قومی خبریں

ملکا ارجن کانگریس کے صدر منتخب,24سال بعد گاندھی خاندان سے با ہر کا فرد کانگریس پارٹی کا بنا صدر

نئی دہلی، 19اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملکارجن کھڑگے نے کانگریس صدر کے عہدے کے لیے 7897 ووٹوں کے فرق سے انتخاب جیت لیا۔ انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی بدھ (19 اکتوبر 2022) کو ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی 24 سال بعد گاندھی خاندان سے باہر کے لیڈر کو پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ ووٹوں کی گنتی بدھ کی صبح 10 بجے دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں شروع ہوئی تھی۔کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے بتایا کہ کھڑگے کو 7 ہزار 897 ووٹ ملے۔ اس کے ساتھ ہی ششی تھرور کو صرف ایک ہزار 72 ووٹ مل سکے۔

416 ووٹ مسترد ہوئے۔ حالانکہ ووٹوں کی گنتی کے درمیان راہل گاندھی نے بتا دیا تھا کہ پارٹی کا نیا صدر کون ہوگا۔ کھڑگے 8 گنا زیادہ ووٹوں سے جیت گئے صدر کے عہدے کے لیے پارٹی کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے اور ششی تھرور کے درمیان مقابلہ تھا۔ کانگریس کے قومی صدر کے انتخاب کے لیے پیر (17 اکتوبر) کو ووٹنگ ہوئی تھی۔صدر کے انتخاب میں کانگریس صدر سونیا گاندھی، سابق صدر راہل گاندھی اور کئی سینئر لیڈروں سمیت تقریباً 9500 مندوبین نے ووٹ دالے تھے۔

پیر کو تقریباً 96 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔کانگریس پارٹی کی تاریخ میں چھٹی بار صدر کے عہدے کے لیے انتخابات ہوئے ہیں۔ صدر کے عہدے کے لیے اب تک 1939، 1950، 1977، 1997 اور 2000 میں انتخابات ہو چکے ہیں۔ اس بار 22 سال بعد صدر کے عہدے کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔یاد رہے کہ 24 سال بعد گاندھی خاندان سے باہر کے لیڈر کو کانگریس پارٹی کا صدر منتخب کیا جائے گا۔ اس سے پہلے سیتارام کیسری غیر گاندھی صدر رہ چکے ہیں۔

کانگریس کے صدارتی امیدوار ملکارجن کھڑگے نے اتوار کو کہا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو پارٹی کے معاملات میں گاندھی خاندان کے مشورے اور تعاون لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے ،کیونکہ اس خاندان نے بہت جدوجہد کی ہے اور ملک کی ترقی میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔کانگریس صدر کے انتخاب کے نتائج سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا کہ جو بھی کانگریس کا صدر بنے گا، لیکن اسے گاندھی خاندان کی بات ماننی ہوگی۔راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے نتیجہ سے قبل میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ تجربے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

ملکارجن کھڑگے کا طویل تجربہ ہے۔ ششی تھرور کے پاس بین الاقوامی تجربہ ہے، جو بھی جیتے گا، کانگریس جیتے گی۔ملکارجن کھڑگے اور تھرور دونوں نے اس بات پر زور دیا تھا ہے کہ پارٹی میں گاندھی خاندان کا ایک خاص مقام ہے۔ تھرور نے کہا کہ کوئی بھی کانگریس صدر گاندھی خاندان سے دوری رکھ کر کام نہیں کر سکتا کیونکہ ان کا ڈی این اے پارٹی کے خون میں چلتا ہے۔گاندھی خاندان کی قربت اور کئی سینئر لیڈروں کی حمایت کی وجہ سے ملکارجن کھڑگے کا دعویٰ مضبوط مانا جا رہا ہے لیکن ششی تھرور کی وجہ سے مقابلہ سخت مانا جا رہا ہے۔

