ساس اور بہو کے تعلقات: اسلامی تعلیمات اور خاندانی زندگی
سعدیہ سلیم شمسی آگرہ رسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد
ماں: خدا کے بعد سب سے بڑی ہمدرد اور خیر خواہ
ماں کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ خدا نے ماں کی محبت کو اتنا خالص اور اٹوٹ بنایا ہے کہ اس کا ذکر بھی قرآن و حدیث میں نمایاں ملتا ہے۔ ایک ماں اپنی اولاد کے لیے وہ سب کچھ کرتی ہے جو کوئی دوسرا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ نو ماہ تک اپنے بچے کو کوکھ میں رکھتی ہے اور پھر انتہائی تکلیف برداشت کر کے اسے جنم دیتی ہے۔ اس کے بعد اس کی پرورش کے لیے بے شمار قربانیاں دیتی ہے۔
ماں کی محبت کی لازوال قربانیاں
ماں کی محبت دنیا کی سب سے بے لوث محبت ہے۔ وہ اپنے بچے کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی، چاہے خود بھوکی رہ جائے۔ وہ خود گیلی جگہ پر سوتی ہے مگر اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلاتی ہے۔ جب اولاد جوان ہوتی ہے تو ماں کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے کو ایک نیک اور خوب سیرت بیوی ملے اور بیٹی کو ایک اچھا گھرانہ نصیب ہو۔
ساس اور بہو کا رشتہ: غلط فہمیاں اور توقعات
جب ایک ماں اپنی بہو کو گھر میں لاتی ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس کی بیٹی بن کر رہے۔ بہو سے عزت، محبت اور احترام کی توقع رکھتی ہے، مگر بدقسمتی سے اکثر اوقات بہو ساس کو ساس ہی سمجھتی ہے، ماں نہیں۔ وہ وہی نصیحتیں جو اس کی اپنی ماں کرتی تھی، ان کو خلوص کے بجائے رقابت سمجھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے خاندان میں تنازعات جنم لیتے ہیں، اور آئے دن کی کل کل پورے گھر کو متاثر کرتی ہے۔
بیٹے کی آزمائش: ماں اور بیوی کے درمیان توازن
بیٹے کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ ماں اور بیوی کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھے۔ کچھ ناخلف بیٹے ماں کو ہی نظرانداز کر دیتے ہیں، جو سراسر ظلم ہے۔ ماں کی خدمت اور عزت اسلام کا لازمی حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ سب سے زیادہ خدمت ماں کی کرنی چاہیے، اور ماں کے حقوق باپ سے بھی تین گنا زیادہ ہیں۔
اسلام کی روشنی میں بیوی کے حقوق
اسلام میں جہاں ماں کے حقوق کا ذکر ہے وہیں بیوی کے حقوق کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ ایک سمجھدار بہو وہی ہوتی ہے جو ساس کی سختیوں کو برداشت کرے اور انہیں اپنی ماں کی نصیحتوں کی طرح سمجھے۔ اگر وہ ساس کو ماں مان لے اور صبر و تحمل سے کام لے تو وقت کے ساتھ وہ ساس کے دل میں جگہ بنا سکتی ہے۔
ساس کو بھی بہو کو بیٹی سمجھنا ہوگا
اسی طرح ایک اچھی ساس وہ ہے جو بہو کو اپنی بیٹی سمجھے، اسے عزت اور محبت دے، اور اس پر غیر ضروری پابندیاں نہ لگائے۔ اگر ساس بہو کے جذبات کو سمجھے اور بہو ساس کے مقام کو تسلیم کرے تو یہ رشتہ خوشگوار ہو سکتا ہے۔
مکافات عمل: جیسے کرو گے ویسا بھرو گے
زندگی کا اصول ہے کہ جو سلوک آپ دوسروں سے کریں گے، وہی آپ کے ساتھ بھی ہوگا۔ جس بہو نے اپنی ساس کی عزت کی، اس کی اپنی بہو بھی عزت کرے گی، اور جس نے اپنی ساس کو بے توقیر کیا، اسے بڑھاپے میں یہی سلوک دیکھنے کو ملے گا۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ساس اور بہو کے حقوق
ساس اور بہو کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کو سمجھنا ضروری ہے۔ بہو اگر ساس کو ماں سمجھے اور ساس بہو کو بیٹی کا درجہ دے، تو گھروں میں سکون اور برکت آ سکتی ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ساس سسر کی عزت کریں تاکہ کل ہمارے بڑھاپے میں ہماری عزت کی جا سکے۔



