں ہندواقلیت میں ہے۔2014سے پہلے کانگریس کے ساتھ اور بعدمیں ٹی آرایس کے ساتھ ملکر مجلس ہندوں کوتکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔اس حلقہ میں ہرکام ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی خاطر کیا جاتا ہے۔
میری جانب سے ہرطبقہ کے ساتھ انصاف کرنے کے مطالبہ پر میرے خلاف جھوٹے مقدمہ درج کئے گئے جبکہ میں ٹی آرایس مجلس کے خلاف جہدمسلسل جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میرے خلاف 100سے زائد مقدمات درج کئے گئے تاکہ میری آوازکودبایا جاسکے۔ میرے ہرکام میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہے میں جب بھی ایم آئی ایم پر تنقید کرتا ہوں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ میں نے مسلمانوں کے خلاف بیان دیاہے میں نے کبھی بھی مسلمانوں پر تنقید نہیں کی میں نے کبھی کسی پر بھی شخصی الزام عائد نہیں کیا۔