ہندوستان جوڑو یاترا پر گئے راہل نے بدھ کو آندھرا میں پریس کانفرنس کی۔ اس دوران جب میڈیا نے کانگریس میں ان کے مستقبل کے کردار پر سوال کیا تو راہل نے جواب دیا ۔ کھڑگے جی سے پوچھیں، وہ میرے رول کا فیصلہ کریں گے۔ تاہم اس بیان کے چند منٹ بعد کانگریس نے کھڑگے کو صدر بننے کا باضابطہ اعلان کیا۔ تھرور نے بھی ایک ٹویٹ میں کھڑگے کو مبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی۔

بھارت جوڑو یاترا میں آندھرا پردیش پہنچنے والے راہل گاندھی نے کہاکہ کانگریس واحد پارٹی ہے جس میں انتخابات ہوتے ہیں اور اس کا اپنا الیکشن کمیشن ہے۔ میں نے کانگریس الیکشن کمیٹی کے چیئرمین مدھوسودن مستری کے ساتھ کام کیا۔ وہ ایک بہت صاف گو مقرر ہیں۔ تمام مسائل ان کے نوٹس میں لائے گئے ہیں اور وہ کارروائی کریں گے۔ ہر کوئی کانگریس میں انتخابات کے بارے میں پوچھتا ہے۔ مجھے کانگریس پر فخر ہے، جس میں کھلے اور شفاف انتخابات ہو رہے ہیں۔

کانگریس کے نومنتخب صدر کے گھر جاکرسونیا و پرینکا نے دی مبارکباد

نئی دہلی، 19اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کانگریس کا نیا صدر منتخب ہونے کے بعد ملکارجن کھڑگے کی پہلی ملاقات سونیا گاندھی سے ہوئی ہے۔گھڑگے سے پرینکا گاندھی نے بھی ملاقات کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعدملکاارجن کھڑگے نے سونیا گاندھی سے وقت مانگا تھا کہ دس جن پتھ پر ملاقات کریں مگر سو نیا گاندھی نے وقت دینے کے بجائے خود گھڑگے کے گھر جاکر انھیں مبارکباد دی۔ کانگریس صدر منتخب ہونے کے بعد ملکارجن کھرگے نے سونیا گاندھی سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔

وہ 10 جن پتھ پر جا کر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن انہیں وقت نہیں ملا۔ تاہم سونیا گاندھی کے ذہن میں کچھ اور منصوبہ تھا۔ وہ خود کھڑگے کے گھر جانا چاہتی تھیں اور ماحول کو ایک مختلف شکل دینا چاہتی تھیں۔کھڑگے کی جیت کے بعد سونیا گاندھی اور پرینکا واڈرا ان کے گھر پہنچیں۔ دونوں نے کھڑگے جوڑے سے گرم جوشی سے ملاقات کی۔ درحقیقت کھڑگے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خود گاندھی خاندان کے پاس جانے کو تیار تھے لیکن سونیا گاندھی نے کچھ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اس کے بعد پوری توجہ 10 جن پتھ کے بجائے کھڑگے کے گھر 10 راجا جی مارگ پر مرکوز رہی۔

پرینکا سونیا کے ساتھ ان کے گھر پہنچیں۔ پھولوں کے گلدستوں کا تبادلہ ہوا۔ سونیا اور پرینکا نے کھڑگے کی بیوی رادھا بائی سے بھی گرمجوشی سے ملاقات کی۔خیال رہے کہ گاندھی خاندان نے اس روایت کو صرف ایک بار توڑا جب سونیا گاندھی خود منموہن سنگھ کے گھر پہنچی تھیں۔ اس دوران سابق وزیراعظم کو کوئلہ اسکینڈل میں طلب کیا گیا تھا۔ سونیا نے پارٹی دفتر سے منموہن کے گھر تک مارچ نکالا۔ یہ تقریب کانگریس کی طاقت اور یکجہتی کا ثبوت دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button